Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر اعلیٰ کی سی پیک منصوبے کے متاثرین کو زمینوں کا معاوضہ قانون کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت

July 18, 2017 at 9:53 pm

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی سی پیک منصوبے کے متاثرین کو زمینوں کا معاوضہ قانون کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت کی
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سی پیک منصوبے کے متاثرین کو زمینوں کا معاوضہ قانون کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں ڈائریکشن جاری کریں اور زمین کی قیمت یک سالہ کی بجائے Valuation Table کے مطابق دی جائے ۔ انہوں نے سی پیک منصوبے کی تعمیر کے دوران بھاری ٹریفک سے متاثرہ کس پل سے کوزہ بانڈہ اور کوزہ بانڈہ سے چھترپلین تک روڈزکی بعدازا ں تعمیر نو کا تخمینہ لاگت لگا کر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے این ایچ اے سے سی پیک کی وجہ سے صوبہ بھر میں متاثرہ سڑکوں کی فہرست بھی طلب کی ہے اور وہاں سی پیک روٹ کے مکمل ہونے پر اُن کی تعمیر نو کیلئے تخمینہ لاگت لگانے کی ہدایت کی ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں حاجی محمد یوسف ترند کی سربراہی میں ضلع بٹگرام کے نمائندہ وفد کے ساتھ اجلاس سے گفتگو کر رہے تھے ۔اس موقع پر ایم پی اے زرگل خان، ایم این اے قاری یوسف ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کمشنرہزارہ ، ڈپٹی کمشنر بٹگرام، جنرل منیجر این ایچ اے ایبٹ آباداور کیلکٹرآف سی پیک ہزارہ ریجن بھی موجود تھے ۔وفد نے متاثرین سی پیک کے مطالبات وزیراعلیٰ کو پیش کئے جن پر وزیراعلیٰ نے موقع پر ہدایات جاری کیں۔وفد نے سی پیک کے متاثرین کو زمین کا معاوضہ یک سالہ کی بجائے Valuation Table کی بنیاد پر دینے کا مطالبہ کیا جس پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام سے تفصیلات طلب کیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کریں ۔ جب Valuation Table کے مطابق عوام سے ٹیکس کمرشل بنیاد پر وصول کئے جارہے ہیں تو متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی بھی اُسی بنیاد پر کی جائے ۔ماضی میں اگر کوئی کام غلط ہوتا آرہا ہے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ غلط کام ٹھیک ہے۔ ہمیں اس روایت کو بدلنا ہے ۔ ہمارے سسٹم میں قانون کے خلاف کسی کام کی گنجائش نہیں۔عوام کے حقوق قانون کے مطابق اُن کی دہلیز پر دینے ہیں۔ ایس ایم بی آر اس سلسلے میں ہدایات جاری کرے جن پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ مکانات کے نرخ سی اینڈ ڈبلیو کے ریٹس کی بنیاد پر دینے کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ مکانات کے ریٹس سی اینڈ ڈبلیو کی اسسمنٹ کے مطابق لگائے جاتے ہیں۔اگر اسسمنٹ میں کہیں کمی بیشی ہو گئی ہو تو کیس ٹو کیس ڈیل کیا جائے۔اعتراضات کی صورت میں ری اسسمنٹ کی جائے ۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ زمینوں کی کیفیت میں بندوبست کے بعد بہت تبدیلی آچکی ہے۔لہٰذا موقع کے مطابق ادائیگی کی جائے ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ریکارڈ منگوا کرفیصلہ کریں اور معاملات کا ازسر نو جائزہ لیں اورزمین کی موجودہ کیفیت کے مطابق ادائیگی کی جائے ۔ انہوں نے سی پیک سے متاثرہ واٹر چینلز اور سپلائی سکیموں کی مرمت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔مقامی لوگوں کو سی پیک منصوبے میں روزگار دینے کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ چینی کمپنیوں کا اپنا ایک معیار ہے ۔وہ ٹیسٹ دینے کے بعد ہی مقامی لوگوں کو پراجیکٹ میں شامل کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے بات کریں تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار مل سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبے میں پولیس ایکٹ پر بہتر طور پر عمل درآمد کیلئے فوری طور پر قوائد و ضوابط تشکیل دیئے جائیں۔۔وزیر اعلیٰ
