Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آغا خان ہیلتھ سروس کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر ڈے منایا گیا

August 7, 2017 at 9:18 pm

چترال (نذیرحسین شاہ) ماوں اور بچوں کی صحت بہتر بنائے بغیر صحتمند معاشرے کی تعمیر کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کیلئے بہترین غذا ہے۔ بازار سے دستیاب دودھ کبھی بھی ماں کے دودھ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ قرآن پاک میں بھی ماں کے دودھ کی اہمیت واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ ماوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر ممکن کوشش کر کے اپنا ہی دودھ پلائیں، تاکہ ان کے بچوں کی صحت بہتر رہے، ان میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو، اور ان کی ذہنی نشوونما کے لئے درکارغذائیت ہمیشہ میسر رہے۔ بچوں کو اپنا ہی دودھ پلانے سے ماوں کی اپنی صحت بھی اچھی رہتی ہے اور ان میں بعض خطرناک بیماریاں، مثلاً ذیابیطس، کینسر کے بعض اقسام اور دمہ، پیدا ہونے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ پیرکے روزآغاخان ہیلتھ سروس چترال کے زیرتعاون بریسٹ کینسرڈے منایاگیاڈی ایچ اوآفس چترال سے واک کرکے پی ٹی ڈی سی ہوٹل پہنچ کرایک پروگرام انعقاد جس میں مختلف مکتبہ فکرکے لوگ کثیرتعدادمیں شرکت کی ۔پروگرام کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم جبکہ صدرمحفل سابق تحصیل ناظم چترال وچیئرمین سی سی ڈی این سرتاج احمدخان تھے ۔ اس موقع پرڈی ڈی ایچ او چترال ڈاکٹرفیاض رومی ، AQCESSپراجیکٹ پرپروگرام منیجراحمدضاء،کاسس پراجیکٹ کے منیجرمعراج الدین،سجادزرین ،پروگرام افیسرآغاخان ہیلتھ سروس چترال نصرت جہان،AQCESSپراجیکٹ کے ڈسٹرکٹ کواڈینیٹرچترال انوربیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلع چترال کے مختلف دورآفتہ علاقوں میں آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے زیرِ اہتمام ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرنے لئے آگاہی ریلی اور پروگرامات کئے جارہے ہیں جن میں خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان عرصہ دراز سے گلگت بلتستان اور چترال سمیت پاکستان بھر کے دور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شروع سے ہی آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان نے ماوں اور بچوں کی صحت بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات اُٹھائے ہیں، جن سے حالات پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوے ہیں۔ ا س موقع پر مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم ،صدرمحفل چیئرمین سی سی ڈی این اوردیگرمقریرین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب بھی ماوں اور بچوں کی صحت کے لئے دیرپا اور مستحکم نظام قائم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ماوں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر چترال میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان اموات کی ایک بہت بڑی وجہ مناسب، اور متوازن خوراک کا عدم استعمال ہے ، جس کی وجہ سے ماوں کی صحت بہتر نہیں رہتی، اور اس کے اثرات بچوں میں بھی نمودار ہوتے ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ ماوں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے شعور کی بیداری اور سہولیات اور خدمات کی بروقت فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

 

Translate »
error: Content is protected !!