Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترقی کا گیٹ وے۔… لواری ٹنل محمد شریف شکیب

July 20, 2017 at 4:36 pm

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جنوبی ایشیاء کی سب سے طویل سرنگ اور سینٹرل ایشیاء کے گیٹ وے لواری ٹنل کا افتتاح کردیا۔یہ ٹنل چترالی قوم کے لئے گیم چینجر ہے۔وہ دن دور نہیں۔ جب وسطی ایشیائی اسلامی ریاستوں کے ساتھ زمینی رابطوں کی وجہ سے چترال خطے کا اہم تجارتی روٹ بن جائے گا۔ جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ اہل چترال کو ملک کے باقی حصوں سے زمینی رابطے کے لئے سارا سال کھلارہنے والا راستہ مل جائے گا۔ تاہم دلی ہنوز دور است۔ لواری ٹنل پر تعمیراتی کام مکمل ہونے میں ابھی مزید ڈیڑھ سال لگے گا۔ توقع ہے کہ ٹنل کو عام ٹریفک کے لئے دسمبر2018تک کھولا جاسکے گا۔ لواری ٹنل کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جنرل منیجر کے مطابق لواری ٹنل کا الیکٹریکل، مکینکل اور سیفٹی ورک ابھی باقی ہے۔ ٹنل کے اندر 200جیٹ فین لگائے جائیں گے تاکہ گاڑیوں سے نکلنے والی کاربن مونو آکسائیڈ گیس کو مسلسل نکالا جاسکے۔ ٹنل کے اندر روشنی کا انتظام کرنے کے لئے پانچ میگاواٹ کے جنریٹر لگائے جائیں گے۔ جیٹ فین اور ہائی پاور جنریٹر چین سے درآمد کئے جائیں گے۔ ٹنل کے اندر گاڑیوں میں آگ لگنے یا حادثات کی صورت میں فوری امداد کی فراہمی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے سیفٹی نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ اور ٹنل کے اندر مختلف مقامات پر سیفٹی پلیٹ فارم بنائے جائیں گے۔ پہاڑ سے رسنے والے پانی کے اخراج، مختلف مقامات پر سینٹرل میڈیا اوردونوں سائیڈوں پر حفاظتی دیوار کی تعمیر کا کام بھی ابھی باقی ہے۔ پانچ ارب روپے کی لاگت کے ان منصوبوں کا ٹینڈر ہوچکا ہے تاہم کسی فرم کو تاحال ٹھیکہ اور ورک آرڈر جاری نہیں کیا گیا۔ اگر تعمیراتی کام بلاتعطل جاری رہا۔ تو ڈیڑھ سال بعدلواری ٹنل انٹرنیشنل سیفٹی کے معیار کے مطابق تیار ہوگی اور اسے عام ٹریفک کے لئے کھولا جاسکے گا۔ آنے والے موسم سرما میں بھی چترالیوں کو ہفتے میں دو دن بارہ بارہ گھنٹوں کے لئے لواری ٹنل استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ وزیراعظم نے قبل از وقت اس کا افتتاح سیاسی مقاصد کے تحت کیا ہے۔ ان کی حکومت کا لواری ٹنل کو فنڈز کی فراہمی میں اہم کردار ہے۔ جسے اپنے سیاسی مفاد کے لئے کیش کرنا ان کا حق بنتا ہے۔کیونکہ پانامہ کیس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں شاید انہیں لواری ٹنل کا کریڈٹ لینے کا موقع نہ مل سکے۔لواری ٹنل کی تعمیر کا خواب طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔ سب سے زیادہ قربانیاں چترال کے عوام نے دی ہیں۔ خطرناک برف پوش لواری درہ عبور کرنے کی کوشش میں اب تک چار ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ٹنل کے خواب کو تعبیر کا جامہ پہنانے والوں میں سب سے پہلا نام ذوالفقار علی بھٹو کا آتا ہے جس نے چترالی قوم کو ہندوکش کے قید خانے سے آزاد کرنے کے لئے 1975میں ٹنل کی تعمیر کا کام شروع کروایا۔ابھی ڈیڑھ کلو میٹر کھدائی ہوئی تھی کہ 1977میں جنرل ضیاء نے یہ منصوبہ ختم کردیا۔28سال بعد جنرل مشرف نے 2005میں لواری ٹنل کا منصوبہ دوبارہ شروع کروایا۔ 20جنوری2009کو ٹنل کی کھدائی کا کام مکمل ہوگیا۔ اگست 2011تک ٹنل ٹریفک کے لئے کھولنے کا پروگرام تھا۔ تاہم 2008سے 2013تک پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے قائد کے اس منصوبے کو پس پشت ڈال دیا۔ سالانہ ایک ارب روپے منصوبے کے لئے مختص کئے جاتے رہے جس میں سے ستر کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتے تھے۔اور تعمیراتی کام کے لئے صرف تیس کروڑ روپے بچتے تھے۔ جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف تھا۔ نواز شریف حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ 2014سے اب تک اسے مطلوبہ فنڈ بلاتعطل فراہم کیا جاتا رہا۔ اب تک اس منصوبے پر 23ارب روپے کی لاگت آئے گی مزید پانچ ارب روپے کی لاگت کا کام باقی ہے۔ لواری ٹنل کے لئے جن لوگوں نے جدوجہد کی انہیں یاد کرنا بھی زندہ قوم کی نشانی ہے۔ ان میں سابق ایم این اے اتالیق جعفر علی شاہ،مولوی محمد ولی، سید عبدالغفو ر شاہ،مولانا عبدالاکبر ، موجودہ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین اور پشاور میں مقیم چترالی صحافیوں کی تنظیم چترال جرنلسٹس فورم سرفہرست ہیں۔ جرنلسٹس فورم نے 2002میں لواری ٹنل کے لئے پشاور سے دستخطی مہم شروع کی۔چاروں صوبوں سے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینٹروں کے علاوہ سول سوسائٹی کے رہنماوں سے لواری ٹنل کے لئے بینر پر دستخط لئے گئے۔ یہ بینر صدر، گورنر، وزیراعلیٰ اور فوجی قیادت کو بھی پیش کئے گئے۔ مولانا عبدالاکبر بھی صحافیوں کی اس دستخطی مہم میں شامل رہے ہیں۔آج لواری ٹنل کا منصوبہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ اندھیروں سے اجالوں کے اس تکلیف دہ اور صبر آزما سفر کے ابھی ڈیڑھ سال باقی ہیں۔ وطن کی آن کے لئے سرمایہ جان کا نذرانہ پیش کرنے والے محب وطن چترالی عوام کا یہ حق تھا۔ جو انہیں ملنے والا ہے۔ چترالی قوم کی بے مثال قربانیوں کا یہ میٹھا ثمر انہیں مبارک ہو۔

Translate »
error: Content is protected !!