Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں انقلابی سیاست کیوں نہیں؟ …..تحریر: عبدالواحد خان

August 8, 2017 at 6:38 pm

جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں’ چترال میں سیاسی سرگرمیاں اپنی عروج پر ہیں۔ ہر ایک پارٹی عوامی جلسوں سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہے اور جو پارٹی کسی بھی وجہ سے چترال نہیں آسکتا وہ الیکٹرونک میڈیا کے زریعے عوام سے خطاب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس پورے گہماگہمی اور ہلچل میں سب کچھ ہے مگر چترال کی اپنی سیاست دور دور تک نہیں ہے۔ یہ کئی سالوں سے چلتا آرہا ہے کہ چترالی لوگ اپنی سیاسی پارٹی پہ مذہب سے بھی بڑھ کے ایمان لے آتے ہیں اور اس پارٹی سے جو بھی حاجو ماجو انتخابات میں حصہ لیلے’ وہ لوگ بغیر سوچے سمجھے اسلئے ووٹ دیں گے کیونکہ وہ اس فلان پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری اسی کمزوری کو ملکی سطح پر ہمیشہ استعمال کیا گیا ہے اور وفاداری اور احسان مند جیسے لقب دیکر چترالی عوام کو بیوقوف بنایا گیا ہے ۔ اس سے بڑھ کر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چترال کی اپنی کوئی سیاست نہیں ہے اور نہ ہی کوئی زبردست لیڈیر’ اسی وجہ سے جب بھی کوئی سیساسی عمل کرنا ہو ہم ان پارٹیس کے سربراہوں کو شہروں سے چترال دعوت دیتے ہیں اور ان کے ہاں میں ہاں ملاتے ہیں حالانکہ ان کو چترال کا ا ب پتہ نہیں ہوتا اور وہ صرف وہی لاوری ٹنل کے احسانات ہمیں سنا کے چلے جاتے ہیں۔ چترال کی اپنی لیڈیرشب میدان میں آکے یہ کیوں نہیں کہتی کہ ہمیں پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں’ہم چترال کے لئے کام کریں گے؟ ہم نے سیاسی پارٹیس کو ہمیشہ ان کی لیڈیرشپ پر فوقیت دی ہے اور اسی وجہ سے کئی بے بنیاد لیڈیرز نے ہمارا فائدہ اٹھایا ہے۔
لیڈیرشب کی اہمیت پہ لکھنے کی جو جسارت کررہا ہوں وہ صرف میرا عقیدہ نہیں ہے بلکہ افلاطون جیسے فلسفیوں نے یہ کہا ہے کہ ایک اچھا لیڈیر ہی معاشرے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ ہم نے جو پارٹیس کو سر پہ اٹھا رکھا ہے یہ بذات خود ایک غلطی ہے اور اس سے باہر نکلنا بہت مشکل ہے۔ چترال سے کبھی کوئی سیاستدان کوئی ملکی سیساست میں کیوں نہیں گیا؟ اس کی وجہ یہ ہےکہ ہم گھر سے سیساست کو فروغ دیکر اپنے لیڈیرز کو آگے بڑھانے کے بجائے دوسرے علاقوں کے پارٹی ہیڈس کے دامن کو پکڑے ہوئے ہیں۔ اگر پشاور سے’ کراچی سے’ سرگودھا سے لیڈیرز وزارت سنبھال سکتے ہیں تو چترال کے لوگوں کیلئے یہ عہدے ناممکن کیوں ہیں؟ میرے خیال میں محظ اسی لئے کہ ہم پارٹی لیڈیرشب کی غلامی میں آمادہ ہیں۔ چترال میں الیکشن ہونے والے ہیں تو کوئی مشرف کو ‘ کوئی بٹھو کو تو کوئی عمران خان کو ووٹ مانگنے کی اہلیت کیلئے استٰعمال کررہا ہے۔ ان سب کی خدمات اپنی جگہ لیکن ین کے خدمات ہم پہ احسان نہیں بلکہ ہمارا حق ہے۔ مشرف صاحب نے لاوری ٹنل بنایا جس کی ابتدا بھٹو نے کی اور جس کا افتتاح نواز شریف نے کی اور ان کاموں کیلئے ہم ان کا مشکور ہیں لیکن یہ سیساستدان کب تک اس ایک پوائنٹ کو لیکے ہمیں پیسیں گے؟ مشرف صاحب یا بھٹو اگر اچھے تھے تو ماشاءاللہ ‘ لیکن اج بھی چترال میں ان کے نام سے ووٹ مانگنا بہت ہی عجیب بات ہے۔جو چلے گئے جیسے بھی تھے وہ تھے’ آپ جو ووٹ مانگ رہے ہیں آپ میں کیا ہے؟ افلاطون اپنی کتاب ریپبلک میں لیڈر کا کردار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک سربراہ عوام کو غار سے نکال کے آزاد اور حقیقت کی طرف لے آتا ہے جبکہ چترالی لیڈیر ہمیں بار بار پارٹی سیساست کے غار میں دھکیل رہے ہیں۔ کوئی اپنے اس مقصد کیلئے مذہب کا استعمال کررہا ہے اور کوئی ذات پات اور خاندان کا لیکن کوئی عوام کو صاف صاف یہ بتانے کیلئے تیار نہیں کہ وہ ہر شناخت سے بالاتر ہوکر لوگوں کی بھلائی کیلئے کام کریں گے اور ان کو ووٹ دیا جائے تو صرف اس لئے کہ وہ اس کے اہل ہے محظ اپنی قابلیت اور لیڈیرشب کی وجہ سے۔
کئی لوگ یہ سوچ رہے ہونگے کہ کیا واقع میں پارٹی پولیٹکس سے نکل کر لیڈیرشب کو فوقیت دی جاسکتی ہے؟ اور اس کا جواب یقینا مسبط ہے کیونکہ ہمارے سامنے ایسے ہزاروں مثالیں ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں’ ہمیں چترال میں بھی ایک بابا جان کی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان میں ایک لیڈیر کے طور پہ انقلابی سیاست کررہے ہیں اور نہ کہ کوئی پارٹی پولیٹکس۔ آگر کو ئی زبردست لیڈیر آزاد امیدوار کے طور پہ بھی سامنے آئے تو چترال کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے اور کسی مرکزی پارٹی کی بس کی بات نہیں کہ وہ ہمیں فنڈ نہ دے کیونکہ وہ ہمارا آئینی حق ہے۔ چترال اتنی چھوٹی سی جگہ ہے اور اگر ایک انقلابی لیڈیر مل جائے تو کم ہی عرصے میں ہم بہترین زندگی گزار سکتے ہیں جس میں ہم تعلیم’ صحت اور حالاتِ زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں مگر شرط یہ سے کہ ہم اپنی بنیاد کسی پارٹی کے بجائے اہلیت پہ رکھیں۔ پارٹی کے ساتھ اٹک جانے کے بجائے ہمیں خود کو آزاد کرنا چاہئے اور سب ملکر اچھے لیڈیرز کو آگے لانا چاہئے۔ اس میں بڑا کردار نوجوانوں کا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کے ووٹ میں حصہ لیں اور ٰخود میں ہی وہ لیڈیرشب پیدا کریں۔ یہ جتنے بھی چترالی سٹوڈنٹ اسوسیئشنز ہیں انکو اشٹوگ گاہ بنانے کے بجائے انہیں سیاسی لیڈیرشب کے لئے استعمال کریں تاکہ کچھ سالوں میں وہ اس لئے ووٹ نہیں مانگیں کہ ان کے ابا سیاستدان تھے’ یا اس لئے کہ بھٹو زندہ ہے ہا پھر وہ عمران خان اور مشرف سے ملکے آئے ہیں بلکہ اس لئے عوام سے ووٹ مانگیں کیونکہ وہ اپنی لیڈرشب کی وجہ سے ووٹ کے حقدار ہیں اور وہ ہر شناخت سے آزاد ہوکے علاقے میں سب کیلئے کام کریں گے اور اس کام کیلئے انھیں مرد ‘ سنی’اسماعیلی ‘کٹور یا زوندرے ہونے کی ضرورت نہیں۔
(مضمون نگار حبیب یونیورسٹی کراچی میں سوشل ڈیولپمنٹ اینڈ پالیسی کا طالبعلم ہے

Translate »
error: Content is protected !!