Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وفاقی حکومت کی طرف سے ترقیاتی کام کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔شہزادہ افتخار الدین

July 14, 2017 at 11:35 pm

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جولائی 2015 ء میں گولدور کے مقام پر سیلاب میں بہہ جانے والے پیدل پل کی جگہ دوبارہ پل بنانے کا حصہ چترال سے رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین کے حصے میں آئی جس نے جمعہ کے دن کام کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب ضلعی حکومت اور دوسرے ذمہ دار عوامی نمائندے اس چھوٹے لیول پر انفراسٹرکچر عوام کو دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں آگے آنا پڑگیااور اب وہ ضلعے کے طول وعرض میں چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے ذریعے عوام کو سہولیات پہنچانے کا کام شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر ضلعی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریاست مدینہ کی طرز پر حکومت قائم کرنے کے دعویدار اب چترال میں نریندر مودی کا کردار ادا کررہے ہیں جوکہ شرمناک اورترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ انہوں نے اپنے دورممبری میں انجام دئیے گئے ترقیاتی کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف کا چترال کی طرف خصوصی توجہ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے عوام احسان شناس ہیں اور وہ احسان کا بدلہ دینے میں اپنی کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔ شہزادہ افتخار نے لواری ٹنل پراجیکٹ اور گولین گول ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ پر کام کی بروقت تکمیل کے لئے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی پر نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کی توجہ دلانے پر ان دونوں میگاپراجیکٹوں کے لئے فراخدلانہ ایلوکیشن کے ساتھ ساتھ چترال کے اندر پہلی مرتبہ بین الاقوامی معیار کی سڑکوں کا جال بچھانے کے لئے چترال شندور ، چترال گرم چشمہ ، ایون بمبوریت کے ساتھ ساتھ بونی بزند روڈ کی تعمیر کی منظوری دے کر اس علاقے پر عظیم احسان کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کے ایم این اے کی حیثیت سے انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے ترقی کے ہر سیکٹر میں ترقیاتی کام کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور چترال کے کونے کونے میں موبائل فون سروس کی فراہمی، چترال ٹاؤن میں واپڈا پاؤر ہاؤس کی اپ گریڈیشن، ریڈیو پاکستان چترال میں طاقتور ٹرانسمیٹر کی تنصیب شامل ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نواز شریف پر کیچڑ اچھالنے والے اپنے صوبے کے عوام کو سہولیات کی فراہمی اور گڈ گورننس دینے میں ناکام ہوگئے ہیں جس کا ثبوت ہر سال غیر استعمال شدہ فنڈز کی بڑی مقدار میں واپس ہونا ہے جوکہ اس سال 54فیصد ہے۔ جبکہ انکی حکومت کے پہلے سال 97آرب ، دوسرے سال 129آرب اور تیسرے سال 140آرب روپے لیپس ہوئے ۔جو انکی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایم این اے نے مذید کہا کہ انکی کوششوں سے چترال کے تمام میگاپراجیکٹس مکمل ہوگئے ہیں اوربعض پر چند مہینوں کے اندر کام شروع ہوجائیگا۔لہذا اب آئندہ الیکشن میں لواری ٹنل، نہر آتھک، گیس ڈپو، بجلی، چترال یونیورسٹی اور سڑکوں کی تعمیر کا نعرہ ختم ہوگئے ہیں ۔ اس موقع پر ضلع کونسل کے رکن شہزادہ خالد پرویز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جبکہ علاقے کے عام کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ دو برسوں سے مذکورہ پیدل پل کی تعمیر کیلئے ہر ایک کے پاس گئے مگر کہیں سے بھی شنوائی نہیں ہوئی ۔ انھوں نے ایم این اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انھیں روزانہ ہسپتال اور سکول جانے کیلئے ندی پار کرنے کیلئے سینکڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے تھے۔

Translate »
error: Content is protected !!