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ہدایت کی ہے کہ صوبے میں پولیس ایکٹ پر بہتر طور پر عمل درآمد کیلئے فوری طور پر قوائد و ضوابط تشکیل دیئے جائیں۔ وہ صوبے میں پولیس ایکٹ پر عمل درآمد سے متعلق آج وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری عابد سعید، آئی جی پی صلاح الدین محسود، امپلیمنٹیشن کمشنر طار ق عمر خطاب ، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار، سیکرٹری داخلہ سراج خان اور محکمہ قانون اور دیگر محکموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔پولیس ایکٹ کے تحت قواعد و ضوابط کی تشکیل، پرنسپل، علاقائی اور ضلعی سطحوں پر مختلف سیفٹی کمیشنز کی تشکیل کیلئے تقاضوں ، مختلف تقاضوں کی تکمیل اور عمل درآمد کے عمل سے متعلق اُمور کا تفصیلی جائزہ اور غور و خوض کیا گیا۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری حکومت نے عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق پولیس کو ایک آزاد ادارہ بنانے کا ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا ہے تاہم یہ آزادی بے قید اور مادر پدر آزاد نہیں ہونی چاہیئے اور اس میں پولیس فورس کے احتساب اور جوابدہی کیلئے خدمات کو مختلف سطح پر تحفظ دینا ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب پولیس فورس کے خلاف شکایات کی مختلف ٹائرز کمیشنز کی سطح پر بھر پور مانیٹرنگ کا نظام ہو۔ جواس فورس پر ایک چیک ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس ایکٹ پر بہترطورپر عمل درآمد کیلئے تمام سطحوں پر سیفٹی کمیشنز کی تشکیل کی رفتار تیز کی جائے اور کہا کہ پولیسنگ کے نظام کو موثر طور پر چلانے کیلئے سیفٹی کمیشن کے ممبران کو بھی اپنی کارکردگی فعال طو رپر دکھانی ہو گی ۔
پرویز خٹک نے مزید ہدایت کی کہ امپلیمنٹیشن کمشنر رہنمائی کیلئے ایک روڈ میپ دیں گے تاکہ صوبے میں پولیس ایکٹ پر عمل درآمد کے عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے اور یہ مکمل شکل میں قانون کے مطابق عوام کے مسائل کے حل کیلئے موثر ہو ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کو اختیارات اور آزادی دینے کے حکومتی فیصلے کے بعد جرائم کے گراف میں کمی لانے میں پولیس نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس کو آزادی اور خود مختاری دینا آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ ہماری سوچ ہے کہ اداروں کے قیام کے پیچھے مقاصد ہو تے ہیں اور جب یہ سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد ہوں تو تب ہی اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں اسی سوچ کو مدنظر رکھ کر ہم نے پولیس کو خود مختار فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہم نے اداروں کو خود مختار بنا کر متعدد قابل قدر کامیابیاں حاصل کیں اوراس کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم وہ تمام اقدامات کو قانونی شکل دیں تاکہ کامیابی کا عمل مکمل اور دیر پا ہو ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس فورس میں سزا وجزا کا عمل بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ مکمل طو رپر اپنی قانونی ذمہ داریوں سے انصاف کرسکیں۔ پولیس فورس میں احتساب کے عمل کو جامع اور حقیقت پسند بنانے کیلئے صوبائی، علاقائی اور ضلعی تمام سطحوں پر سیفٹی کمیشنز کی شکل میں مختلف سطح پر نگرانی اور مانیٹرنگ پولیس ایکٹ کے تحت لازمی ہے تاکہ پولیس فورس مکمل طور پر قوم کی خواہشات کے مطابق کام کر سکے ۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ امپلیمنٹیشن کمیشن کو دفتر سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کریں انہوں نے سیفٹی کمشنر کی تشکیل کو مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ۔جس میں حکومتی ، حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کے آزاد ممبران وغیرہ کی نمائندگی ہو گی ۔

Translate »
error: Content is protected !!