Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میرا سچ……. عوامی لیڈر کا عوامی رابطہ مہم……. تحریر: ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

August 10, 2017 at 8:51 pm

اسٹیج سج گیا تھا جیالوں کی تھاپ عروج پر تھی ہر طرف جیئے بھٹو کی صدائیں گونج رہی تھی یہ پانچ اگست کا دن تھا پولو گراؤنڈ چترال میں تقریبا چترال کے ہر کونہ ہر رنگ ہر نسل ،ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے ھر دل عزیز لیڈر کو خوش امدید کہنے اور ان کو سننے کے لیے موجود تھے ،چئیر من پاکستان پیپلز پارٹی جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور علاقے سے اپنے بڑوں کی وابستگی اور یہاں کے عوام کی بھٹوز سے والہانہ محبت کو مظبوط رشتہ قرار دیا ور چترال کو اپنا دو سرا گھر قرار دیا، یہی وجہ ھے کہ انہوں نے اپنا عوامی رابطہ مہم کا اغاز چترال سے کر رہے ہیں ِ یہاں کے عوام کی بھٹوز سے تعلق ۱۹۷۰ سے شروع ہوا ۱۹۷۰ سے پہلے کے چترال اور اس کے بعد کے چترال کے بارے میں جو لوگ جانتے ہیں ان کو اس تعلق کا بھی ضرور پتہ ہو گا اگر بھٹو شہید کو صرف اقتدار چاہیے ہوتی تو وہ اپنا مطلوبہ ٹارگٹ بڑے شہروں سے ہی حاصل کر سکتے تھے لیکن وہ پورے پاکستان کو حوشحال دیکھنا چاہتے تھے اس لیے پسماندہ علاقوں کو بھی شنا خت دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں ایندہ کے لا ٗحہ عمل اور پارٹی منشور کا بھی زکر کیا جس میں بے نظیر انکم سپورٹ کو زیادہ فعال بنابا اور وسعت دینا اور نوجوان کے لیے بھی اسی طرح کے اسکیم بنانا شامل ہیںِ یہ ایسا منشور ہو گا جو کہ مکمل عوامی مسئلو ں کے حل کی ترجمانی کرے گا،

ِٰبھٹو ز کی سیاست ہمیشہ عوام کے اندر رہی ہے یہ اپنے کارکنوں کو سیاست کرنے کا طریقہ، سلیقہ اور قرینہ سکھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی پراسائش زندگی کو سائیڈ پہ کر کے عوام کے اندر گھل مل جاتے ہیں سیکیورٹی خدشات بھی ان کو عوام سے دور نہیں کر سکتے ، ان کی خوشی اور غم عوام کے ساتھ ھوتی ھے یہ اس پارٹی کا فلسفہ ہے اس پارٹی کے سینٹرز ، وزراء پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ مل کر نغرہ لگاتے ہیں ،یہ پارٹی نہ کسی اسٹبلشمنٹ کی پیداوار ہے اور نہ ہی کسی ایمپائر کے انگلی کی منتظر رہتی ہے اس پارٹی کی ایک بہت بڑی ہسٹری ہے جس میں لیڈز سے لیکر کارکنوں کی قربانیاں شامل ہے اج ان کے مخالفیں بھی اگر ان کے طرز سیاست کو اپنا رہے ہیں تو یہ بھٹوز کا پیغام ہے کہ اپ جسطرح سے بھی سیاست میں ائے ہو
بہرحا ل ایک نہ ایک دن اپ کو عوام کے اندر جانا پڑے گااور جمہور کی رائے کا احترام کرنا پڑے گا ،

چیئرمن بھٹو کے چترال میں قیام کے دوران ان کی مصروفیات میں میڈیا ٹاک بھی شامل تھا میں بڑے احترام کے ساتھ ان مغلومات کی درستگی کرنا چاہوں گی کہ شائد انہوں نے چترال سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا انہوں نے ایسا کوئی اعلان تو نہیں کیا بلکہ ایک میڈیا پرسن نے یہ سوال کیا کہ اپ کی نانی یہاں سے الیکشن لڑی ہیں کیا اپ بھی یہاں سے الیکشن لڑنا چاہیں گے تو چیئرمن صاحب نے کہا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا ہے لیکن یہ فیصلہ پارٹی کرے گی یہاں کے جیالوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اپ یہاں سے الیکشن لڑے ورنہ سندھ میں ان کے حلقوں میں کوئی ان کے خلاف کھڑا ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا تو ان کے لیے الیکشن میں کسی جگہ سے بھی کھڑا ہونا کوئی اتنا معنی نہیں رکھتا وہ عوام کی خواہش کا ضرور احترام کرتے ہیں ،
انہوں نے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور منافقانہ پالیسی کو مسترد کر دیا اور ڈٰیسنٹ اور میچور پالیٹکس کی ضرورت پر زور دیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چترال میں کچھ اور وقت بھی گزارنا چاہتے ہیں ،
چیئرمن بھٹو کا کامیاب دورہ چترال بڑٰی اہمیت کا حامل تھا ایک ایسے وقت میں جب سیاسی لیڈرز پر عجیب، غریب انکشافات ہو رہے ہیں جو قوم کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے ایک لیڈر اپنے کارکنوں کے لیے سرپرست کی حیثیت رکھتا ھے اور ان کی موجودگی کارکنوں کو تحفظ کا احساس دلاتی ھے،

بلاول صاحب کی تقریر امید کی کرن تھی جس کو سنجیدہ طبقہ میں سراہا گیا انہوں نے ان چیزوں کو فوکس کیا جو عوام کے اصل ایشوز ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور گالم گلوچ کی سیاست کو ملک کے لیے نا مناسب اور ناقابل برداشت قرار دیاِ ۔

اخر میں پاکستان پیپلز پارٹی چترال کی طرف سے میں اپنے بزرگوں اپنے نوجوانوں اپنے بھائیوں کا مشکو ر ہوں کہ انہوں نے بہت بڑی تعداد میٰں جلسہ میں شرکت کر کے بھٹو ازم سے اپنی عقیدت کا ثبوت دیا ، جیئے بھٹو

Translate »
error: Content is protected !!