Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ‘‘ ….. تحریر : میر سیما آمان چترال ’’

August 13, 2017 at 2:31 pm

پاکستان کو بنے 70سال بیت گئے، ملک کے تمام سرکاری و نیم سرکای اداروں میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر لگی ہوئی ہے ۔ مگر اس تصویر کے نیچے بیٹھنے والے کتنے ایسے آفیسرز ہیں جنکو اس تصویر کو آفس میں لگانے کا مقصد بھی سمجھ آتا ہو؟ اور اگر سمجھ آتا بھی ہو تو کتنے سرکاری ملازم ایسے ہیں جو اس مقصد کومقصد حیات بھی بنا لیتے ہیں۔ اگر آٹے میں نمک کے برابر بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ کم و بیش ہر ذی ہوش نے اپنی زندگی میں کوئی ایسا آفیسر نہیں دیکھا نہ سنا ۔

اکتوبر 2015ء میں چترال میں تعینات ہونے والا ڈپٹی کمشنر اُسامہ احمد وڑائچ چترال کی تاریخ میں واحد ایسا آفیسر تھا۔ جسکو نہ صرف اپنے آفس میں لگی قائداعظم کی تصویر کا مقصد پتہ تھا بلکہ اس پیغام کو انھوں نے اپنا مقصد حیات بھی بنا لیا تھا۔ اگر ’’کام ، کام اور کام’’کی عملی تصویر کوئی دیکھنا چاہتا تو اُسامہ احمد وڑائچ کی مختصر زندگی اسی پیغام کی عملی تصویر تھی۔ اگر محنت ، سچائی اور دیانتداری کا کوئی دوسرا نام رکھا جائے تو’’اُسامہ احمد وڑائچ ’’ ہی ہوتا۔ وہ ایک سچا محب وطن ، مخلص ، ایماندار اور نہایت پُرعزم نوجوان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوران ملازمت جہاں بھی گئے اپنی انہی خوبیوں کی وجہ سے شہر ت اور عزت پائی ۔ ورنہ ہمارے چترال میں ہی سالانہ کتنے ایسے آفیسرز آتے جاتے رہتے ہیں ۔اُن کا نام تک پتہ نہیں چلتا۔ خود ہمارے علاقے کے نوجوان سالانہ PCS, PMS, CSSکے امتحانات پاس کرکے آتے ہیں۔ لیکن محض نتائج کے اعلان کے بعد ان کا آتہ پتہ نہیں چلتا ۔ توایسے معاشرے میں اُسامہ شہید جیسے کردار تو معجزہ لگتے ہیں۔

اُسامہ شہید کی تعریف کیلئے تو یہی بات بھی کافی ہے کہ وہ محض 24سال کی عمر میں CSSپاس کرتا ہے ۔ لیکن کامیابی کے نشے میں مخمور نہیں ہوتا۔ 24سال کا نوجوان کامیابی کا پروانہ لیکر دنیا کی رنگینی کے پیچھے نہیں بھاگا۔ رشوت خوری اور بے ایمانی کے دلدل میں نہیں پھنستا ۔ یہی وجہ ہے کہ محض 7سال کی ملازمت سے اللہ تعالیٰ نے اُسے وہ عزت اور مقام بخشا جسکا تصور کوئی بے ایمان یا بے ضمیر افیسر کرہی نہیں سکتا۔

اُسامہ شہید کی فیملی ، اُس کے دوست ، اُسکے جاننے والے اور اُس کے ساتھ کام کرنے والے ہر شخص کی زبان میں اُسکے کیلئے سب سے پہلا کلمہ یہی آتا ہے ۔ کہ وہ ایک ایمان دار نوجوان تھا۔ ایک سابق چیف سیکریٹری کہتے ہیں۔ کہ پبلک سروس کے تقاضوں کے بارے میں جوبات سینکڑوں کتابوں اور لیکچرز سے نہیں سمجھائی جاسکتی وہ اُسامہ نے چترال میں 14مہینوں کی سروس میں سمجھا دیا تھا۔

