Chitral Times

16th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلاول کا پہلا انتخابی میدان….. محمد شریف شکیب

August 8, 2017 at 9:58 pm

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 2018کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 32چترال سے انتخاب لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی والدہ بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد پارٹی کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورہ چترال کے دوران بلاول کا کہنا تھا کہ چترال کی مٹی سے محبت انہیں اپنے نانا اور والدہ سے ورثے میں ملی ہے۔ پولو گراونڈ میں جلسہ عام سے خطاب میں بلاول بھٹو نے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت پر نکتہ چینی کی۔ کہنے لگے کہ لواری ٹنل چترالی عوام کے لئے شہید بھٹو کا تحفہ ہے۔ نواز شریف نامکمل منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔انہوں نے چترال کو دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے اقتدار میں آنے کے بعد مستوج کو ضلع بنانے کا اعلان کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی بلاشبہ واحد قومی جماعت ہے جس کی جڑیں چاروں صوبوں ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ اینٹی اسٹبلشمنٹ اور عوامی منشور والی جماعت ہونے کی پاداش میں اسے ہر دور میں انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔عوامی ہونے کے جرم میں ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ میر مرتضی اور شہنواز کے بعد بے نظیر بھٹو کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا۔ بیگم نصرت بھٹو بھی قذافی سٹیڈیم میں پولیس تشدد کے بعد کئی سال کومہ میں رہنے کے بعد چل بسی۔ بھٹو خاندان کا صفایا ہونے کے باوجود لوگوں کے دلوں سے پی پی پی کی محبت ختم نہیں کی جاسکی۔ جب آصف زرداری نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تو بے نظیر کی شہادت کا زخم تازہ تھا۔ اور 2008کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ہمدردی کے ووٹ ملے۔ پانچ سالہ دور حکومت میں آصف زرداری نے پی پی پی کے منشور کو بالائے طاق رکھ کر مفاہمت کی سیاست شروع کی۔ جس کا خمیازہ 2013کے انتخابات میں بدترین شکست کی صورت میں پارٹی کو بھگتنا پڑا۔ اور پی پی پی دیہی سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی۔ پارٹی میں دوبارہ جان ڈالنے کے لئے بے نظیر شہید کے جوانسال صاحبزادے بلاول کو چیئرمین شپ سونپ دی گئی۔ 2018کے انتخابات بلاول زرداری کی قیادت اور قابلیت کا امتحان ثابت ہوں گے۔انہیں پارٹی کو دوبارہ اقتدار کے ایوان تک پہنچانے کے لئے پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام بحال کرنا ہوگا جو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی موجودگی میں آسان نہیں ہوگا۔جہاں تک بلاول کا چترال سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا سوال ہے۔ یہ بلاول سے زیادہ پی پی پی کی مقامی قیادت کی خواہش معلوم ہوتی ہے۔ مولوی محمد ولی اور سید غفور شاہ کے دور میں چترال کو منی لاڑکانہ کہا جاتا تھا۔ چترال کے ساتھ بھٹو شہید کی والہانہ محبت اور گرانقدر خدمات کی وجہ سے چترالی قوم نے بار بار پی پی پی کو ووٹ دیا۔ اس سے قبل بیگم نصرت بھٹو چترال سے انتخاب جیت چکی ہیں۔ جبکہ پیارعلی الانہ کو شہزادہ محی الدین کے مقابلے میں معمولی ووٹوں سے شکست ہوئی۔ مگر اس بار حالات بالکل مختلف ہیں۔ پارٹی کے دیرینہ کارکن دلبرداشتہ ہوکر گوشہ نشین ہوچکے ہیں کچھ جیالے دوسری جماعتوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے پی پی پی کے دو ایم پی ایز کی چارسالہ کارکردگی غیر تسلی بخش رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف، جماعت اسلامی ، مسلم لیگ اور جے یو آئی کا اچھا خاصا ووٹ بینک موجود ہے۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ برقرار رہتا ہے۔ تو کسی دوسری جماعت کے لئے کافی مشکلات پیش آسکتی ہے۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان اختلافات کے
باوجود ان کے انتخابی اتحاد کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شہزادہ محی الدین کے سیاسی جانشین شہزادہ افتخار کی کارکردگی بھی اطمینان بخش رہی ہے۔ اور وہ اگلے انتخابات میں کسی بھی دوسری جماعت کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے سابق ایم این اے مولانا عبدالاکبر کو این اے 32کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ کسی بھی امیدوار کے لئے ڈراونا خواب ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہر بار اپوزیشن بنچوں کے لئے ممبروں کے چناو سے چترال کو جو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اس کے پیش نظر چترال میں آزاد امیدواروں کو جتواکر حکومت میں شامل کرنے کی تحریک بھی شروع ہوچکی ہے۔ جو انتخابات کے دنوں میں زور پکڑ سکتی ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو کو اپنی انتخابی سیاست کے لئے چترال کا میدان چننے سے پہلے سو بار سوچنا ہوگا۔

Translate »
error: Content is protected !!