Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ نے بیواؤں اور معذور افراد کیلئے سکل ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کی اصولی منظوری دیدی

July 26, 2017 at 8:15 pm

وزیراعلیٰ نے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کے تحت بیواؤں اور معذور افراد کیلئے سکل ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کی اصولی منظوری دیدی
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کے تحت بیواؤں اور معذور افراد کیلئے سکل ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کی اصولی منظوری دیدی ہے اور اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت کا تیار ٹریننگ انسٹیٹیوٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے کا اعلان بھی کیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے منشور کے مطابق نوجوانوں اور بچوں کی تعلیم و ترقی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کو قانونی حیثیت دیکر فعال کرنت اور سٹریٹ چلڈرن کو سٹیٹ چلڈرن کا درجہ دیکر انکی فلاح کیلئے زمنگ کور کا قیام اس سلسلے میں اہم اقدام ہیں صوبائی حکومت نے اپنی کل وقتی ذمہ داری اور انتہائی سنجیدہ مسئلہ سمجھ کر تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے ہماری تعلیمی اصلاحات کے نتائج سامنے آرہے ہیں سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو چکا ہے سرکاری سکولوں کے حالیہ نتائج اس امر کے عکاس ہیں کہ سفارش، بوٹی مافیا اور نمبروں کی خریدوفروخت کا کلچر ختم ہو چکا ہے اب جو محنت کرے گا وہی بہتر نتیجہ حاصل کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں للسائل والمحروم فاؤندیشن کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم یتیم طلباء و طالبات میں چیکس تقسیم کرنے کی تقریت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینئر صوبائی وزیر سکندر شیرپاؤ، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی مہر تاج روغانی، چیئرمین فاؤنڈیشن و سابق صوبائی وزیر حاجی محمد جاوید، فاؤنڈیشن کے بورڈ اراکین اور دیگر اعلیٰ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم سو یتیم طلباء و طالبات میں چیک تقسیم کئے گئے جن میں 70 طلباء اور 30 طالبات شامل تھیں وزیراعلیٰ نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ امر خوش آئندہ ہے کہ اس صوبے کے غریب بچے اور بچیاں بھی سماجی محرومی کے باوجود اپنی محنت کی بدولت تعلیم وترقی میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شروع دن سے اداروں کے استحکام پر توجہ دی جس میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سرفہرست ہیں۔ تعلیم حکومت کی کل وقتی ذمہ داری اور انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کو ہر لحاظ سے حکومت کی سرپرستی میں ہونا چاہیئے ۔ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہو ، ریاست ہی اس کا انتظام و انصرام سنبھالے اور اسے ریگولیٹ کرے کیونکہ تعلیم کے بغیر قومی ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت نے صوبے میں معیار ی تعلیم کے فروغ کے لئے وسائل اور توانائیاں وقف کیں۔ ہمارے ٹھوس اقدامات کی بدولت سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو ا۔اب والدین اپنے بچوں کو نجی سکولوں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کرانے لگے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن معاشروں میں تعلیم کا پائیدار نظام نہ ہو وہاں برائیوں کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہ فساد اور تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اسلئے صوبائی حکومت نے تعلیم پر فوکس کیا کیونکہ قومیں تعلیم ہی سے بنتی ہیں۔پرویز خٹک نے سرکاری سکولوں کے حالیہ نتائج کا حولہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں ہماری اصلاحات کی وجہ سے سابقہ نظام کی خرابیاں سامنے آرہی ہیں۔ماضی میں مجموعی تعلیمی نظام ہی کرپٹ اور سیاست زدہ تھا۔تعلیم کے نام پر ایک کاروبار چل رہا تھا ۔ ہمارے ادارو ں میں سیکھنے سکھانے کا کلچر ہی نہیں تھا ۔ وہ اس لئے کہ جب ہم نے سسٹم ٹھیک کیا ، شفاف نظام وضع کیا ، سفارشی نمبروں اور بوٹی کلچر کا خاتمہ کیا تو کمزوریاں سامنے آئیں ۔موجود ہ نتائج سے گھبرانا نہیں چاہیئے ۔ یہ بہتری کی طرف سفر ہے۔ہم نے نقل ، سفارش اور نمبروں کی خرید و فروخت کے ذریعے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر نہیں لگانا ۔ کیونکہ ماضی میں یہی کچھ ہوتا آیا ہے ۔