Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پانامہ سے اقامہ تک…. محمد شریف شکیب

July 29, 2017 at 6:04 pm

پانامہ کیس کا فیصلہ بالاخر آگیا۔ نواز شریف وزارت عظمیٰ، قومی اسمبلی کی نشست ، پارٹی کی صدارت سے محروم اور عوامی نمائندگی کے لئے نااہل قرار دیئے گئے۔ وزیراعظم کے دو بیٹے، ایک بیٹی، داماد اور سمدھی اسحاق ڈار کو بھی سپریم کورٹ کے فل بنچ نے نااہل قرار دیدیا۔عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ وزیراعظم اپنے بیٹے کی آف شور کمپنی سے تنخواہ لیتا رہا۔ اور اثاثوں میں اسے ظاہر نہیں کیا۔ اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اور آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت عوامی نمائندگی کے لئے نا اہل ہوگئے۔ عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو کو وزیراعظم، ان کے دو بیٹوں، بیٹی، داماد اور سمدھی کے خلاف معلوم وسائل سے زیادہ دولت جمع کرنے اور اثاثے چھپانے کے الزام میں چھ ہفتوں کے اندر ریفرنس دائر کرنے اورچھ ماہ کے اندر ان کا فیصلہ کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل فل بنچ کے فیصلے کے بعد نواز شریف عہدے سے سبکدوش اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی۔ عبوری مدت کے لئے نئی کابینہ کا چناو آئندہ چند روز میں ہوگا۔ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کے سوا کوئی بھی وزیر اعظم اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرسکا۔ میاں نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم بنے ۔ ان کا پہلا دور دو سال پانچ مہینے بارہ دن، دوسرا دور دو سال سات مہینے 25دن اور تیسرا دور چار سال ایک مہینہ 23دن رہا۔ انہیں ایک مرتبہ 58ٹو بی، دوسری بار فوجی مداخلت اور تیسری بار سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتیں پانامہ کیس کے فیصلے کو سی پیک سے جوڑ کر اسے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش سے تعبیر کر رہی ہیں۔ جبکہ ترقی پسند قوتیں اسے کرپشن کے خاتمے کی تحریک کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی سے معاملہ ختم نہیں ہوا۔ پارٹی تو اب شروع ہوئی ہے۔ کرپشن میں ملوث تمام افراد کا یکے بعد دیگرے محاسبہ ہوگا۔ جن لوگوں کے نام پانامہ پیپرز میں آئے ہیں ان سب کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔ مالی کرپشن کے اس بڑے سکینڈل کو منطقی انجام تک پہنچانے کا سہرا تحریک انصاف کے قائد عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید کے سر ہے۔ جنہوں نے کرپشن کے خلاف طویل جدوجہد کی ۔احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں سے بات نہ بنی تو معاملہ سپریم کورٹ لے گئے۔ نواز حکومت کا بوریا بستر لپیٹنے میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا بڑا ہاتھ ہے۔ جنہوں نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر دو مہینوں کے اندر تفتیش اور تحقیقات کا وہ معرکہ سر کیا۔ جو عام حالات میں سالوں میں بھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ مگر انہوں نے فرض نبھانے کو سب سے مقدم سمجھا۔ سپریم کورٹ نے بھی جے آئی ٹی کے ممبران کو خراج تحسین پیش کیاہے۔خدا کرے کہ انسداد بدعنوانی کی یہ تحریک نواز حکومت کی برطرفی کے ساتھ ختم نہ ہوجائے۔اور پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے تک یہ سلسلہ جاری رہے۔ تاکہ ملکی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹنے والوں کا کڑا محاسبہ ہو۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جاسکے۔ اور آئندہ کسی کو عوامی اور سرکاری منصب پر رہ کر قومی امانت میں خیانت کرنے کی جرات نہ ہو۔ پاکستان کی جمہوری سیاست کے لئے یہ ایک بری خبر ہے۔ پہلے ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی پی پی پی کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ اب ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت پی ایم ایل این کو دیوار سے لگایا گیا ہے۔ جمہوریت پسند سیاسی قوتوں کو اس مرحلے پر سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے کہ ملک کا جمہوری مستقبل بچانے کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ عام پاکستانی کی دانست میں اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اداروں کو سیاسی اثر سے آزاد اور خود مختار بنایا جائے۔ جن میں احتساب بیورو، الیکشن کمیشن ، ایف آئی اے ، پولیس اور مالیاتی ادارے شامل ہیں۔اگر مسلم لیگ حکومت کی قیمت پر ملک سے کرپشن کی لعنت جڑ سے ختم ہوتی ہے تو فلاحی، اسلامی ، کرپشن فری اور خود مختار پاکستان کی تشکیل کے لئے نیک شگون ثابت ہوگا۔

Translate »
error: Content is protected !!