Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں خودکشی کے بڑھتے واقعات، وجوہات اور تدارک …. زکریا ایوبی

July 15, 2017 at 8:55 pm

چترال میں خودکشی کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں بونی کے مقام پر ایک جوان سال شادی شدہ خاتون دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ خاتون کے شوہر نے بھی خودکشی کی کوشش کی جسے مقامی افراد نے ناکام بنادیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے گھریلو ناچاقی کارفرما تھی ۔ اس سے پہلے بلچ اور گرم چشمہ میں بھی نوعمرلڑکیوں کی خودکشی کے واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے میٹرک کے امتحانات میں کم نمبر آنے پر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر دیا۔ ان تمام واقعات کا جائزہ لیا جائے تو تین بڑی وجوہات کارفرما ہیں جن میں سے سرفہرست گھریلو ناچاقی ہے۔ذہنی بیماریاں اور امتحانات میں ناکامی بھی ان واقعات کی وجہ بنتی ہیں جبکہ بچوں کی جبراََ شادی بھی خصوصاََ چترال میں خودکشیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہمارے اس سوچ کو پنپنے میں معاشرتی رویے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بچوں پر پڑھائی کے لیے اور اچھے نمبر حاصل کرنے کے لیے اتنا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ معمولی ناکامی کو بھی سہنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔اکثر والدین اپنے بچوں کا موازنہ محلے یا گاؤں میں موجود دوسرے بچوں سے کرتے ہیں اور ان پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگرآپ کے نمبر فلان کے بچے سے کم گئے تو تمھاری خیر نہیں۔ ایسے میں وہ بچہ اپنے مد مقابل سے کم نمبر حاصل کرلے تو وہ اتنا مایوس ہوتا ہے کہ اس کے لیے والدین اور معاشرے کا سامنا کرنے سے زندگی کا خاتمہ زیادہ آسان لگتا ہے۔
گھریلو ناچاقی کی بات کی جائے تو لڑائی جھگڑے ہر گھر اور ہر خاندان میں ہوتے ہیں لیکن ان جھگڑوں کو سلجانا گھر کے بڑوں کا کام ہے۔ ہمارے معاشرے میں والدین اور بچوں میں دوستی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اکثر بچے اپنا کوئی بھی مسئلہ والدین سے شیئر کرنے سے کتراتے ہیں۔ خاندان کے بڑے بھی ایسا برتاؤ کرتے ہیں کہ بچے ان کے سامنے کھل کر بات ہی نہیں کر سکتے۔ بڑوں کی کوشش ہوتی ہے کہ خاندان پر اس کی اجارہ داری قائم رہے اور گھر میں وہی ہو جو وہ چاہتا ہے۔ ایسے ماحول میں بچوں کو یا گھر کی خواتین کو کوئی مسئلہ درپیش آتا ہے تو ان کی رہنمائی کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں ہوتا۔
زبردستی کی شادی خودکشیوں کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی رائے معلوم کرنا تو تقریباََِ ناپید ہے جبکہ لڑکوں کو بھی اکثر ان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ بات حق بجانب ہے کہ بچوں کے مستقل کا فیصلہ والدین کریں تو بہتر ہے لیکن بچے اس شادی پر راضی ہی نہ ہوں تو والدین صرف اپنا رعب جمانے یا رشتہ داری نبھانے کی خاطر اپنی اولاد کے مستقل کو دھاؤ پرلگاتے ہیں۔ اسلامی تناظر میں دیکھا جائے تو رسول پاک ﷺ سے زیادہ سمجھدار کون ہو سکتا ہے اور حضرت علیؓ سے اچھا داماد کس کا ہوسکتا ہے؟مولانا طارق جمیل صاحب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے لیے جب آپﷺ کی بیٹی فاطمہؓ کا ہاتھ مانگا گیا تو انہوں نے فوراََ ہاں نہیں کیابلکہ گھر جا کر پہلے اپنی بیٹی سے ان کی رائے معلوم کی اور اثبات میں جواب ملنے کے بعد ہاں کہہ دیا۔ تو کیا آج کے والدین معاذ اللہ آپ ﷺ سے بھی زیادہ سمجھدار ہیں جو بچوں سے پوچھنا گوارا نہیں کرتے؟
رہی بات ذہنی بیماریوں کی تو اس کی بڑی وجہ منشیات کا استعمال ہے جو کہ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناسور بنتا جارہا ہے۔ ہمارے گاؤں کے لوگ باہمی اتفاق سے اگر مچھلیوں اور جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی لگا سکتے ہیں تو کیا اپنے علاقے میں چرس کا کاروبار کرنے والوں پر قدغن نہیں لگا سکتے؟ ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے افراد کو اس آپشن پر غور کرنا چاہیے۔ اس معاشرتی بیماری کو روکنے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ تمام وجوہات ایسی ہیں کہ معمولی توجہ اور احتیاط سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں۔ تعلیمی اور دیگر معاملات میں بچوں پر غیر ضروری دباؤ دالنے سے گریز کریں۔ گھر میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ ہر چھوٹا بڑا اپنے مسائل خاندان کے سربراہ کے سامنے پیش کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں۔ والدین اور اساتذہ بچوں کے سامنے سیگریٹ نوشی سے پرہیز کریں تاکہ بچوں کے ذہن میں اس طرف جانے کا خیال ہی پیدا نہ ہو۔

Translate »
error: Content is protected !!