Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

29جولائی تک ریشن بجلی گھر پر کام شروع نہ کرنے کی صورت میں شندور روڈ بلاک کرنے کی دھمکی۔

July 24, 2017 at 9:37 pm

29جولائی تک ریشن بجلی گھر پر کام شروع نہ کرنے کی صورت میں شندور روڈ بلاک کرنے کی دھمکی۔ تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن مستوج کا پریس کانفرنس
چترال(بشیر حسین آزاد)تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن مستوج کے صدر نادر خان اور دوسرے عہدیدار عبدالرب،سید سردار حسین شاہ،نبی خان،کریم علی محمد نادر اور ابو لائث خان رمداسی نے پیر کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے29جولائی تک ریشن بجلی گھر پر کام شروع نہ کرنے اور ڈیزل جنریٹرزسے علاقے کو بجلی کی فراہمی شروع نہیں کی تو سب ڈویژن مستوج کے عوام شندور جانے والی سڑک بند کرکے خواتین اور بچوں کے ساتھ دھرنا دینگے۔جسکی تمام تر زمہ داری صوبائی حکومت،چترال انتظامیہ اور منتخب نمائندگاہ پر ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ2015کے سیلاب سے 4.2میگاواٹ کے ریشن بجلی گھر کا پاؤر ہاؤس سیلاب سے متاثر ہوا۔جس کے بعد عوامی حلقوں اور تحریک نے بجلی گھر کی بحالی کے لئے دھرنے دئیے بھوک ہڑتال کی گئیں صوبائی حکومت سے بجلی گھر کی بحالی کے لئے بار بار درخواستیں کیں مگر صوبائی حکومت نے مختلف بہانوں سے سب ڈویژن مستوج کے عوام کو ٹرخاتے رہے اورتا ایندام بجلی گھر کی بحالی پر کام شروع نہ ہوسکا۔اُنہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل صوبائی وزیراعلیٰ نے پارٹی چیرمین کے ساتھ دروش لاوی کے مقام پر69میگاواٹ بجلی گھر کا کاغذی افتتاح کیا اُنہوں نے سوال کیا کہ اگر صوبائی حکومت کے پاس فنڈ موجود ہے تو ریشن پاؤر ہاؤس کے4.2میگاواٹ کے بجلی گھر جس سے22ہزار گھرانے مستفید ہوتے تھے کی30فیصد کام مکمل کیوں نہیں کیا جاتا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈیزل جنریٹر لگانے کا فیصلہ کیا لیکن ایک جنریٹر گرین لشٹ کے مقام پر لاکر پڑی ہے اور اُسکے بعد مزید کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔اُنہوں نے کہا کہ تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن نے جنریٹر کی حفاظت کا زمہ لیا تھا لیکن ابھی محکمہ اپنی جنریٹر کی حفاظت کا خود بندوبست کریں،تحریک اس کے بعد جنریٹر کی حفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ پچھلے سالوں میں ہمارے بچے سکولوں میں فرسٹ پوزیشنز لیتے تھے لیکن ان دوسالوں میں بجلی کی عدم موجودگی میں ہمارے بچوں کے تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوگئے ہیں اور ایسی صورت حال میں ہم اپنے بچوں کو اگلے مہینے سکولوں میں جانے سے بھی روکے گے۔اُنہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال جشن شندور کے موقع پر وزیراعلیٰ نے علاقے کو سولر سسٹم کی فراہمی سمیت بجلی گھر کی بحالی کا اعلان کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہمارے جائز مطالبے کو منظور نہیں کیا تو ہم آخری حدتک جائینگے۔

Translate »
error: Content is protected !!