Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آزادی رحمت ہے۔….جستجوئے خیال….. از شفیق آحمد شفیق

August 13, 2017 at 2:20 pm

انسان فطرتا آزاد طلب واقع ہوا ہے۔ بلکہ آزادی سے ہی حقیقی خوشی پھوٹتی ہے۔ بچہ کو جب اکثر گود میں بیٹھا کہ پیار بھی دیا جاتا ہے، چاکلیٹ کی رشوت بھی دی جاتی ہے۔ مگر پھر بھی موقع پاتے ہی بچہ ہوا ہو جاتاہے۔ ظاہر سی بات ہے، کہ وہ ازادی چاہتا ہے، وہ ٢٤ گھنٹہ ایک جگہ نہیں بیٹھتا یا ایک کام نہیں کرتا، جو من میں آئےکرتا رہتا ہے، اس لئے بڑے عمر کے لوگ بچپن کے زمانے کو یاد کرکے حسرتوں میں کھو جاتے ہے۔ کہ کیا زمانہ تھا، کہ ہم آزاد تھےان بچوں کی طرح۔ جو جی میں آیاکرتا پھرتے۔ حتی کہ محلے کے شیشے ، بزرگوں کا سکون، ہمارے کرامات سے غارت تھا۔ اب زمہ داریاں اور معاشرتی حدود اور پھر ریاستی اقدامات ہر طرف سے خود کو جکڑے ہوئے محسوس کرتے ہے۔ اور ہم بڑے ہونےکے ساتھ ساتھ اتنے محدودہوتے جاتے ہیں کہ ہماری حیثت اس بچہ کی سی ہوتی ہے، جو گود میں ہو تا ہے، اور کہیں اس کو چلنے پھرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ وہی اس کی دنیا بن جاتی ہے اور اس کی آزادی کی حد بھی وہی تعیں کرتا ہے۔
ہرفرد اپنی Context کے لحاظ سے آزادی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اور اختیاری یا غیر اختیاری اس کا مختلیف انداز سے تجربہ بھی کرتا ہے۔ایک فقیر کیلئے اس کی آزادی کی حدسوکھی روٹی اور دس روپے کی بھیگ ہوتی ہے، ایک موچی کیلئے جوتوں کا کوہ انبار ، ایک چرواہا کیلئے بھیڑ، بکریوں کا ہجوم، ایک کسان کیلئے اچھی فصل، ایک بیوہ کیلئے کوئی سہارہ، ایک بچے کیلئے ماں باپ کا سایہ، ایک بوڑھے کیلئے بے بسی میں ساتھ دینے والا ساتھی، ایک بیمار کیلئے کوئی مسیحا، ایک عالم کیلئے کوئی کتاب، ایک جاہل کیلئے اس کی دہشت، ایک سیاح کیلئے اس کی سیاحت، ایک فنکار کئلیے اس کا فن، سیاست داں کیلئے اس کی جھوٹ ، ایک فلسفی کیلئے اس کی فکر، ایک شاعر کیلئے اس کا خواب، ایک عاشق کیلئے اس کی محبوبہ، ایک بادشاہ کیلئے اس کی رعایا، ایک غریب کیلئے دو وقت کی روٹی۔ ایک استاد کیلئے اس کا درس، ایک مردے کیلئے اس کی قبر، ایک طالب علم کیلے جستجو اور سیکھنے کا عمل۔
آزادی اس عمل کا نام ہے، جس میں ہم بااختیار ہوتے ہے، ہمیں کسی طاقت و جبر کا خوف نہیں ہوتا، بہ الفاظ دیگر سوچنے میں، عمل کرنے میں، اور سب سے بڑھ کر خواب دیکھنے میں آزاد ہونے کا نام آزادی ہے۔ اس تعارف سے آزادی کے دو مفہوم ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ ایک اختیاری اور دوسرا غیر اختیاری
مثلا بچپن کی آزادی غیر اختیاری ہو تی ہے، اس میں قانون کی پاسداری نہیں ہوتی، اور خوف کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن ایک اختیاری آزادی ہوتی ہے، جس میں آپ شعور رکھتے ہیں، اور ایک باشعور کیلئے قانون کی پاسداری لازمی امر ہے۔ اور ایک باشعور کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کے فائدہ یا نقصان کا سوچتا ہے۔ جس سے خوف کا اندشہ واضح ہوتا ہے۔
لیکن یہ خوف کوئی منفی معنی نہیں رکھتا بلکہ اس سوال کا جواب کہ کہیں میری آزادی دوسرے فرد کی آزادی کو تلف نہ کردیں۔کہا جاتا ہے کہ امریکہ جب یورپ کے سیاسی قبضے سے آزاد ہوا، اس وقت ایک امریکی شہری گھر سے نکلا، وہ اپنی آزادی کا جشن منانا چاہتا تھا، وہ ایک سڑک پر دونوں ہاتھ ملاتا ہوا بے فکری کے ساتھ چل رہا تھا،
اسی اثنا میں ان کا ہاتھ دوسرے مسافر کی ناک سے ٹکرا گیا، مسافر کو غصہ آگیا، اس نے کہا کہ یہ کیا بے ہودگی ہے، تم نے کیوں اپنی ہاتھ سے میری ناک پر مارا۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ آج امریکہ آزاد ہے، اب میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں ، مسافر بے کہا کہ ارے بھائی تمہارا آزادی وہاں ختم ہوجاتا ہے، جہاں سے میری ناک شروغ ہو جاتی ہے۔
Dear brother , your freedom ends where my nose begins
آج قوم مملکت پاکستان کا ٧٠ واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا یہاں آزادی رحمت ہے؟ کیا ریاستی اور باشرف طبقےنے ایسی نظام تشکیل دی ہے جس سے ایک مثبت پیغام موصول ہو۔ اور جو قوم کیلئے باعث خیر ہو۔ ایسی آزادی جو قوم کیلئے رحمت ہو۔

Translate »
error: Content is protected !!