Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میرا سچ….. فیتہ کاٹنے کے شوقین…. تحریر : ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

July 28, 2017 at 9:25 pm

عقلمندوں نے کہا ہے کسی بھی کام کی شروعات مشکل ہوتی ہے جب کسی کام کو شروع کیا جاتا ہے تو وہ کسی نہ کسی طرح مکمل ہو ہی جاتا ہے منزل تک پہنچنے کے لیے راستے تعین کرنا ضروری ہے، پہلی سیڑھی پر چڑھ کر ہی اخری سیڑھی تک پہنچا جا سکتا ہے پہلی منزل اور پہلی سیڑھی کا انتخاب بڑا ذہن اور بڑی سوچ ہی کر سکتا ہے ، داناؤں کی باتیں اس لیے یاد ارہی ہیں کہ کچھ دن پہلے چترال میں بڑے زور ،شور سے افتتاح پہ افتتاح جٹ سے فیتہ کاٹ کہ پٹ سے تختی لگانے کی رسم بڑی مہارت سے اد ا ہو رہی تھی نکاح پہ نکاح کا تو لوگوں نے سنا ہو گا لیکن افتتاح پہ افتتاح شایدپہلی دفعہ کسی نے دیکھا اور سنا ہو گا ، حیرت اس بات کی ہے کیا ان پارٹیو ں کے سربراہاں اپنے ملک کے دور افتادہ علاوقوں سے اتنے نہ اشنا اور بے خبر ہیں یا لوگوں کو بے ،قوف بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں

کیا ان کے صوبائی اور ضلعی قیادت کا یہ فرض نہیں بننا کہ وہ اپنے قائدیں کی کم از کم اتنی رہنمائی کر لیں کہ جناب اگر اپ خود اس پسماندہ علاقے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تو براہ مہربانی دوسروں کے بنائے ہوئے منصوبوں پر تختی لگا کر لوگوں کے ساتھ مزاق کرنے کی کوشش مت کریں اب لوگ کا فی باشعور ہو چکے ہیں جب کوئی منصوبہ رکھا جاتا ہے تو اس کے لیے ایک مخصوص ٖ فنڈ مختص ہوتی ہے انے والے حکومت کی یہ زمہ داری اور وہ پابند بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کام کو جاری رکھے سوائے اس کے خدانخواستہ کوئی سیکیورٹی خدشات ہو تو کام میں تھوڑٰی رکاوٹ ٓا سکتی ہے جسطرح پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں سوات اپریشن کی وجہ سے شروع میں لواری ٹنل کے کام میں تھوڑی سستی ا گئی تھی کیونکہ کام کرنے والے باہر کے لوگوں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا تو تھوڑے عرصے کے لیے کام کو روکنا پڑا تھا اس بات کو بنیاد بنا کر کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی لیکن چترال کے عوام اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان کی عوامی حکومت ان کو دے تو سکتی ہے پر لے نہیں سکتی یہی وجہ ھے کہ صوبے میں حکومت نہ ہونے کے باوجود بھی میگا پراجیکٹ چترال میں ر کھے گئے یہ جن پہ تختیاں لگا کے نمبر لینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ،پیپلز پارٹی نے کبھی سونامی پراجیکٹ پر اور نیلی پیلی ٹرانسپورٹ پر حق جمانے کی کوشش نہیں کی، جو دینے کے عادی ہوتے ہیں کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان کو فیتہ کاٹنے کی ،تختی لگانے کی اور نہ ہی سوشل میڈیا پہ ٓا کہ بجنے کی ضرورت ہوتی ہے ان کا کام بولتا ھے ،

چار مہینے کے کم عرصے میں منور سہروردی شہید ڈرگ روڈ انڈر پاس مکمل کرنے والے اور تھر میں جہاز گراؤنڈ بنانے اور بہت سارے منصوبوں کو قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے مراد علی شاہ کو اس بات سے کوئی عرض نہیں کہ میڈیا ان کے کاموں کو کتنا کوریج دیتا ہے ان کو اس بات سے غرض ہے کہ عوام ان کے کاموں کو سراہتی ہے ضمنی الیکشن میں ان کے پارٹی کی کامیابی اس بات کا ثبوت ھے،
خود منصوبے لگا نا اور ان کا افتتاح کرنا اچھا بھی لگتا ہے صرف تفریحی دورے کرکے بڑی بڑی باتیں کرنے سے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوتے،کسی کی صوبے میں حکومت ہے کسی کی وفاق میں چترال کے کتنے مسائل حل کیے ،چترال ٹاؤن میں بجلی کا شدید بحران ہے رمضان شریف لوگوں نے کس حالت میں گزاری اگر سندھ حکومت بونی میں جنریٹر دے سکتی ہے تو کیا کے پی کے کی حکومت ٹاؤن چترال کے لیے نہیں دے سکتی ، یا پھر گولین کے اس بجلی گھر کا انتظار کرنا ہو گا جو پتہ نہیں کب مکمل ہو گا کی�آٰض ایسے فوری اقدامات گولین کے اس بجلی گھر کا جو پتہ نہیں کب مکمل ہو
لوگوں کی زندگی سہل بنانے کے لیے کوئی فوری اقدامات نہیں اٹھانے چاہیے یا ان پسماندہ علاقوں کی زمہ داری صرف پیپلز پارٹی نے لی ہوئی ھے ،جب دوسری پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ چترال کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنے چاہیے بہت اچھی بات ہے جن جن کی حکومت ہے وہ عوام کے لیے منصوبے لے ائے سب اپ کے ساتھ ملیں گے بھی اور جلیں گے بھیَ ، ،ورنہ محض اپنی سیاست چمکانے کے لیے علاقے کی پسماندگی کے ساتھ مزاق مت کریںِ لوگ بے قوف نہیں ہیں،
لوگوں کی زندگی کو اسان بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو جی رہے ہیں پہلے ان کو جینے کا حق مل جائے ان کی بنیادی ضروریات کا پہلے خیال رکھا جائے اور جہاں سیلاب کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو ،جہاں لوگ صاف پانی کے لیے ترس رہے ہو وہاں اربوں کے درخت لگانے پر خرچ کرنا ایسا ہی ہے جیسے دوسرے کے رکھے ہوئے منصوبے پر فیتہ کاٹنے کا شوق،،،

Translate »
error: Content is protected !!