Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ تحریر : اقبال حیات آف بر غذی

July 14, 2017 at 10:37 pm

ایک صاحب ثروت مغرور شخص کا وقت کے ایک ولی سے ملا قات کا اتفاق ہوتا ہے ۔ دوران گفتگو اس شخص کی طرف کوئی خاص التفات نہ ہونے اور بے نیازی کا مظاہر ہ دیکھنے کو ملنے پر اس کے دماغ میں انانیت کے جراثیم مچلتے ہی سوال کر بیٹھے ہیں کہ شاید آپ نے مجھے نہیں پہچانا ؟ ان کی طرز تکلم سے ان کی اندرونی کیفیت کو بھانپتے ہو ئے وہ نیک انسان مسکرا کر کہتے ہیں کہ ایک ہی حیثیت اور نو عیت کے حامل ہونے کے ناطے ایک دوسرے سے شناسائی نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ۔ ہماری ابتدا پانی کے ایک ایسے قطرے سے ہو تی ہے جو کپڑے پر ٹپکنے کی صورت میں صابن سے دھونے کے باوجود دل کی کراہت ختم نہیں ہو تی اور کپڑے کے اس حصے کو کاٹ کر پھنکنے کو جی کر تا ہے ۔ ہماری انتہا کی کیفیت یہ ہے کہ جب روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے اور بے جان و جود کو ایک دن کے لئے زمین کے اوپر چھوڑا جا ئے تو اس کے تغفن سے لوگ ناک پکڑنے پر مجبور ہو نگے ۔ اور درمیان کیفیت یہ ہے کہ پوری زندگی پیٹ میں گندگی لئے پھرتے ہیں ۔ اگر اس گندگی کی نکاسی کا راستہ بند ہو جائے تو ہماری ایسی چیخ نکلے گی کہ زندہ لوگ کانوں میں انگلیا ن ڈالنے پر مجبور ہو نگے ۔
انسان کی حقیقی حیثیت کے حامل ان چند جملوں پر اگر غور کیا جائے تو مٹی کے اس پتلے کے کبر و نخوت کے انداز پر حیرت ہو تی ہے حالانکہ مٹی بذات خود ملایمیت اور عاجزی کی صفت سے مامور ہو تی ہے ۔ یہ خود پر اکڑ کر چلنے والوں کی ٹانگیں نہیں کھنچتی ۔ کسی کا خون ناحق بھی خود میں جذب کر لیتی ہے اور اپنے سینے پر گناہ عظیم کا ارتکاب کر نے والے مجرموں کے جرائم سے بھی پردہ اٹھانے سے ا حتراز کر تی ہے اور اپنے سینے پر کھدال ما رنے والوں کا گریبان پکڑ کر بھی چاک نہیں کر تی ۔
لیکن یہ ایک حضرت انسان ہے جو زمین کی صورت میں اپنی ماں کی روش سے ہٹکر مٹی کی تضحیک کر تے ہو ئے اس کی بنی انسان کی تعظیم کے ربانی حکم سے انکار کر نے والے زاندۂ درگا ہ شیطان کا شکار ہو تا ہے کبھی کبرو نخوت سے خدائی کا دعویدار بن جا تا ہے اور کھبی حقیقی مغنون میں خدا کی ذات پر کامل ایمان کے بغیر نبوت کے اعلان کر نے کی جرات کر تا ہے اور کھبی مالی استطاعت کے حامل ہو کر مفلوک الحال افراد کے سامنے اکڑ کر اپنی بڑھائی دکھانے کی کو شش کر تا ہے ۔ حالانکہ فرغون کی لاش (ممی) پر نظر پڑنے کے بعد اسکی بے حس وجود اورکھلے ہو ئے منہ کی خاموشی انسان کی حیثیت کو نما یا ن کر نے کے لئے کافی ہے ۔ اور قارون کا پنے بے حساب خزانے کو چھوڑ کر خالی ہاتھ جا نا مال و دولت کے بارے میں انسانی تصور کی حماقت کا آئینہ دار ہے ۔ ہا مان کا اپنے تدبر کے ذریعے خود کو موت کے چنگل سے بچانے میں نا کامی عقل و خرو کے دعوے کی حیثیت کا بین ثبوت ہے ۔
مختصر یہ کہ ان لو گوں پر حیرت ہو تی ہے جو ریح کی صورت میں ہوا کو بھی اپنی خواہش سے خارج کر نے کی استطاعت نہ رکھتے ہو ئے بھی زمین پر نا ز و نخرے اور اکڑ خوانی کر تے ہوئے شرم محسوس نہیں کر تے اور انکی آنکھیں اپنی جسم کی مٹی کی طرف نیچے ہو نے کا نام نہیں لیتیں ۔ حالانکہ بقول قر آن ایسے لوگ زمین کو نہ چیر سکتے ہیں اور نہ پہاڑوں کے برا بر اونچی ہو سکتے ہیں ۔

Translate »
error: Content is protected !!