Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امریکی امداد کے لئے پیشگی شرائط ….. محمد شریف شکیب

July 15, 2017 at 8:56 pm

امریکی کانگریس کے پینل نے پاکستان کو دی جانے والی مالی امداد ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی اور ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے سے مشتروط کردی ہے۔ پینل نے ریمارکس دیا ہے کہ پاکستان سے یہ بیان حلفی لیا جائے کہ وہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف عسکری سرگرمیوں کی حمایت نہیں کر رہا۔ پاکستان کی فوجی قیادت اور ایجنسیاں ملک کی سیاست اور عدالتی نظام میں ماورائے قانون مداخلت نہیں کر رہیں۔ حکومت حقانی نیٹ ورک، کوئٹہ شوریٰ طالبان، لشکر طیبہ، جیش محمد، القاعدہ اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی مدد اور حمایت نہیں کر رہا۔ یہ ضمانت بھی پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے گا۔ یہ ضمانتیں دینے کے باوجود بھی پاکستان کو دی جانے والی تین کروڑ تیس لاکھ کی امداد روکی جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’ ڈو مور‘‘ کا تقاضا بھی تواتر کے ساتھ کیا جارہا ہے۔نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں رضاکارانہ حصہ دار بننے کی پاداش میں پاکستان کو 50ہزار افراد کی شہادت کا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے جن میں چھ ہزار سے زیادہ سیکورٹی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ 80ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے جن میں سے ہزاروں زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے۔ لاکھوں افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔ اب تک پاکستان کو 107ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ دار بننے کے انعام میں اب تک بیس ارب ڈالر سے زیادہ پاکستان کو نہیں ملے۔بم دھماکوں، خود کش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے 42فیصد آبادی کا معیار زندگی غربت کی لکیر سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملوں کے بعد کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان نہیں آئی۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دیا تھا۔ اب یہ اعزاز بھی پاکستان سے واپس لیا گیا۔امریکہ میں کچھ حلقے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن ریاستی پالیسیوں میں پاکستان کے حوالے سے نرم گوشہ نہیں پایاجاتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں مزید سرد مہری آئی ہے ۔ جس کی بڑی وجہ خود ہماری خارجہ پالیسی میں جھول ہے۔ جس ملک کا کوئی مستقل وزیر خارجہ ہی نہ ہو۔ اس ملک سے خارجہ تعلقات میں کسی کامیابی کی توقع کیونکر کی جاسکتی ہے۔بھارتی وزیراعظم اور ان کی سفارتی ٹیمیں مسلسل پاکستان کے خلاف لابنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ کا قائل کرلیا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک خود ارادیت دراصل بھارت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پاکستانی ایجنسیوں کی تحریک کا حصہ ہے۔ٹرمپ کو شاید مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کا علم نہیں۔ انہیں شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ خود بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے اعتراف کیا تھا کہ کشمیریوں کواپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اور تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔ ٹرمپ کو مودی نے شیشے میں اتار کر بوتل میں بند کردیا۔بھارت سوا ارب کی آبادی کا ملک ہے۔ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنا ہر ترقیافتہ ملک کی ترجیح ہوتی ہے۔ امریکہ اگر
بھارت کے ساتھ سول جوہری توانائی اوراربوں ڈالر کے اسلحہ کی فروخت کا معاہدہ کرتا ہے تو یہ اس کی مجبوری ہے۔ مگر اسے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے کردار کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔لیکن اس حقیقت کا امریکہ کو ادارک سفارتی طریقے سے کرانا ہوگا۔ اگر امریکہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہا ہے۔ تو کچھ ہماری بھی کوتاہیاں ہیں ۔ہم نے خود کو بھکاری بنادیا ہے۔ یو ایس ایڈ کے علاوہ کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امداد، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، پیرس کلب اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضہ لینے کے لئے ہمیں امریکہ سے سفارشی چھٹی لانی پڑتی ہے۔ اور بھکاریوں کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو ہمارے لوگوں کے ساتھ امریکہ میں ہوتا ہے اور جو ہمارے وزیراعظم کے ساتھ سعودی عرب میں ہوا ہے۔ شہر کے لوگ ظالم ہی سہی۔ خود ہمیں بھی مفت میں مرنے کا شوق ہوتا ہے۔پھر کسی سے گلہ کیا کرنا؟؟

Translate »
error: Content is protected !!