Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈسٹرکٹ انتظامیہ غیر قانونی فنڈز اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔۔محکمہ داخلہ

July 21, 2017 at 7:37 pm

ڈسٹرکٹ انتظامیہ،پولیس،قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی فنڈز اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔۔محکمہ داخلہ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) مشکوک افراد اور تنظیموں کی جانب سے مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لئے عطیات اور زکواۃ کی شکل میں فنڈز اکٹھا کرنے ،جو بالآخر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے خلاف اور نقصان دہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کئے جا نے کا احتمال ہو، اس لئے اس قسم کی سرگرمیوں کیلئے غیر قانونی فنڈز اکٹھا کرنے پر سخت نگرانی کرنے سے متعلق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی حکومت پاکستان سے موصول رہنما اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے ڈسٹرکٹ انتظامیہ،پولیس،قانون نافذ کرنے والے اداروں،خفیہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں غیر قانونی فنڈز اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس سلسلے میں عوامی آگاہی اور شعور کی بیداری کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں اور خفیہ مقاصد کے لئے فنڈز اکٹھاکرنے سے مکمل بچاؤ کے لئے کوششوں میں عام لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ان امور کااعلان محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے محکمہ ہائے اوقاف،صنعت اور اطلاعات کے سیکرٹریز،صوبائی پولیس افسر خیبر پختونخوا،صوبے کے تمام کمشنرز اور کمشنر افغان مہاجرین خیبر پختونخواکے نام لکھے گئے ایک باقاعدہ مراسلے میں کیا گیا ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی حکومت پاکستان کے رہنما اصولوں میں عوام کی آگہی کے لئے بنایا گیا ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ مساجد،مدارس یا مذہبی،خیراتی مقاصد کیلئے فنڈز جمع کرنے والے افراد،اداروں یا ان کے نمائندوں کی تحقیقات میں مقامی پولیس یا انتظامیہ یہ بات یقینی بنائے کہ کیا یہ قانونی طور پر کسی صوبائی یا وفاقی حکومت کے محکمہ کیساتھ رجسٹرڈ ہیں ،کیا کسی تنظیم،این جی او کے لئے فنڈز جمع کرنے والے افراد کو اس مقصد کے لئے اختیار دیا گیا ہے اور وہ پوچھنے پر اتھارٹی لیٹر دکھا سکیں،کیا ان کی یاداشت کی دستاویز میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کیا ایسی این جی اوز خیراتی مقاصد کے لئے قائم کی گئی ہیں اور یہ کہ یہ ان جی اوز عوام سے مطلوبہ فنڈز جمع کریں گی،کیا ان اداروں نے متعلقہ صوبائی یا وفاقی محکمہ جن کے ساتھ یہ رجسٹرڈ ہیں کو اپنے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع کرائے ہیں،محکمہ انتظامیہ یاپولیس کا ذمہ دار آفیسر کڑی نگرانی کے سلسلے میں یہ اطمینان کرے گا کہ جس ادارہ کیلئے فنڈز اکٹھے کئے جا رہے ہیں وہ انسداد ہشت گردی ایکٹ1997کے تحت کالعدم تو نہیں ہے۔فنڈز اکٹھے کرنیوالے فرد؍افراد کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ1997کی شیڈول چار کے تحت تو درج نہیں ہیں۔فنڈز جمع کرنے والے فرد؍افراد کا تعلق کسی فرقہ وارانہ یا عسکریت پسند تنظیم سے تو نہیں۔اگرفرد؍افراد کے نام اے ٹی اے،1997کے شیڈول IVکے تحت درج ہوں تو کیا اس نے اپنے علاقے کے پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او سے اپنا علاقہ چھوڑنے کی اجازت لی ہے ،اگر کوئی کالعدم تنظیم؍شخص فنڈز جمع کرنے میں ملوث ہو تو اس کے خلاف اے ٹی اے ایکٹ1997کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر فنڈز اکٹھاکرنے والا فرد؍افراد کے نام اے ٹی اے1997کے شیڈول چار کے تحت درج ہوں اور وہ اپنے آپ کو جائز بھی ثابت نہ کر سکے تو اس کے خلاف لوگوں کو تنگ کرنیکی بنیاد پر تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔فنڈز جمع کرنے کے لئے عطیات کیمپ کے قیام کیلئے اجازت نامہ مقامی انتظامیہ نے دیا ہوا ہو یہ اجازت نامہ فنڈز جمع کرنے کیلئے صحیح ہونے کی تصدیق کے بعد دیا گیا ہو۔

Translate »
error: Content is protected !!