Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ ……محمد شریف شکیب

August 2, 2017 at 6:53 pm

خواتین کی مخصوص نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے والی عائشہ گلالئی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرکے سیاسی فضاء میں ہلچل مچا دی ہے۔ عائشہ کی طرف سے تحریک انصاف سے علیحدگی کے اعلان کا وقت بہت اہم ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے اور عبوری دور کے لئے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے دن کو عائشہ نے اپنے استعفے کے لئے دانستہ طور پر چن لیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کی مرکزی قیادت پر بدکرداری اور صوبائی قیادت پر کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات لگائے۔ ان کا انداز بہت جارحانہ تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کے ہاتھوں پارٹی کی کسی خاتون کی عزت محفوظ نہیں۔ وہ پاکستان میں بھی برطانوی کلچر متعارف کرنا چاہتے ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ پارٹی چھوڑنے سے ایک دن قبل عائشہ نے بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عمران خان نے عائشہ گلالئی کی مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر امیر مقام سے ملاقات پر کافی ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر اقرباء پروری اور کرپشن کے الزامات لگائے تو عمران سے پرویز خٹک کے خلاف کاروائی کے لئے ثبوت مانگے ۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سوشل میڈیا پر عائشہ گلالئی کے الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ عائشہ نے ان سے ملاقات کرکے این اے ون کا ٹکٹ دلانے کا مطالبہ کیاتھا۔ جس پر انہیں بتایا گیا کہ بنوں سے تعلق رکھنے والی خاتون کو پشاور کی نشست کا ٹکٹ کیوں کر دیا جاسکتا ہے۔تحریک انصاف ویمن ونگ کی رہنماوں نے بھی عائشہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان اپنا احترام خود کراتا ہے۔ پی ٹی آئی کی خواتین رہنماوں اور کارکنوں کو پارٹی قیادت سے کبھی شکایت نہیں رہی۔ عائشہ نے پارٹی سے الگ ہونے کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا۔ تاہم وہ صحافیوں کے سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی اور سوال و جواب کا سیشن چھوڑ کرجانے پر مجبور ہوگئی۔پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرنے کے باوجود عائشہ نے اب تک قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان نہیں کیا۔سوشل میڈیا پر عائشہ کو ان کے الزامات کا جس انداز میں جواب دیا جارہا ہے۔ اس کا شاید انہوں نے پارٹی چھوڑنے اور قیادت پر سنگین نوعیت کے الزامات لگانے سے پہلے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ یہ سابق وزیراعظم کو پانامہ کیس میں نااہل قرار دلوانے کا رد عمل ہے۔ اور چھانگا مانگا طرز سیاست کا تسلسل ہے۔ معترضین کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت بدکردار تھی تو عائشہ نے چار سال تک کیوں انہیں برداشت کیا۔ انسان کے کردار کا دوچار نشستوں میں بھی پتہ چل جاتا ہے۔ طویل عرصے تک بدکرداروں کے ساتھ نباہ کرنا کسی غیرت مند خاتون کے لئے کیسے ممکن تھا۔بدکرداری کے الزامات لگا کر عائشہ نے عمران خان کی ساکھ کو بلاشبہ ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی عزت بھی خاک میں ملادی۔ وہ مسلم لیگ ، اے این پی یا کسی بھی دوسری جماعت میں بھی شمولیت اختیار کرے۔تو انہیں وہ عزت نہیں مل سکتی۔ جسے بچانے کے لئے انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کی سیاست کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ جو کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔ اس کی چھینٹیں تمام سیاست دانوں کے دامن کو داغدار کریں گی۔جو قوتیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ان کی چارج شیٹ میں ایک اہم نکتے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ مگر کرسی کے چکر میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے والے سیاست دانوں کو بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ وہ حسب معمول پانی سر کے اوپر سے گذرنے کے بعد ہی ہاتھ ملتے اور واویلا مچاتے رہیں گے۔ عائشہ کو شطرنج کا مہرہ بننے کا اتنا ہی فائدہ پہنچے گا جتنا اس نے آلہ کار بننے کا معاوضہ پایا ہے۔ مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے گذشتہ روز ایک تقریب میں کہا تھا کہ ہم سیاست دان باہم مشت وگریبان ہوتے اورایک دوسرے کو صلواتیں سناتے رہتے ہیں۔ انہیں سنجیدہ نہ لیا جائے۔ سادہ لوح عوام پریشان ہیں کہ ہمارے سیاست دان خود ہی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ دو رخی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کونسا رخ اصلی اور کونسا نقلی ہے۔مرزا غالب نے شاید ہمارے سیاست دانوں کے بارے میں ہی کہا تھا کہ
ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ
دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا

Translate »
error: Content is protected !!