|
www.chitraltimes.com
کردار کا غازی
الیکشن کی بازگزشت سنائی دے رہی ھے۔سیاست دان اپنے آرام دہ دفتروں سے نکل کر ایک
دفعہ پھر گلی کوچوں میں گھومنے لگے ہیں۔رسم قل میں حصہ لینے لگے ہیں۔برے وقت کے
دوستون کو یاد کرنے لگے ہیں۔غریب رشتہ دار پھر یاد انے لگے ہیں۔لواری ٹاپ کا مسئلہ
ختم ہوچکا ہے۔صدر مشرف نے لواری ٹاپ کا کریڈٹ کسی کو دینے سے انکار کردیا ہے۔ حقوق
نسواں بل کی طرح اس کوبھی اپنے نام کرلی ہے۔
اپ
گیند سیاست دانوں کے کورٹ سے نکل کر عوام کے کورٹ میں داخل ہوگیا ہے۔اپ گیند عوام
کے کورٹ میں ہے۔سیاست دانوں نے اپنی باری کھیل لی ہے۔ اب عوام کی باری ہے۔اب عوام
کواپنی باری کھیلناہے۔ لیکن یہ وقت ہیں عوام کو خوب سوچنے کا، غور کرنے کا، ترقی
کی راہ کے تعین کا، مستقبل کی فکر کا، اپنے اچھے مستقبل کا، بچوں کی بہتر تعلیم
کا،اچھے ہسپتال کا، معیاری سکول و کالج کا، کیونکہ ہمیں جو فیصلہ اج کرنا ہے ان
کا تقلق ان چیزوں سے ہیں اگر ہمیں زندگی کی ان سہولیات کو حاصل کرنا ہیں۔تو ہمیں
اپنی چھوٹی ذاتی مفادات کی قربانی دینی ہوگی۔برادری عزم کو چھوڑنا ہوگا۔پارٹی
اوصولون کی خلاف ورزی کرنی ہوگی۔ جذبات ، جوش کو چھوڑنا ہوگا،صرف ہوش سے کام لینا
ہوگا۔کھچھہ پانے کیلئے کھچہ کھونا پڑے گا۔صرف متفقہ طور پر ایک فیصلہ کرنا
ہوگالیکن یہ گھاٹے کا سودا نہی ہوگا۔
اب
کی بار عوامی تاج کو حاصل کرنے کیلئے ریٹائرڈ افیسرز بھی دنگل میں کود پڑیں
گے۔چھینی ہوئی پروٹوکول حاصل کرنی کی کوشش کریں گے۔سابقہ اور موجودہ ہر طرف ہلہ
گلہ کریں گے۔ دوست دشمن بنین گے اور دشمنون کو منایا جائے گا۔نئے نئے جواری میدان
میں ہونگے۔مختلف داو ازمائین گے۔
لیکن اس بار عوام کو سیاست کرنا
ہیں
گفتار کے غازیوں کی سیاستت بہت ہوچکی۔دعوے بہت ہوچکے۔اغلانات بہت سن چکے۔ان گفتار
کے غازیون نے چترال جنت نظیر کو اس حال تک پہنچا دیا۔
اپ
ہماری سوچ صرف چترال کیلئیے ہونی چاہیے کیونکہ ہمیں چترال میں رہنا ہیں۔اپ ہم سپ
کو مل کر کردار کے غازی کا چناو کرنا چاہیے۔کردار کے غازی کے چناو کے بعد پھر
محرومیوں کا رونا نہ پڑجائے۔
خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہی بدلی نہ ہوں جنکی خیال اپنے حالت بدلنے کی
فرید احمد رضا ایڈوکیٹ پشاور
faridahmadraza@yahoo.com
|