یہ بات خود چترالی عوام کیلئے بھی ایک بہت بڑا سبق ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جب تک سول سروس رہیگی اُسامہ کا نام زندہ رہیگا۔ پبلک سروس کیلئے کئے گئے اسکے اقدامات اسکے اس نام کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ مختلف اداروں اور تربیت گاہوں میں اُسامہ اور اسکے کاموں کا نہ صرف ذکر ہوگا بلکہ اسے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا رہیگا۔

اُسامہ شہید اپنے جاننے والوں کو بتاتے تھے کہ ان کا نام ’’اُسامہ بن ذیدؓ ‘‘ کے نام سے لیاگیا ہے جو ایک جلیل القدر صحابی اور سب سے کم عمر سپہ سلار تھے۔ یقیناًاُسامہ کی مختصر با ضمیر اور پُر عظم زندگی بھی بن زیدؓ کی زندگی سے مختلف نہیں رہی ہوگی۔ صحابہ کرامؓ کے کرداروں کو پڑھاجائے تو ہم جیسے عام لوگ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کہ یہ دور اور یہ لوگ گزر چکے ہیں۔ مگر اُسامہ شہید نے یہ بات بھی ثابت کر دیکھایا کہ آج کے دور میں بھی اچھے لوگوں کی کمی نہیں۔

اسامہ بطور ڈپٹی کمشنر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کے ساتھ چترال کے لوگوں کیلئے بہت سے اہم کام بھی سرانجام دئیے۔جن میں چترال کے ہونہار اسٹوڈنٹس کیلئے’’ اسامہ کیرئیر اکیڈیمی ’’اور ڈی سی پارک قابل ذکر ہیں۔ بلاشبہ قوم ایک مخلص اور باضمیرایماندار آفیسر سے محروم ہوگئی ہے ۔ مگر اس کی مختصر زندگی قوم کو کیا سبق دیتی ہے یہ بات قابل غور ہے۔
یہ تو تھے ’’اسامہ احمد وڑائچ شہید‘‘ جنکے کردار کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ وہ نوجوان کردار ہیں جو ہمارے اردگرد ماتھوں پر آفیسرز کا ٹیک لگائے پھر رہے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اُسامہ شہید اُن نوجوانوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہیں جو کمیشن کا امتحان پاس کرکے آتے ہیں تو فخر سے اُن کی گردنیں تن جاتی ہیں۔ پھر سرکاری کرسی اور سرکاری گاڑیوں میں بیٹھ کر پھوں پھاں تو ایسے کرتے ہیں کہ بس دیواروں پر سر ہی مار سکتے ہیں۔ عہدہ سنبھالتے ہی بجائے ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھانے کے ان کا مشن محض دولت اکھٹا کرنا ہوتا ہے ۔ انکا بس نہیں چلتا کہ راتوں رات قومی خزانے کو خالی کردیں بالکل کسی کرپٹ سیاستدان کیطرح ۔

لفظ Officerکو یہ لوگ محض اپنی ظاہری شان وشوکت کا لقب سمجھتے ہیں۔ اسی لئے عہدہ سنبھالتے ہی ان کی ساری توجہ صرف اپنی ظاہر کو چمکانے پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سروس میں ساری عمر بِتانے کے بعد بھی ان کے ہاتھ زیادہ سے زیادہ رشوت خوری میں بدنامی یا پھر اخلاقی طور پر پستیوں میں گرنے کے علاوہ اور کوئی ایوارڈ یا Pride of performanceانکے ہاتھ نہیں آتا۔ یہ ایک المیہ ہے کہ پورا ملک ایسے ہی راجہ گدھ نماآفیسروں ، سیاستدانوں سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین سے بھرا ہوا ہے۔
ان تمام لوگوں کیلئے اسامہ کی شخصیت ایک تلخ آئینہ ہے ۔ میں اپنے انتہائی تعلیم یافتہ اور باشغور عوام سے گزارش کرتی ہوں کہ اپنے بچوں کو سوش میڈیا کا کارٹون اور الیکٹرانک میڈیا کا بیمار بنانے کے بجائے اُسامہ شہید جیسے زندہ اور حقیقی کرداروں کو پرستار بنائیں ۔ اور حکومتی ذمہ داروں سے میرا سوال ہے کہ کیا چترال کی تاریخ کے اتنے بڑے سانحے کو بھی محض مردہ فائلوں کی زینت بنادی گئی ہے؟؟؟

Translate »
error: Content is protected !!