Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈینگی وائرس کی صورت میں خود ہی ادویات استعمال کرنے سے پرہیز کریں ۔۔ڈاکٹر تنویر

August 8, 2017 at 9:14 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر تنویر انعام نے عام لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈینگی وائرس کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خود ہی ادویات استعمال کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے مزید کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔منگل کے روز پختونخوا ریڈیو پشاور میں ڈینگی سے متعلق ریڈیو پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر تنویر نے کہا کہ صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو ڈینگی کے علاج کیلئے پوری طرح تیار کر دیا گیا ہے اس لئے ڈینگی کے مشکوک مریض کو فوری طور پر قریبی ہسپتال پہنچا یاجائے۔انہوں نے کہاکہ جسم میں درد،تیز بخار،الٹیاں کرنا،بھوک نہ لگنا اورسرخ دانوں کی صورت میں مریضوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جانا چاہیے اور مریضوں کو پیرا سٹا مول اور پینا ڈول کے سواکوئی بھی ادویات دی جانی چاہئیں۔ڈاکٹر تنویر نے مزید کہا کہ ڈینگی کے مریضوں میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے جنہیں زیادہ سے زیادہ مائع جوس اور پانی پینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام میں ڈینگی سے متعلق آگاہی اور بیداری پیدا کرنے کیلئے بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے۔انہو ں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ گھر گھر جا کر ڈینگی سے متعلق معلومات پر مبنی پمفلٹ تقسیم کریں۔صوبائی محکمہ صحت خیبر پختونخوا،اضلاع کی انتظامیہ،متعلقہ محکموں اور اداروں ،عوامی نمائندوں اور علماء کرام سے قریبی رابطوں میں ہے تاکہ عام لوگوں کو ان کے متعلقہ علاقوں میں اس سلسلے میں آگاہی اور شعور بیدار کیا جائے۔ڈاکٹر تنویر نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو بھی کہا گیا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے اور سکول اور کالج کھلنے کے بعد طلباء کو بھی اس سلسلے میںآگاہ کریں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ عوامی آگاہی اور شعور بیدار کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے جبکہ انہوں نے ڈینگی کے حوالے سے بھی میڈیا کی جانب سے فعال کردار اداکرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر مچھر ڈینگی نہیں ہوتا بلکہ ڈینگی کے مچھر کا رنگ عموماً کالا ہوتا ہے اور اس کے جسم پر سفید نشانات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی شناخت دوسرے مچھروں سے مختلف ہوتی ہے۔ احتیاطی تدابیرکے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پانی کے تمام برتنوں کو اچھے طریقے سے ڈھانپنا چاہیے جبکہ لوگوں کو اپنے جسم کو بازؤں سے سر تک ڈھانپ کے رکھنا چاہیے اس کے علاوہ دروازوں او رکھڑکیوں کو بھی جالیوں وغیرہ سے بند کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہدف شدہ مخصوص علاقوں میں سپرے اور دھونی دینے پر پیش رفت جاری ہے اور مریضوں کو الگ وارڈز میں علاج فراہم کیاجارہا ہے اور انہیں گھروں میں استعمال کیلئے بیڈ جالی بھی مہیا کی جارہی ہے آخر میں انہوں نے کہا کہ ڈینگی سے خوفزدہ ہونے کی بجائے صحت کے مسائل سے بچنے کے لئے صحیح اور معقول احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

Translate »
error: Content is protected !!