Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ……. جی ٹی روڈ کے مسافر ……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

August 12, 2017 at 8:08 pm

یہ 15اگست 2014کا اخبار ہے 3سال پہلے اس تاریخ کو مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قومی تاریخ کے اہم فیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں اگر پارلیمنٹ میں جانے کے بجائے سڑکوں پر فیصلے کرنے کی روایت ڈالی گئی تو یہ ملک کے لئے اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہو گی اس روز تحریک انصاف کا دھرنا مارچ لاہور سے اسلام آباد کی طرف آرہا تھا 126دن کا تاریخی دھرنا ہوا مطالبہ یہ تھا کہ وزیراعظم کا استعفٰی لیکر جاناہے 10اگست 2017کو مسلم لیگ (ن) کی ریلی جی ٹی روڈ کی طرف بڑھنے لگی تو عمران خان نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ ریلی کو روکا جائے سابق وزیراعظم معزول ہو چکے ہیں ان کو جی ٹی روڈ سے لاہور جانے نہ دیا جائے اگر یہ روایت قائم ہوئی تو ملک کے لئے اور جمہوریت کے لئے خطرناک ہو گی اس پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی رائے لی گئی تو انہوں نے نہایت معصومیت سے کہا مجھے گھر بھیجا گیا ہے اس لئے گھر جا رہا ہوں جی ٹی روڈ میرے گھر کا مشہور راستہ ہے یہ راستہ مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نواز شریف معزول ہونے کے بعد زیادہ مقبول ہو گئے ہیں اگر نیب کے ذریعے اُن کو گرفتار کروایا گیا تو اُن کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا اسلام آباد اورپشاور میں جن حلقوں کے اندر ن لیگ کو ناپسند کیا جاتا تھا ان حلقوں میں ن لیگ کی مقبولیت کا گراف اونچا ہو گیا ہے ایک سنیئر سیاستدان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قانونی ٹیم نے اچھی کار کردگی نہیں دکھائی نوازشریف کی چار سالہ حکومت میں ایک روپے کی بد دیا نتی کا کوئی معاملہ عدالت میں پیش کرنے کے بجائے اقامہ کا ایسا ایشو عدالت میں پیش کیا جو کوئی ایشو ہی نہیں تھا اگر عمران خان کے قانونی مشیر اس کیس کو سنجیدگی سے لیئے تو فیصلہ آنے کے بعد نوازشریف کو ’’ہائی مو رل گراونڈ‘‘نہ ملتا بعض سیاستدانوں اور تجزیہ نگاروں نے جی ٹی روڈ پر نواز شریف کے قافلے کی ریلی کو عدلیہ اور پاک فوج کے خلاف محاذ ارائی کی کوشش قرار دیا ہے ملک کی دوسری بڑی جماعت اورمستقبل میں مسلم لیگ (ن)کی جگہ لینے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارلیمنٹ کے اندر یہ مسئلہ اُٹھایا ہے کہ احتساب کے نئے قانون میں سرکاری عہدوں یا پبلک آفسز کی نئی تعریف ڈال دی جائے اس میں منتخب نمائندوں ،گورنروں اور، سول بیوروکر یسی کے بڑے عہدوں پر فائز ہونے والوں کے ساتھ ساتھ ججوں اورجرنیلوں کو بھی شامل کر کے آئین کے ارٹیکل 62اور63کو ان پر لگا دیا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے مگرا س معمولی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئین کے اندر 62,63کے دفعات شامل کرتے وقت جنرل ضیاء الحق اورشریف الدین پیززادہ نے کس طرح چالاکی اور عیاری دکھائی انہوں نے ججوں اور جرنیلوں کو سرکاری عہدہ رکھنے والوں کی صف سے نکال دیا نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اب بانسری بج رہی ہے اور بانسری اُس وقت تک بجے گی جب تک جج اور جرنیل کو سرکاری عہدہ قرار نہ دیا جائے بیر سٹر اعتزاز احسن اور فرحت اللہ بابر نے ایوان بالا میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ احتساب جب تک سب کا نہ ہو اس وقت تک اس کو احتساب تصور نہیں کیا جائے گا نواز شریف کے دور میں احتساب کا مقصد محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمہ بنا نا تھا جنرل مشرف کے دور میں احتساب کا مقصد یہ ہوا کہ نوازشریف کے خلاف مقدمات بنائے جائیں اور سیاستدانوں کو احتساب کے ذریعے ڈرا دھمکا کر قاف لیگ میں شامل کیا جائے ایک ایک سیاستدان کے خلاف 2ارب اور 4ارب روپے غبن کرنے کے کیس بنائے گئے سیاستدان کو بلا کر کیس اُن کے سامنے رکھا گیا اورکہا گیا کہ یہ کیس ہے اگلے2 دنوں میں تمہیں گرفتار کر کے 90دنوں کے لئے نیب کے حوالے کیا جائے گا اگر اپنی جائداد ،عزت اور سیاست بچانی ہے تو قاف لیگ میں آجاو 183اہم سیاستدانوں کو احتساب کے اس قانوں کے تحت قاف لیگ میں شامل کیا گیا اور یہ تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا پھر این آر او کا قانون آیا جس میں 8000لوگوں کو معافی دیدی گئی مک مکا ہوا آٹھہ ہزار کی تعدا د معمولی تعداد نہیں اگریہ لوگ کرپٹ تھے توا ن کو معافی کیوں ملی ؟اگرکرپٹ نہیں تھے تو ان کے خلاف کیس کیوں بنائے گئے تھے؟جی ٹی روڈ کی ریلی ایک طرف نواز شریف کی مقبولیت کو دکھانے کا شو تھا تو دوسری طرف اس ریلی سے پارلیمنٹ کے اندربیر سٹر اعتزاز احسن اورسنیٹر فرحت اللہ بابر کے موقف کو تقو بت ملی ہے کہ احتسا ب کرنا ہے تو ’’مقدس گائے‘‘کا تصور ختم ہو نا چاہیے قانون میں ’’نو گوایریاز ‘‘کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے جی ٹی روڈ کے مسافر وں نے پارلیمنٹ کے ساتھ یک جہتی دکھائی ہے ۔ اور یہ قدم پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنا ئے گی۔

Translate »
error: Content is protected !!