Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مکافات عمل ………..محمد شریف شکیب

July 18, 2017 at 9:43 pm

کراچی میں کسی کو زکام ہوجائے تو اسے کوئٹہ سے آنے والی ٹھنڈی ہواوں کا اثر سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ زکام ٹھنڈے پانی سے نہانے، دھوئیں، گرد و غبار ، موسم کی تبدیلی، خوراک اور وائرس کے اثر سے بھی تو ہوسکتا ہے۔ اپنا نزلہ دوسروں پر ڈالنا ہماری عادت بن چکی ہے۔ ہمارے صوبے میں کسی کو زکام ہوجائے تو اسے تحریک انصاف کی حکومت کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ بارش کی وجہ سے سڑکوں اور گلی محلوں میں پانی جمع ہونا، نالیاں ابل کر سڑکوں پر آنا، کچی زمین کا کیچڑبننا فطری امر ہے۔ لیکن دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے اسے حکومت کی ناقص کارکردگی کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ روز سوشل میڈیا ، اخبارات اور ٹی وی پر آکر لوگ تبدیلی کے نعرے کو کوستے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ایمرجنسی گیٹ کے باہر پارکنگ میں جمع ہونے والے پانی کی تصویر سوشل میڈیا پر بڑے دلچسپ کیپشن کے ساتھ ڈالی ہے۔ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے تبدیلی لانے کا اپنا ایک اور وعدہ پورا کردیا۔ حکومت نے صوبے میں ساڑھے تین سو چھوٹے ڈیم بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک ڈیم ایل آر ایچ کے شعبہ حادثات کے باہر تیار ہوگیا۔مزے کی بات یہ ہے کہ کسی کا بیٹا نافرمان ہوجائے ۔محلے والے گھر کا کوڑا کرکٹ گلی میں پھینکیں، پارکوں میں گندگی پھیلادیں ۔ دفتر میں کسی سے تکرار ہوجائے یا گھر میں میاں بیوی کی لڑائی ہو۔ اسے بھی حکومت کا قصور گردانا جاتا ہے۔ اپنی ذمہ داری کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اگر اولاد نافرمان ہوگئی تو اس میں حکومت کا نہیں بلکہ والدین کی پرورش اور گھریلو ماحول کا قصور ہے۔ ہم اپنے گھروں کو تو صاف رکھتے ہیں لیکن گھر کا کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینکتے ہیں۔ اپنے محلے، پارکوں، سڑکوں اور شہر کو صاف رکھنے کی اپنی سماجی اور قومی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ہاں اگر بجلی، گیس ، ٹیلی فون کے زائد بل آئیں۔غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو۔ عملہ صفائی کام نہ کرے۔ سرکاری دفاتر کے لوگ کام چوری کریں۔جائز کام کے لئے رشوت طلب کریں۔ بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روزبروز بڑھتی رہیں تو یہ حکومت کا قصور ہے۔ کیونکہ معاہدہ عمرانی کے تحت عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت،روزمرہ ضرورت کی اشیاء کے نرخ مقرر کرنا، قانون شکن عناصر کو سزا دیناحکومت کی ذمہ داری ہے۔ جس کے بدلے ملکی قوانین کی پاسداری ، اپنے ذمے ٹیکسوں کی ادائیگی شہریوں کے فرائض میں شامل ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حکومت اپنے ذمے کا کام نہیں کرتی۔ تو کیا ہم شہری ہونے کے ناطے اپنے ذمے کے فرائض پوری دیانت داری، ایمانداری اور قومی خدمت کے جذبے سے نبھاتے ہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو ہم حکمرانوں سے اپنے فرائض سو فیصد ادا کرنے کی توقع کیوں کر تے ہیں۔ جیسی قوم ہوتی ہے ان پر ایسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ اگر آج ہمارے حکمران بددیانت، کرپٹ، چور اور خیانت کار ہیں تو اصل خرابی ہم میں ہی ہے۔ ہم نے ہی تو ان لوگوں کو منتخب کرکے قومی ایوانوں تک پہنچایا ہے۔ کسی نے پیسے لے کر ووٹ دیئے، کسی نے برادری، مسلک ، قومیت اور لسانی بنیاد پر ووٹ دیئے۔ اگر ہم ووٹ دیتے وقت اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھریں اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ کا حق استعمال کریں تو مجال ہے کہ کوئی چور، بددیانت اور کرپٹ آدمی ایوان اقتدار تک پہنچے۔ووٹ لینے کے بعد یہی عوامی نمائندے ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ انتخابات قریب آتے ہی یہ نمائندے پھر نمودار ہوتے ہیں۔
جنازوں اور ولیموں میں شرکت کرتے ہیں۔ پارٹی قائدین کی مٹھی گرم کرکے ٹکٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر مسکین صورت بناکر عوام کے پاس ووٹ مانگنے آتے ہیں۔ گذشتہ دو عشروں میں ہم ایسے لوگوں کو بار بار آزماتے آئے ہیں۔لیکن انہوں نے ہمارے مسائل حل نہیں کئے۔ اپنے مفادات کے پیچھے ہی بھاگتے رہے۔ اپنا بینک بیلنس بڑھاتے رہے۔ اس کے باوجود ان کی غلطیاں اور کوتاہیاں نظر انداز کرکے اگر ہم انہیں ووٹ دیں گے تو ہم جیسا احمق کوئی نہیں۔ اور ہم اسی سلوک کے مستحق بن جاتے ہیں کہ ہمارا استحصال کیا جائے۔ ہمیں بنیادی شہری سہولیات سے محروم رکھا جائے۔ اگر ہم ذمہ دار شہری نہیں بنیں گے۔ تو حکمرانوں سے ذمہ داری نبھانے کی توقع بھی نہیں کرسکتے۔اگر ہر شہری اپنے حصے کا فرض ایمانداری اور دیانت داری سے نبھائے۔ تو پوری ریاست خود بخود سنور جائے گی اور حقیقی تبدیلی تب ہی نظر آئے گی۔

Translate »
error: Content is protected !!