Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اساتذہ کی بھرتی کا نیا قانون…… محمد شریف شکیب

July 30, 2017 at 9:05 pm

خیبرپختونخوا حکومت نے شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے تحت پی ٹی سی، سی ٹی سمیت پروفیشنل اسناد کی شرط ختم کرنے اور این ٹی ایس طرز کے امتحان کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت پی ایس ٹی کی اسامی کے لئے ایف اے، ایف ایس سی کا سرٹیفیکیٹ لازمی قرار دیا جائے گا۔ سی ٹی پوسٹ کے لئے بی اے، بی ایس سی جبکہ ایس ایس ٹی جنرل کے لئے بی اے اور ایم اے کی ڈگری لازمی ہوگی۔ ایس ایس ٹی سائنس کی اسامی کے لئے بی ایس سی اور ایم ایس سی جبکہ ماہر مضمون کے لئے ایم اے ، ایم ایس سی تعلیم لازمی قرار دی جائے گی۔ اے ٹی اور ٹی ٹی کی اسامی کے لئے ایم اے اسلامیات جبکہ فیزیکل ایجوکیشن کے لئے ڈپلومہ آف فیزیکل ایجوکیشن کی شرط ہوگی۔ کسی بھی سطح کی اسامی کے لئے تھرڈ ڈویژن پاس امیدوار نااہل قرار پائیں گے۔ این ٹی ایس کے ذریعے منتخب ہونے والے اساتذہ کو چھ مہینے تدریس کی تربیت دی جائے گی۔نئے مجوزہ قوانین کی سٹینڈنگ سروس رولز کمیٹی سے منظوری کے بعد انہیں مشتہر کیا جائے گا۔صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت پچاس ہزار سے زیادہ اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے جبکہ حاضر سروس ایک لاکھ اساتذہ کے لئے جدید طریقوں سے تدریس کی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔چھٹی سے دسویں جماعت تک طلبا و طالبات کو وظائف دیئے جائیں گے۔آئندہ پانچ سالوں کے دوران پرائمری سکولوں میں داخلے کی شرح 88فیصد سے بڑھا کر 100فیصد کردی جائے گی۔ نئے تعلیمی منصوبے پر 592ارب روپے کی لاگت کا تحمینہ لگایا گیا ہے۔خیبر پختونخوا میں پرائمری ، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کی مجموعی تعداد 27ہزار506ہے۔ جن میں سے 27ہزار261سکولوں میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ 117پرائمری اور آٹھ سیکنڈری سکول غیر فعال اور بند پڑے ہیں۔فعال سکولوں میں 22ہزار 44پرائمری، 5217سیکنڈری، 1013مکتب اور 244کمیونٹی سکولز شامل ہیں۔صوبے میں اساتذہ کی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد ایک لاکھ 43ہزار399ہے۔جن میں 92ہزار 243مرد اساتذہ اور 51ہزار 156خواتین اساتذہ کی اسامیاں شامل ہیں۔ جبکہ فی الوقت ایک لاکھ 32ہزار 798اساتذہ کام کر رہے ہیں ۔منظور شدہ اسامیاں پوری کرنے کے لئے مزید دس ہزار چھ سو اساتذہ کی تقرری ضروری ہے۔ڈیوٹی پر موجود پرائمری اساتذہ کی تعداد 78ہزار 409مڈل کی 15ہزار 207، ہائی کلاسوں کے اساتذہ کی تعداد 28ہزار 186جبکہ ہائر سیکنڈری کے 10ہزار 996ہے۔پرائمری سطح پر 43طلبا کے لئے ایک استاد جبکہ سیکنڈری سطح پر 22طلبا کے لئے ایک استاد دستیاب ہے۔جو بین الاقوامی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دینے والی تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ چار سالوں میں بہت سی تعلیمی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ تاہم ان کے نتائج نظر آنے میں کافی وقت لگے گا۔اساتذہ کی بھرتی کا نیا طریقہ کار آزمائشی ہے۔ بلاشبہ طویل غور و خوص اور جامع منصوبہ بندی کے تحت بھرتیوں کا نیا نظام وضع کیاگیا ہوگا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبے کے ستائیس ہزار سکولوں میں کام کرنے والے ایک لاکھ 32ہزار سے زیادہ اساتذہ کی بھی سکروٹنی ہوگی؟۔ کیا ان میں موجود تھرڈ ڈویژن پاس اساتذہ کو فارع کیا جائے گا؟ کیا ایک لاکھ 42ہزار اساتذہ کو سال دو سالوں کے اندر جدید تدریسی تقاضوں کے مطابق تربیت دینا ممکن ہوگا؟جو لوگ رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوئے ہیں۔ ان
کی جانچ پڑتال ہوگی؟ جن کی تعداد تیس سے چالیس فیصد بنتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک نالائق اساتذہ کو تدریس کے شعبے سے الگ نہیں کیا جاتا۔ معیار تعلیم بہتر بنانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ایک اہم سوال یہ بھی جواب طلب ہے کہ کیا نجی شعبے کے تعلیمی اداروں میں بھی اساتذہ کی بھرتی کا کوئی معیار مقرر کیا جائے گا؟ اور اس معیار کا نجی تعلیمی اداروں کو پابند بنایا جاسکے گا۔ کیونکہ کارخانوں اور نجی اداروں کے ملازمین کی طرح گلی کوچوں میں کھلنے والے بیشتر نام نہاد انگلش میڈیم سکولوں میں اساتذہ کی بھرتی اور تنخواہوں و مراعات کا کوئی معیار مقرر نہیں۔ ان سکولوں کے اساتذہ کو ایک ہزار سے دس ہزار تک ماہانہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ جبکہ حکومت نے محنت کشوں کی کم سے کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے سالانہ مقرر کی ہے۔ مگر اب تک کسی ادارے پر حکومت اپنا قانون لاگو کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ارباب اختیار و اقتدار کو قوم کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کے ساتھ جرات مندانہ عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔

Translate »
error: Content is protected !!