تعلیمی ادارے اپنی جگہ خوش تھے کہ نتائج بہتر ہیں ۔ والدین اپنی جگہ خوش کہ بچے اچھے نمبروں سے پاس ہوگئے ۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور تھی ۔ ہم نے شفاف تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی ۔تعلیم دوست ماحول فراہم کیا ۔ اساتذہ کو حاضری کا پابند بنایا ۔ہمارے سسٹم میں جو ادارہ یا طالب علم محنت کرے گا وہی بہتر نتائج حاصل کرے گا۔ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو دھوکے میں نہیں رکھ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک مسلسل عمل ہے جو محنت اور وقت مانگتی ہے ۔ حکومت وسائل خر چ کر رہی ہے مگر اس کے ساتھ والدین اور اساتذہ کی توجہ اور طلباء و طالبات کی اپنی محنت بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ پورے صوبے کو تعلیم کے یکساں مواقعے دے رہے ہیں کیونکہ تعلیم کے ذریعے ہی امیر اور غریب کے درمیان خلاء ختم ہو سکتا ہے۔ ہم نے سرکاری سکولوں میں Basic English شروع کی ہے تاکہ غریب کے بچے بھی مقابلے کیلئے تیار ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں یقیناًاُن کے والدین کا فیصلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن وہ گھر انے جن کے بچے اپنے والدین یا بالخصوص والد سے محروم ہو جاتے ہیں۔ وہاں بچوں کو اس ضمن میں بے پناہ مشکلات اُٹھانا پڑتی ہیں۔ معاشی و معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے بسااوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ وسائل کی کمی کی بناء پر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ چیز اگر چہ اُن کے گھرانوں کو بھی معاشی فکر میں ڈال دیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی اکثریت دیگر مشاغل میں پڑ کر نہ صرف بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کے لئے بے پناہ مسائل بھی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے میں ریاست کا فرض ہے کہ معاشرے کے ان یتیم بچوں اوربچیوں کی داد رسی کرے۔ صوبائی حکومت بچوں کو وہ تمام سہولیات اور مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔ان کی کوشش ہے کہ صوبے کا ایک بھی بچہ سکول سے باہر اور تعلیم سے محروم نہ ہو۔ان کے ویژن میں بچوں کے حوالے سے ایک حساس معاشرے کا قیام بھی شامل ہے۔ جس میں بچوں کی بقاء، تحفظ ، ترقی اور سماجی میل جول کو بغیر کسی امتیاز کے یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے فاؤنڈیشن کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر فلاحی حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے اداروں کی سرپرستی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے جو محروم طبقات کے لئے کام کررہے ہیں۔اسی جذبے کے تحت للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔فاؤنڈیشن کے بورڈ کے بانی رکن ایک مستعد، ایماندار اور قابل اعتماد شخصیت حاجی محمد جاوید کو اس کا چےئرمین بنایا گیا۔جن کی سربراہی میں امید ہے فاؤنڈیشن مزید فعال کردار ادا کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ ادارہ براہ راست ان کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ اس ادارے کے کارکنان جذبہ خدمت سے معمور اور درد دل رکھنے والے ہیں۔ اور شاید اس کی کامیابی کا پس منظر بھی یہی ہے۔انہوں نے فاؤندیشن کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت آئندہ بھی بھرپور معاونت جاری رکھے گی ۔ تقریب سے فاؤنڈیشن کے چیئر مین حاجی محمد جاوید نے بھی خطاب کیا اور فاؤندیشن کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ للسائل والمحروم 2007 میں تنظیم کے نام سے بنی تھی موجودہ صوبائی حکومت نے 2015 میں اسے فاؤنڈیشن کا درجہ دیااور قانون سازی کر کے اسے دیرپا بنا دیا فاؤنڈیشن سے استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں8 لاکھ سے زائد مریضوں کو 2640 فری میڈیکل کیمپوں کے ذریع مفت علاج کی سہولت سمیت کالے یرقان کے 3196 ، کینسر کے 3056 مریضوں کا بھی مفت علاج کیا گی آنکھوں کے 16585 مفت آپریشن کرائے گئے47953 مفت ڈائلائسسزکرائے جا چکے ہیں سرکاری سکولوں کے 104304 بچوں کی نظر کا معائینہ کر کے 6793 بچوں کو مفت عینکیں فراہم کی گئی ہیں تعلیم کے شعبے میں پرائمری سطح کے 7831 بچوں کو 1000 روپے ماہوار اور1089 پوسٹ میٹرک یتیم طلباء و طالبات کو تین سے چار ہزار روپے ماہوار وظیفہ دیا جا رہا ہے 667 معذور افراد کو آلات کی فراہمی اور 10848 نادار افراد کو مختلف قسم کے پیشہ ورانہ کورسز کرائے گئے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!