Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تونشان عزم عالیشان ……. محمد شریف شکیب

August 10, 2017 at 10:31 pm

مولانا شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر کے حالات سے دلبرداشتہ ہوکر انگلستان چلے گئے۔ مولانا محمد علی جوہر سمیت کئی رہنماوں نے انہیں مناکر واپس لانے کی بہت کوشش کی مگر قائد نے صاف انکار کردیا۔ 1940کی ایک رات محمد علی جناح اپنے کمرے میں سوئے ہوئے تھے۔ کہ سرکار دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خواب میں آئے۔ اور انہیں حکم دیا کہ فوری طور پر ہندوستان واپس چلے جاو۔ وہاں مسلمانوں کو تمہاری ضرورت ہے۔ رات کا پچھلا پہر تھا۔محمد علی جناح نیند سے بیدار ہوئے تو سارا بدن پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ انہوں نے نوکر کو بلایا۔ اور انہیں ناشتہ تیار کرنے کے بعد ضروری سامان پیک کرنے کی ہدایت کی۔ دہلی کے لئے پہلی دستیاب فلائٹ کا ٹکٹ لیا۔ اور اچانک دہلی پہنچ گئے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا۔ چند ماہ کے اندر منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ ہوا۔ جس میں شیربنگال مولوی فضل حق نے قرارداد پیش کی۔ جس میں پہلی بار مسلمانوں کے لئے آزاد ، خود مختار اور الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ اسی جلسے سے خطاب میں محمد علی جناح نے فرمایا کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان الگ قومیت کی ہر تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ کانگریس کا یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے ہندو، مسلمان، سیکھ اور عیسائی ایک قوم ہیں۔مسلمانوں کا ہیرو ہندووں کا دشمن ہے۔ ہمار رہن سہن، روایات، تاریخ، ثقافت، تمدن ، بود وباش ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ہندو گائے کی پوجا کرتا ہے اور مسلمان اسے ذبح کرکے کھاتا ہے۔ انہیں ایک قوم قرار دینا دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ قائد کی اس مدلل، پرجوش اور ولولہ انگیز خطاب نے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی ۔اور صرف سات سال کی جدوجہد کے بعد مسلمانان ہند قائد اعظم کی مدبرانہ قیادت میں اپنے لئے آزاد وطن پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔سرکار دوعالم کے قائد اعظم کے خواب میں آنے اور انہیں مسلمانان ہند کی قیادت سنبھالنے کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اللہ تعالیٰ اور ان کے حبیب محمد مصطفیٰ کی منشا تھی ۔ یہ قیامت تک سلامت اور قائم و دائم رہے گا۔ ساری دنیابھی اس کے خلاف ہوجائے۔ پھر بھی پاکستان کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ترقی کے تمام لوازمات سے نوازا ہے۔ یہاں ایک طرف زرخیز میدانی علاقے ہیں تو دوسری جانب قدرتی حسن اور معدنی دولت سے مالامال پہاڑ ہیں۔ سمندر کی نعمت بھی ہے اوربرف سے ڈھکی فلک بوس چوٹیاں بھی ہیں۔ گھنے جنگلات، آبی ذخائر ، قیمتی اور نایاب جنگلی حیات بھی ہے اور جفاکش افرادی قوت بھی ہے۔ہم نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل کود اور دیگر کئی شعبوں میں اقوام عالم میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔جب ہم نے آزادی حاصل کی تو خزانہ خالی تھا، ایک سوئی خود نہیں بناسکتے تھے۔ آج پاکستان جوہری صلاحیت کا حامل دنیا کو ساتواں اور عالم اسلام میں پہلا ملک ہے۔ آج ہم بین البراعظمی میزائل بنانے کی صلاحیت سے بھی لیس ہیں۔ جے ایف 17تھنڈرلڑاکا بمبار طیارے، غوری، شاہین میزائل ، الخالد ٹینک، سمندر کا سینہ چیرنے والی جدید آبدوزیں ہماری صلاحیتوں کی آئینہ دار ہیں۔ ہم نے اپنی صلاحیتوں سے نوبل اور آسکر ایوارڈ بھی حاصل کئے۔ہاکی، کرکٹ، سکواش، فن پہلوانی اور دیگر میدانوں میں اپنے ناقابل تسخیر ہونے کا ثبوت دیا۔ہم نے فاطمہ جناح، رعنا لیاقت، ارفع کریم، ملالہ یوسف زئی، بے نظیر بھٹو، ثمینہ بیگ جیسی بیٹیاں پیدا کیں جو ساری دنیا میں ہماری پہچان ہیں۔ ہم نے ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر عبدالقدیرجیسے بیٹے پیدا کئے جنہوں نے پاکستان کو ایک شناخت دی۔ادب کے میدان میں ہماری صلاحیتوں کی ایک دنیا معترف ہے۔ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ مخلص اور وژن رکھنے والی قیادت کی ہے۔ جو بھی یہاں اقتدار میں آیا۔اپنے مالی مفادات کو ہی مقدم رکھا، دونوں ہاتھوں سے اس ملک کے وسائل کو لوٹا، دانستہ طور پر قوم کو تعلیم بے بہرہ رکھنے کی کوشش کی۔ طبقاتی نظام کی وجہ سے غریب روزبروز غریب تر اور امیر امیر تر بنتاگیا۔ پاکستانی قومیت کا تصور پس پشت ڈال کر سندھی، پنجابی، بلوچی اور پختون کے نام پر سیاست ہوتی رہی۔قومی وسائل کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ۔ اور آج بھی وہی کھیل جاری ہے۔ لیکن قوم اب بیدار ہونے لگی ہے۔ سول سوسائٹی فعال ہوچکی ہے۔ ذہنی غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے والی ہیں ۔ وہ دن دور نہیں۔ جب اس ملک میں حقیقی جمہوریت آئے گی۔ لوٹ مار اور موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگا۔ اور پاکستان ایک حقیقی فلاحی اسلامی ریاست بنے گا۔ جو عالم اسلام کا قلعہ ہوگا۔ جس کا خواب شاعر مشرق علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر قائد اعظم محمد جناح نے کی تھی۔

Translate »
error: Content is protected !!