Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خدا کرے کسی کے دل میں اترجائے کوئی بات….. تحریر: اقبال حیاتؔ آف برغذی

July 31, 2017 at 11:16 am

ایک چینی مقولہ ہے کہ اگر کوئی شخص خوش طبع اور ہنس مکھ نہ ہو تو اسے دکانداری نہیں کرنی چاہئے۔ اگر حقیقت کی کسوٹی میں اس مقولے کو پر کھ کر دیکھا جائے تو یہ اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ دکانداری کا تعلق معاملات سے ہوتا ہے۔ اور مختلف فکرو خیال اور مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے دکاندار کے حسن و اخلاق کی اہمیت مسلمہ ہوتی ہے۔ نرخ کے تعین پر تکرار سے لیکر پسند کرنے کے لئے سامان نکالنے اور دوبارہ رکھنے کی حد تک معاملات مزاج پر اثر انداز ہونے کی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور ہر قسم کی ناگواری کے اثرات کو چہرے پر ظاہر ہونے سے اجتناب کی ضرورت ہوتی ہے۔
چونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے زندگی کے تمام اسلوب کی نشان دہی کئے ہیں ۔ اور بیت الخلاء سے بیت اللہ تک کے طور طریقے بتائے ہیں۔ اور خصوصاً تجارت کے پیشے سے آپ کی وابستگی اسکے تقدس کو نمایاں کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور اس ضمن میں آپ کی دیانت داری اور جائز منافع خوری جیسے اصولوں کی پاسداری کے آپ کے بدترین دشمن بھی معترف تھے۔ اس سلسلے میں آپ کے بتائے ہوئے اصول اور قواعدو ضوابط پوری امت کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ کے ایک ارشاد کے مطابق امین اور صادق مسلم سوداگر کا حشر قیامت کے دن شہدا ء کے ساتھ ہوگا۔ اسلامی تصورت کے مطابق تاجر کو کشادہ دلی اور دلجوئی کرنے کی صفت کا حامل ہونا ۔ ناپ تول میں احتیاط کا دامن تھامے رکھنا اور گاھک کے لئے فائدے کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔امیزشن اور دھوکہ و فریب سے اجتناب کی تاکید ملتی ہے۔ کیونکہ اس سے تجارت کی برکت متاثر ہوتی ہے۔ اگر کوئی تاجر ناقص مال نقص ظاہر کئے بغیر فروخت کرے گا تو اللہ رب العزت کی اس شخص سے بیزارگی اور فرشتوں کی اس پر لعنت بھیجنے کا تصور اسلام پیش کرتا ہے۔ ساتھ ساتھ احادیث میں تاجر کے لئے مال فروخت کرتے وقت اس کی عمدگی اور اوصاف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قیمت کے بارے میں قسم کھانے سے قطعاً منع کیا گیا ہے۔ اسلام میں گیران فروشی کے لئے مسلمانوں سے مال روک دینے پر اللہ رب العزت کی طرف سے جزام کے مرض میں مبتلا ہونے اور افلاس کی سزا کا تصورت ملتا ہے۔ بقول امام غزالی ؒ سوداگر کی دکان اس کیلئے میدان جہاد ہے۔ جہاں اسے ہم جنسوں سے معاملہ کرتے وقت اپنے نفس کے ساتھ بر سر پئیکار رہنا ہوتا ہے۔
اسلام ایسی چیزوں کے کاروبار سے منع کر تا ہے۔ جو شریعت کی رو سے حرام کے ذمرے میں آتے ہیں ۔ کسی تاجر سے گاھک کوئی سامان خرید کر لے جانے کے بعد اگر پسند نہ آنے پر واپس کرے گا۔ اور دکاندار خوش روئی کے ساتھ واپس لے گا۔ تو پیغمبر صادقﷺ نے اسے قیامت کے دن اپنے ساتھ دو انگلیوں کی نسبت کی حد تک ہم نشینی کا مژدہ سنائے ہیں ۔ اس ارشاد کے سننے کے بعد ایک صحابی تجارت کے پیشے کو اپناتے ہیں ۔ اور کامیاب کا روبار کے دوران تقریباً دس بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن انتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دکان کو مقفل کر کے کاروبار کو چھوڑدیتے ہیں ۔ لوگوں کی طرف سے وجہ پوچھنے پر خوشی سے بتا تے ہیں ۔ کہ طویل عرصے میں سرکار دوعالم ﷺ کے ارشاد کے مطابق قیا مت کے دن آپ سے ہم نشینی کا شرف حاصل کرنے کے لئے کسی گاھک کی طرف سے مال واپس کرنے کا منتظر تھا ۔ جواب اس آرزو کی بر آوری ہوئی ۔اس لئے میرے کاروبار کا مقصد مجھے حاصل ہونے کے بعد کاروبار کو خیر آباد کیا۔ خدا کرے کہ بحیثیت مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں ہماری ایمانی کیفیت اللہ رب العزت اور آپ کے عظیم پیغمبر ﷺ کے احکامات کی بجا آوری میں ایسے عاشقان پاک طینت کے جذبے سے لبریز ہوجائے اور ہماری دین کی دعویداری ایسی تابعداری کے رنگ میں رنگین ہوجائے۔
***

Translate »
error: Content is protected !!