Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خود کشی کے بڑھتے واقعات…. محمد شریف شکیب

July 17, 2017 at 9:33 pm

پاکستان میں گذشتہ دو سالوں کے اندرخود کشی کے تین سو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔جن میں پچاس فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں رونما ہوئے اور اس صوبے میں خود کشی کے واقعات میں ملک کا سب سے پرامن اور شرح خواندگی کے لحاظ سے سرفہرست ضلع چترال پہلے نمبر پر ہے جہاں گذشتہ تین سالوں کے اندر خود کشی کے چالیس سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔ شہری علاقوں میں خود کشی کے واقعات کی وجوہات دیہی علاقوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات قتل کے واقعات کو خاندان کی ساکھ کی خاطر خود کشی کا نام دیا جاتا ہے۔ خاتون کو سسرال میں قتل کرکے اس پر بدکاری کا الزام لگاکر خود کشی کا رنگ دیا جاتا ہے۔لیکن دیہی علاقوں میں خود کشی کے واقعات نقلی نہیں بلکہ اصلی ہوتے ہیں۔ حال ہی میں بونی میں ایک نوبیاہتا جوڑے نے خود کو دریا کی موجوں کے حوالے کیا۔ مرد کو بچا لیا گیا مگر خاتون لاپتہ ہوگئی۔ اسی دوران بلچ اور گرم چشمہ میں دو طالبات نے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں توقع سے کم نمبر آنے پر خود کشی کرلی۔جرائم کے لحاظ سے ملک کے سب سے پرامن ضلع میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات مقامی انتظامیہ، پولیس، محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار، حکومت ، غیر سرکاری تنظیموں اور طب کے شعبے سے وابستہ افراد کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ذہنی صحت کے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ چترال میں زلزلے اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار نہ ملنا، غربت اور تنہائی کا احساس نوجوانوں کو ذہنی طور پر ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں۔اکثر لوگوں کو ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذہنی بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر ان کا مناسب علاج کیا جاسکے۔ بصورت دیگر ذہنی بیماریاں نوجوانوں کو خود کشی جیسے انتہائی اقدام پر مائل کرتی ہیں۔عمومی طور پر خود کشی کے واقعات کے محرکات میں بے روزگاری، غربت، تنگ دستی، بے گھر ہونا، سماجی مسائل ، گھریلو ناچاقی، ذہنی دباواورناموافق گھریلو ماحول شامل ہیں۔ جن سے نجات کے لئے زیادہ تر نوجوان منشیات استعمال کرکے وقتی طور پر ذہنی سکون کے متلاشی نظر آتے ہیں اور کچھ لوگ ذہنی سکون اور دل بہلانے کا کوئی دوسرا راستہ نہ پاکر اپنی ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گل کردیتے ہیں۔ملک کے دوسرے حصوں میں خود کشی کرنے والوں میں دو تہائی مرد اور ایک تہائی خواتین شامل ہیں لیکن چترال میں مردوں سے زیادہ خواتین اور نوعمر لڑکیوں کی خود کشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔چترال کے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ چرس، افیون، شیشہ، ہیروئن، دیسی شراب اور سیگریٹ کے استعمال میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ ایک صحافی دوست کے مطابق چترال شہر میں دریا کنارے رات کو نشے کے عادی نوجوانوں کا اجتماع روز کا معمول ہے۔ چترال شہر کے علاوہ ہر گاوں اور قصبے میں راتوں کو ایسی محفلیں جمتی ہیں۔ منشیات کی کھلے عام دستیابی پولیس اور انتظامیہ کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ تاہم اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے ۔ جو اپنی اولاد کی نشست و برخاست اور حرکات و سکنات سے دانستہ یا نادانستہ طور پر غافل رہتے ہیں۔ زیادہ تر ان گھرانوں کے بچے راتوں کو غائب رہتے ہیں۔ جن گھروں میں سازگار ماحول کا فقدان ہوتا ہے۔بچوں کووالدین کے سامنے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یا بات کرنے پر انہیں ڈانٹ پلا کر چپ
کرایا جاتا ہے اور ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کے حلقہ احباب سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔کچھ والدین یہ سوچ کر بچوں کو ڈھیل دیتے ہیں کہ جوان ہوکر خود ہی راہ راست پر آجائیں گے ۔ لیکن بری صحبت جوان ہونے تک انہیں اتنا بگاڑ چکی ہوتی ہے کہ وہ ماں باپ کی ایک نہیں سنتے۔ اپنی من مانی کرتے ہیں۔ روکنے کی کوشش کی جائے تو اپنی زندگی ختم کرنے پر تل جاتے ہیں۔علمائے کرام، مذہبی رہنماوں اور اساتذہ کرام بھی نوجوان نسل کی اصلاح کی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان بے راہروی کا شکار اور پورے معاشرے کے لئے ناسور بن جاتے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!