Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صدا لصحرا ……. امریکی امداد پر قد غن؟….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

July 18, 2017 at 9:38 pm

کیا امریکی امدا د پر قد غن لگنے سے پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا ؟یہ سوال عام آدمی کی زبان پر ہے جو لوگ ریڈیو اور ٹی وی پر خبریں سنتے ہیں وہ زیادہ پریشان ہو جا تے ہیں اخبار پڑھنے والے لو گوں کو تصویر کے دوسرے رُخ کی خبر بھی مل جاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ امریکی امداد پر قد غن لگنے سے پاکستان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ امریکہ اور افغانستان کا نقصان ہو گا د و بنیادی حقائق کا ذکر خبروں میں نہیں آیا پہلی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے تاریخ میں کبھی پاکستان کی مدد نہیں کی دوسری حقیقت یہ ہے کہ امریکی امداد مفت میں نہیں ملتی تھی یہ امداد کراچی سے طور خم تک امریکی سازوسامان پہنچانے کی اجازت اوراس کا م میں پاکستان کی بے مثال خدمت کا حقیر سا معاوضہ ہے جس کو صدر بش کے دور میں ’’کو لیشن سپورٹ فنڈ ‘‘یعنی امریکہ کے اتحاد میں شامل ہو کر اپنی سر زمین ،اپنی شاہراہ اوراپنی چھاونی امریکہ کو دینے کا معاوضہ ہے صدر اوبامہ کے دور میں بھی معاوضہ یا مزدوری اسی نام سے پاکستان کو ملتی رہی ڈونلڈٹرمپ کی حکومت اوربھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے بعد امریکی کانگریس یعنی ایوان نمائندگان نے کولیشن سپورٹ فنڈ کو روکنے کا بل پاس کیا بل کے حق میں 344اور مخالفت میں 81ووٹ آئے اور یہ بل ایسے وقت پر پاس ہوا جب پاکستان کے اندر دشمن نے اگلے دوسالوں کے لئے بدامنی ،دہشت گردی ،بے یقینی اور سیاسی عدم استحکام کا بیچ بویا ہوا ہے اگر پانامہ کیس کے بے معنی اور نان ایشو مباحث کو چھوڑ کر پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے امریکہ کو افغانستان کی جنگ کے لئے دی گئی مراعات واپس لینے کا قانون پاس کیا جائے تو امریکیوں کا دماغ ٹھکانے آجائے گا ایک مہینے کے لئے امریکی فوج کو پاکستان کی طرف سے جانے والی امداد روک دی گئی کراچی کی بندرگاہ بند کردی گئی کراچی کا راستہ بند کر دیا گیا تو امریکہ گھنٹے ٹیک دے گا مگر امریکہ اور بھارت کو علم ہے کہ اگلے دو سال پانامہ کے ہنگامے کی نذر ہو جائیں گے اور پاکستان کو اپنے ملکی مفادات کے تحفظ کی فرصت نہیں ملے گی اس لئے موقع کو غنیمت جان کر امریکیوں نے سو چے سمجھے منصوبے کے تحت وار کرنے کا فیصلہ کیا اگر پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ 68سالوں کے پاک امریکہ تعلقات میں 1949سے 2017تک امریکی امداد سے پاکستان میں ایک کلو میٹر سڑک نہیں بنی ایک پرائیمری سکول تعمیر نہیں ہو ا ایک چھوٹی سی ڈسپنسری تعمیر نہیں ہوئی پینے کے پانی کا ایک نلکا نہیں لگا پاکستان کے طول وعرض میں امریکی امداد سے مکمل ہونے والے ایک لاکھ روپے کی ترقیاتی عوامی فلاحی سکیم کوئی نہیں دکھا سکے گا حقیقت میں کوئی سکیم ہے ہی نہیں لوگ آپ کو جاپان کا پُل دکھا ئنیگے چائینہ کی سکیمیں دکھائینگے ،سعودی عرب ،ایران ،کویت،برطانیہ ،فرانس،جرمنی اور دیگر ممالک کی سکیمیں دکھائینگے امریکہ کی سکیم کوئی نہیں دکھا سکتا سیا ستدانوں کے سیر سپاٹے ہوتے ہیں افیسروں کے سیر سپاٹے ہوتے ہیں سکول اور کالج کے قابل بچوں کو ایک سال یا 10مہینہ کسی امریکی کے گھر میں مہمان رکھ کر پوری زندگی کیلئے ،کاروبار ،کیریر اور بہتر مستقبل سے محروم کیا جاتاہے 5سال بعد وہ نوجوان عبرت کا نمونہ بن جاتے ہیں اور پکارتے ہیں
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ اُدھر کے رہے نہ ادھر کے ہم
ایوان نمائندگان یعنی امریکی کانگریس نے دفاعی بل کے نام سے جو قانون منظور کیا ہے اس کے دو حصے ہیں پہلا حصہ پاکستان کو دی جانے والی کولیشن سپورٹ فنڈ پر قد غن ہے یعنی جب تک پاکستان امریکی میڈیا کے ہیروڈاکٹر شکیل افریدی کو امریکہ جانے کی اجازت نہیں دیتا جب تک امریکہ حافظ سعید ،سید صلاح الدین اور کشمیری حریت پسندوں سے تعلق رکھنے والے مطلوبہ لیڈروں کو امریکہ کے حوالے کر کے امریکی محکمہ دفاع سے سر ٹیفیکٹ نہیں لیتا تب تک کو لیشن سپورٹ فنڈ نہیں ملے گا دوسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو امریکہ کی طرف سے دفاعی عمور میں اہم شراکت دار اور اتحادی کا درجہ دیا جائے گااور بھارت کی ہر دفاعی ضرورت پوری کی جائے گی اس قانوں کے جواب میں پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں نئی قانون سازی کر کے امریکہ کو دی گئی تمام مراعات واپس لینی چاہیے فیصلہ ہونا چاہیے کہ امریکہ کا کوئی سازوساما ن کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان نہیں جائے گا 50نفر پر مشتمل محدود سفارتی عملے کے سوا کسی امریکی کو پاکستان میں رہنے اور گھومنے کی اجاز ت نہیں ہو گی امریکہ کے ساتھ افیسروں کی تربیت اورطلبا وطالبات کی تعلیم یوتھ ایکسچینچ پروگرام کے تمام معاہدے منسو خ کئے جائنگے جب یہ فیصلہ آئے گا تو امریکہ کو معلوم ہو گا کہ اس کے 10 ہزار شہری پاکستان سے نکال دیئے گئے اُس کے دفترات اور قونصل خانے بند کر دئے گئے تب پاکستان کووہ آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے عزت واحترام کے لائق سمجھنے لگینگے سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا قول ہے کہ ’’امریکہ وہ بھینس ہے جس کو لات نہ ماروگے تو دودھ نہیں دیگی ‘‘اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی حکومت امریکی انتظامیہ کو لات مارکر دودھ حاصل کرے خدا کیلئے پانامہ کے ہنگامے کو بھول جاؤ پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اُٹھاؤ

Translate »
error: Content is protected !!