Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوشل میڈیا ۔۔۔۔ محمد شریف شکیب

July 14, 2017 at 10:52 pm

سوشل میڈیا سے ہمارے بہت سے دوست نالاں نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر بازاری قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جاتی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر انسان کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا سماجی رابطوں کا ایک آسان ذریعہ ہے۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک سب کو اس تک رسائی حاصل ہے۔ دنیا کے ایک کونے کی خبر، تصویر اور فوٹیج چند لمحوں میں دنیا کے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ اس کا استعمال ہم کن مقاصد کے لئے کرتے ہیں یہ ہم ہی پر منحصر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض خبروں، حالات اور واقعات کو جس طرح دلچسپ انداز میں پیش کیا جاتا ہے وہ لوگوں کے لئے تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔حال ہی میں سابق امریکی صدر بارک اوبامہ اور سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کے درمیان مکالمہ تخلیق کیا گیا ہے۔ بارک اوبامہ ہیلری کو لطیفہ سناتے ہیں کہ پاکستان میں ایک سیاست دان ایسا بھی ہے جس نے 2006میں سعودی عرب کے شہرجدہ میں واقع اپنا سٹیل مل بیچ کر اس رقم سے 1992میں لندن فلیٹ خریدے۔ اسی پر بس نہیں کیا۔ اسی سیاست دان نے 1969میں اتفاق فاونڈری کے نام سے فیکٹری بنائی جہاں انہوں نے اسلحہ تیارکرکے1965میں پاکستانی فوج کے حوالے کیا۔ پاک بھارت1965کی جنگ انہی اتفاق فاونڈری کے ہتھیاروں سے لڑی گئی اور پاکستان اس جنگ میں فتح یاب ہوا۔یہ لطیفہ سناتے ہوئے اوبامہ کی ہنستے ہنستے ہچکی بندھ گئی اور ہیلری سے کہا کہ مجھ سے مزید بولا نہیں جاتا۔ اگلا لطیفہ آپ سنائیں۔ جس پر ہیلری اپنا لطیفہ سناتی ہے کہ ترقی کا یہ سفر جو جدہ سے شروع ہوا تھا۔ کامیابی سے جاری رہا۔ اسی سیاست دان کی بیٹی مریم نے اپنے باپ کے ریکارڈ بھی توڑ دیئے۔انہوں نے 2017میں ایجاد ہونے والے انگلش فونٹ کیلیبری میں 2006میں ہی اپنے کاروبار کے کاغذات بنوائے اورفونٹ بننے سے گیارہ سال پہلے اس کا استعمال کرکے دنیا کو حیران کردیا۔ اس قسم کے بہت سے شگوفے آپ کو سوشل میڈیا پر ہی ملیں گے۔ کچھ لوگ اپنا غصہ بھی سوشل میڈیا پر آکر اتارتے ہیں۔ ایک مظلوم شوہر کا لطیفہ دیکھنے کو ملا۔ بیگم اس سے کہتی ہے کہ اوپر والی الماری سے سامان اتارو۔ میرا قد چھوٹا ہے۔ نہیں پہنچ پاتی۔ میاں نے کہا تو زبان سے ہی ٹرائی کرلیتے۔ تمہاری زبان تو تین گز لمبی ہے۔سوشل میڈیا تو سپرسٹور کی مانند ہے جہاں آپ کو ضرورت کی ہر چیز ملتی ہے۔ ادبی ذوق رکھنے والوں کے لئے خوبصورت ادب پارے ہیں تو مذہبی رجحانات رکھنے والوں کے لئے قرآن و سنت اور اللہ اور رسول کی باتیں اور اسلامی معلومات بھی ہیں۔ راتوں رات دولت مند بننے کے وظائف بھی ہیں۔ شوہر کو قابو میں رکھنے اور بیوی کو مٹھی میں بند رکھنے کے گر بھی یہاں دستیاب ہیں۔عوامی مسائل کی تصویری جھلکیاں بھی یہاں پوسٹ کی جاتی ہیں اور پھر فارع لوگ اس پر تبصرے شروع کرتے ہیں۔بعض جذباتی قسم کی چیزیں بھی پوسٹ کی جاتی ہیں اور نیچے لکھا جاتا ہے کہ اگر شیطان نہ روکے تو اسے لائیک کریں۔کبھی کبھار ماسیاں اور خالائیں بھی خوبصورت دوشیزاوں کی تصاویر پوسٹ کرتی ہیں اور فرینڈ ریکوئسٹ کی دعوت عام دیتی ہیں۔ پھر بڑھاپے میں دوستی کے مزے لوٹتی ہیں۔ ایسی دوستیاں بعض اوقات سانحاتی شادیوں پر بھی منتج ہوتی ہیں۔اب انتقال کی خبریں دیکھنے کے لئے اخبار پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ سوشل میڈیا پر انتقال پرملال، رسم قل
اور چہلم کی خبریں بھی سب سے پہلے آتی ہیں۔ایک دل جلے نے پوسٹ کی تھی کہ امتحانات کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ تین گھنٹے پرچہ حل کرتے ہوئے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم موبائل اور فیس بک کے بغیر تین گھنٹے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔سڑکوں اور بازاروں میں چلتے پھیرتے سوشل میڈیااستعمال کرنے والوں کی حالت دیکھ کر انسان میں ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اپناکوئی پسندیدہ پروگرام اگر آپ نہ دیکھ سکے ہوں۔ تو اب فکر کی ضرورت نہیں۔ فیس بک پر چند گھنٹوں کے اندر اپ لوڈ ہوتا ہے آپ اسے شیئر کرکے اپنے پاس بھی سٹور کرسکتے ہیں۔ سب سے دلچسپ پوسٹ حال ہی میں اپ لوڈ ہوئی ہے جس میں ایک مٹھائی کی دکان کے باہر لگا بورڈ دکھایا گیا کہ جس پر لکھا ہے کہ مسلم لیگ ن والے مٹھائی لینے کے لئے جے آئی ٹی رپورٹ کا اردو ترجمہ لازمی ساتھ لائیں۔ بعد میں مٹھائی واپس نہیں لی جائے گی۔سوشل میڈیا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو ہم بہت سنجیدہ، باخبر اور دانشور سمجھتے ہیں ان کے کمنٹس دیکھ کر ان کی دانشوری کا پول کھل جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا نے تو ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!