Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذرا سوچئے…یہ ادویات ہیں یا خُشک میوہ جات…تحریر ہما حیات

July 26, 2017 at 8:13 pm

یہ ادویات ہیں یا خُشک میوہ جات؟ کب سے کھا رہی ہوں پر کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو اکثر و بیشتر سننے کو ملتے ہیں۔ اور جب ہم گردن گھما کر سامنے والے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی آنکھوں میں نفرت اور غصے کے ملے جلے تاثر ملتے ہیں۔
یہ نفرت اور غصہ کسی اور کے لئے نہیں بلکہ ان ڈاکٹر حضرات کے لئے ہوتا ہے جو یہ ادویات تجویز کرتے ہیں۔یہ صرف انھیں ہی مورد الزام ٹھراتے ہیں لیکن وہ یہ کبھی نہیں سوچتے کہ خود ان ڈاکٹرز کو کتنے مسائل درپیش ہیں؟ یہ ڈاکٹرز ہر وقت عوام کی خدمت گزاری میں مصروف رہتے ہیں لیکن جب کہیں بھی ان کی بات ہوتی ہے تو ہر کوئی انھیں بُرا بھلا کہتا ہے۔
اب آپ خود مشاہدہ کریں ۔ دنیا میں روز بروز نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ انکی تشخیص کے لئے بھی جدید ٹکنالوجی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اگر ہم غور فرمائیں تو ہمارے علاقے میں جدید مشین تو دور کی بات شاید بلڈ پریشر چیک کرنے کے آلات کو بھی ذنگ لگ گیا ہے۔ سب ڈویژن مستوج کی کل آبادی ڈھائی لاکھ ہے اور اس ڈھائی لاکھ آبادی کے لئے صرف ایک سول ہسپتال بونی ہے۔ اگر آپ اس ہسپتال کی عمارت کو دیکھیں تو آپ کو یہ بالکل نئے طرز کا لگے گا۔ لیکن اگر آپ اسکے اندرونی معاملات کے بارے میں پوچھیں گے تو شاید آپ کے بھی کان کھڑے ہو جائینگے۔ جدید مشین تو خواب ؛ ایکسرے کی مشین کو بند ہوئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہاں لیبارٹری تو موجود ہے لیکن اس میں کوئی جدید ٹکنالوجی موجود نہیں۔
ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرنے کے بعد اگر کوئی ٹسٹ تجویز کرتا ہے تو مریض الٹا ڈاکٹر کو کوستا ہے کہ کیسا ڈاکٹر ہے ؟ دیکھ کر نہیں بتا سکتا کہ مریض کو کونسا مرض لاحق ہے؟
آپ خود سوچیں یہ وہ زمانہ تو نہیں کہ آپ کسی حاکم کے پاس جائیں اور وہ آپ کے نبض پر ہاتھ رکھ کر یا پھر زبان دیکھ کر آپ کی بیماری کا پتہ لگا لے۔
اسلئے صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان ہسپتالوں کو جدید ٹکنالوجی کے آلات اور مشینوں سے آراستہ کرے۔ تاکہ ڈاکٹر ز سے لیکر عوام تک سب کے مسائل حل ہو جائیں۔اور پھر ذرا سوچئے۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ماضی کے نسخے بھاری نہ پڑ جائیں۔

Translate »
error: Content is protected !!