Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غیر یقینی سیاسی صورت حال………. محمد شریف شکیب

August 6, 2017 at 8:13 pm

محاذ آرائی اور الزامات کی سیاست نے جہاں پورے ملک کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں حکومتی مشینری جام ہوکر رہ گئی ہے۔ یکم اگست سے شروع ہونے والا پشاور ریپڈ بس ٹرانزٹ کا منصوبہ بھی کچھ عرصے کے لئے التواء کا شکار ہوگیا۔ ایک طرف اپوزیشن کی طرف سے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں ہورہی ہیں تو دوسری جانب وزراء اور حکومتی اراکین نے دفاعی مورچے سنبھال لئے ہیں ۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے 124رکنی ایوان میں حکمران اتحاد کو 69ارکان کی حمایت حاصل ہے۔جن میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ممبران کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی شامل ہے۔ جبکہ اپوزیشن کے پاس 54ممبران ہیں۔ مقتول ایم پی اے سردار سورن سنگھ کی نشست خالی ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ انہیں پی ٹی آئی کے آٹھ سے دس ناراض اراکین کی حمایت حاصل ہے اور تحریک عدم اعتماد لانے کی صورت میں پارٹی کے ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ کے خلاف ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگر اپوزیشن کا دعویٰ درست ہے تو آٹھ ارکان کو توڑ کر صوبائی حکومت گرائی جاسکتی ہے۔ تاہم سپیکر اسد قیصر کا کہنا ہے کہ چھوٹے موٹے گلے شکوے ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف متحد ہے اور کوئی بھی رکن خواہ کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو۔ وہ پارٹی پالیسی سے انحراف کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے عمران خان سے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے پارٹی ارکان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جبکہ کرپشن کے الزام میں وزارت سے برطرف کئے گئے ایم پی اے ضیا آفریدی نے حکومت بچانے کے لئے ہاوس کے اندر تبدیلی لانے کی تجویز دی ہے۔ پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ اور اتحادیوں نے اپنی توپوں کا رخ خیبر پختونخوا حکومت کی طرف موڑ دیا ہے۔ صوبائی حکومت گرانے کے لئے ایک طرف مسلم لیگ کے صوبائی صدر سرگرم نظر آرہے ہیں تو دوسری جانب جے یو آئی کی قیادت بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے۔ صوبائی حکومت سے نکالی گئی قومی وطن پارٹی بھی حکومت مخالف گروپ کا حصہ بن چکی ہے۔ اس صورتحال میں صوبائی حکومت کو خطرے کی بو آنے لگی ہے خود عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ن انتقامی طور پر خیبر پختونخوا حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سمیت تحریک انصاف کے اکثر رہنما صوبائی حکومت کے خلاف کسی مہم جوئی کی کامیابی کو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال نے تحریک انصاف حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اور حکومت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے۔ حالات کو اس نہج تک لانے میں خود پی ٹی آئی کا اپنا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کے مطالبے کی مخالفت کرنے پر قومی وطن پارٹی کا حکومت سے نکال باہر کرنا اور پیپلز پارٹی سے نئی محاذ آرائی شروع کرنا وہ اقدامات ہیں جن کی وجہ سے حکومت مشکل میں پڑ گئی ہے۔ اس صورتحال سے حکومت کو نقصان پہنچے یا فائدہ ملے۔ بہتر حال اس کے منفی اثرات عوام پر پڑ رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ عوامی مسائل کے حل پر حکومت کی توجہ نہیں رہی۔ وزراء اپنے محکموں کے کام کرنے کے بجائے حکومت کو بچانے کے لئے زیادہ فکر مند ہیں۔ خود حکمران جماعت کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پارٹی کے بعض سینئر رہنما وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے طرزعمل سے خوش نہیں۔ ان ہاوس تبدیلی کی صورت میں پارٹی کے ناراض ارکان نے خٹک مخالف گروپ کو سپورٹ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بعض حکومتی حلقوں نے قومی وطن پارٹی کی جگہ پیپلز پارٹی کو ساتھ ملانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ تاہم آصف زرداری کے خلاف عمران خان کے اعلان اور بلاول زرداری کے حالیہ بیانات کے بعد بیل منڈھے چڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔اس صورتحال میں پارٹی کے بعض رہنماوں کا یہ مشورہ صائب معلوم ہوتا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس فوری طور پر بلاکر حکومت اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل کرنے کا عملی مظاہرہ کرے تاکہ سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے چہ میگوئیوں کا خاتمہ ہوسکے۔

Translate »
error: Content is protected !!