Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکُش کی دوسری بلندترین چوٹی “نوشاق” کو کوہ پیماؤں کی ٹیم نے سر کر لیا

August 1, 2017 at 5:46 pm

چترال ( محکم ا لدین ) ہندوکُش کی دوسری بلندترین چوٹی “نوشاق” کو کوہ پیماؤں کی ٹیم نے سر کر لیا ۔ ٹیم میں 77سالہ خاتون کوہ پیما بھی شامل ہے ۔ 44سالہ خاتون ٹیم لیڈر (ائرینا میراک ) IRENA MRAK، 43 سالہ خاتون موجکا سواجگر ( MOJCA SVAJGER) اور 36 سالہ نوجوان ٹوماز گوسلار (TOMAZ GOSLAR) کا تعلق سلووینیا سے ہے ۔ جنہوں نے اٹلی سے تعلق رکھنے والی ٹیم کی معمر ترین کوہ پیما جن کی عمر 77سال ہے ۔ کو لے کر نوشاق کی چوٹی سر کر نے کے سلسلے میں مہم جوئی کی ۔ لیکن کچھ مشکلات کی بنا پر ٹیم نے نوشاق کی بجائے دو اور چوٹیاں زوم اور گروم جن کی اونچائی بالترتیب 6500اور 6300میٹر ہیں کو سر کر لیا ۔ ٹیم لیڈر ائرینا میراک نے چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں مشیر وزیر اعلی خیبر پختونخوا برائے کھیل و سیاحت عبدالمنعیم خان ، چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سرتاج احمد خان ، نائب صدر حیدر علی شاہ ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال رحمت غازی ، ونگ کمانڈر ( ر) فرداد علی شاہ و دیگر مہمانوں کی موجودگی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہندوکُش کی ان چوٹیوں میں ماحول کی صفائی کی اشد ضرورت ہے ۔ اور اُن کا بنیادی مقصد ایکو ٹوررزم کے فروغ اور کوہ پیمائی کو پائیدار بنا نا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس مہم کے دوران اُن کے 20دن صرف ہوئے ،اور اُن کی کوہ پیمائی کا آغاز بابو بیس کیمپ ( BABU B C) سے ہوا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کوہ پیمائی کیلئے ہندوکُش کی چوٹیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔ انہوں نے بیس کیمپ اور اطراف میں پھیلے ہوئے مختلف کچروں کے بارے میں کہا ۔ کہ ہم نے علاقے کو صاف کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔ اور وہاں پر موجود کچروں اور کوڑا کرکٹ کو واپس چترال شہر پہنچایا ۔ جہاں اُنہیں ٹھکانے لگایا جائے گا ۔ اس موقع پر مشیر برائے ٹورزم عبد المنعیم خان نے کہا ۔ کہ ہم چترال میں ٹورزم کو فروغ دینے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ اور موجودہ شندور فیسٹول کا انعقاد اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ گلگت نے کئی ایشوز اُٹھا رکھے تھے ۔ جنہیں حل کرکے ہم نے شندور فیسٹول کے انعقاد کو ممکن بنا یا ۔ اور بہت بڑی تعداد میں سیاحوں اور لوگوں نے اس میں شرکت کی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اٹھارہویں ترمیم سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ اب بھی کے پی ٹورزم کی طرف سے کیسز عدالت میں ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ٹورزم کو فروغ دے کر معاشی ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں ۔ چترال ہمارا دل ہے ۔ اور ہم اپنے دل کو کبھی خراب اور مشکلات سے دوچار نہیں دیکھنا چاہتے ۔ اس کو سیاحت کی ترقی کیلئے درکار وسائل مہیا کئے جائیں گے ۔ مشیر کھیل و سیاحت نے کہا ۔ کہ میری دُعا ہے ۔ کہ پاکستان کے تمام شہری چترال کے لوگوں کی طرح امن پسند اور نیچر سے محبت کرنے والے ہوں ۔ انہوں نے یقین دلایا ،کہ چترال میں ٹورزم کی ترقی کیلئے جو بھی تجاویز دیے جائیں گے ۔ وہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے اس کیلئے فنڈ کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے ۔ صدر چترال چیمبر سرتاج احمد خان نے صوبائی مشیر برائے کھیل وسیاحت عبد المنعیم خان اور ایکسپڈیشن ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا ۔ کہ چترال میں سیاحت کے ذریعے سے آمدنی پیدا کرنے کے سوا کوئی مواقع نہیں ہیں ۔ اور ہماری کوشش ہے ۔ کہ بزنس کمیونٹی کو مضبوط بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کو کلائمیٹ چینج کے نقصانات سے بچانے کیلئے حکومت کی طرف سے سنجیدہ اقداما ت اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اور اُن لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں کھڑا کرنے کیلئے خصوصی پیکیج فراہم کرنا چاہیے ۔ جو 2015کے تباہ کُن سیلاب اور زلزلے سے کاروباری طور پر مفلوج ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے چترال میں ٹورزم کی ترقی کیلئے ایک جامع پلان اور پیکیج کا مطالبہ کیا ۔ قبل ازین ایکسپڈیشن ٹیم جب چترال ٹورزم انفارمیشن سنٹر چترال پہنچی ۔ تو اُنہیں باقاعدہ طور پر خوش آمدید کہا گیا ۔ ٹیم نے کوہ پیمائی کے دوران حاصل ہونے والی تجربات اور تجاویز سے مشیر ٹورزم ، انچارج ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر زرین خان ، شہزاد عالم کو آگاہ کیا ۔

 

Translate »
error: Content is protected !!