Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔۔۔۔۔۔۔۔پاٹا اور فاٹا۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

August 7, 2017 at 8:52 pm

پاٹا سے مراد پراونشیلی ایڈمنسٹرڈ ٹرائبل ایریا ہے ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع کے ساتھ ہزارہ کا ضلع تور غر بھی اس میں �آتا ہے فاٹا سے مراد فیڈرلی ایڈ منسٹرڈ ٹرائیبل ایریا ہے خیبر اور باجوڑ سے لیکر کرم اور وزیر ستان تک آٹھ قبائلی ایجنسیاں اس میں آتی ہیں ۔ نیز پشاور ، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحق علاقوں کو بھی فاٹا میں شامل کیا گیا ہے۔ جھگڑا فاٹا کو پاٹا بنانے پر ہے ایک کروڑ قبائلی عوام کا مطالبہ ہے ۔کہ فاٹا کو پاٹا بنایا جائے۔ 200کاروباری شخصیات کا دباؤ ہے کہ فاٹا کو فاٹا ہی رہنے دیا جائے یہ ان کے لئے دودھ دینے والی گائے ہے ۔ فاٹا سے منتخب ہونے والے ممبران قومی اسمبلی میں شاہ جی گل افریدی ایک کروڑ عوام کے ساتھ ہیں۔ ناصر خان افریدی اوردیگر نمائندے 200تاجروں کے ہمنوا ہیں تاجر سے مراد دوکاندار نہیں ، بیورو کریسی ، مذہبی سیاست یا کسی اور رنگ میں فاٹا کو نچوڑ کر اپنا کاروبار چمکانے والے سب “تاجر”کہلانے کے مستحق ہیں ۔ناصر خان آفریدی کا تارہ بیان یہ ہے کہ ہم رواج ایکٹ کے تحت پولٹیکل راج کے خاتمے کو تسلیم نہیں کرینگے۔ اسی دن کے اخبارات میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا بیان آیا ہے۔ کہ مارشل لاء جب بھی آیا ہے۔ ملک میں ترقی ہوئی ، جمہوریت جب بھی آئی ملک برباد ہوا ۔ ناصر خان آفریدی کے بیان کی روشنی میں سچ بولنے اورکھری باتیں کہنے والے جنرل مشرف کا بیان محل نظر ہے۔ ملکی تاریخ میں 34سال مارشل لاء رہا۔ 36سال جمہوریت رہی اگر جمہوریت ناکام ہوئی ہے۔ تو مارشل لاء کے زمانے میں فاٹا کو پاٹا کا درجہ دینا چاہیے تھے۔ اگر ایوب خان، ضیاء الحق اور یحییٰ خان کو توفیق نہیں ہوئی تو جنرل مشرف کو یہ نیک کام کر نا چاہئیے تھا۔ ایک کڑور قبائلی عوام کی دعائیں لینی چاہئے تھی۔ مہمند ، باجوڑ اور خبیر ایجنسی کے تا جر ملا کنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں کاروبار کر تے ہیں ۔ان کو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ فاٹا کے دور میں ملاکنڈ میں کتنی غر بت تھی۔ پاٹا میں آنے کے بعد شانگلہ ، بونیر، دیر اور چترال کی تقدیر کیسے بدل گئی۔ اس کا موازانہ راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ چترال ، دیر اور سوات میں ایف سی آر کا قانون تھا۔ پو لیٹیکل ایجنٹ کی بادشا ہت تھی۔ سو یا ڈیڑھ سر ما یہ دار اور جاگیر دار پو لیٹیکل ایجنٹ سے ملنے جا تے تو ایک ہفتہ بعد ملا قات کی باری آتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ پولیٹیکل ایجنٹ مصروف ہو تا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ان کا سہ لیسوں کو ذلیل و خوار کر نے کے بعد ملاقات کا وقت دیتا تھا۔ آواز اٹھا نے کی صور ت میں ایف سی آر کے تحت قید کر تا تھا۔ کوئی پولیس کوئی قاعدہ قانون نہیں تھا۔ ریاستوں کو توڑ کریحییٰ خان نے ایف سی آر کا خاتمہ کیا، پولیٹیکل ایجنٹ کی سلطنت کو عوام کے لئے آزاد کر دیا۔ ڈپٹی کمشنر آیا، سپر ٹنڈنٹ پولیس آیا ، سول جج آیا، سیشن جج آیاقا نون کی عملداری آئی ،اپیل کا حق مل گیا پھر سکول اور کا لج دیر اور چترال ، شانگلہ اور بونیر میں بھی سوات کی طر ح کھل گئے۔ پھر چترال اور دیر میں بھی بجلی آگئی۔ چترال اور دیر میں بھی تقریر و تحریر کی آزادی مل گئی۔ پھر دیر اور چترال کے لوگوں کو بھی پاکستان کے دوسرے شہریوں کے برابر حقوق ملے ۔ اس لئے پاٹا ایک اچھا نمونہ ہے۔جس کے طرز پر فاٹا کے عوام کو پولیٹکل راج، ایف سی آر، ملک، ما جب ، لونگی اور خا صہ دار کی جگہ پاکستانی قا نون کا تحفہ دیا جا سکتا ہے۔ تین سال پہلے وفاقی حکو مت نے فاٹا اصلا حات کے لئے کمیشن بنا یا کمیشن نے اصلاحات کا جا مع پیکیج تیار کیا۔ رواج ایکٹ کے نام سے ایف سی آرکا متبادل قانون وضع کیا۔ فاٹا کو پولیٹیکل راج کے چنگل سے آزاد کر نے کا جا مع منصو بہ دے دیا۔ اس منصو بے کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا مرحلہ آیا۔ تو ایف سی آر سے بے تحا شا فوائد سمیٹنے والے 200با اثر شخصیات

نے وفاقی حکو مت پر دباؤ ڈال کر ایک کڑور بے زبان، مجبور اور غریب عوام کی آزادی کا بل پارلیمنٹ میں پیش نہ ہونے دیا ان کا خیال درست نکلانہ نومن تیل ہو گا نہ راد ھا نا چے گی یہ واحد بل تھا جس کے لئے مسلم لیگ (ن) کو پاکستان تحریک انصاف کا تعاون حا صل تھا۔ بل کے حق میں ووٹ دینے کے لئے عمران خان خود اسمبلی میں آرہے تھے۔ ایف سی آر کے حا میوں نے بل کو روک دیا ۔ فر نٹیئر کرایمز ریگولیشن (FCR) کے نام سے مشہور ڈیڑھ سو سال پرانے قا نون کو پسند کرنے والوں میں علماء بھی شامل ہیں وہ یہ بات بھول جاتے یں کہ انگریزوں نے یہ قا نون اپنے دشمنوں کے خلاف بنا یا تھا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سو چا کہ ہم تو قبائلی عوام کو دشمن نہیں سمجھتے بلکہ دوست کا درجہ دیتے ہیں۔ پھر ان کو پا ٹا میں آنے سے کون روکتے ہیں؟ آزاد ہونے سے کیوں روکتے ہیں؟ کم ازکم دیر اور چترال کے برابر حقوق حا صل کرنے سے کیون روکتے ہیں۔
بقول مرزا غالب
ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے �آگے

Translate »
error: Content is protected !!