Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قانون کی بالادستی کا سوال………. محمد شریف شکیب

July 12, 2017 at 9:55 pm

پانامہ کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔قوم کو توقع تھی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ جو بھی آئے۔عوام کو سیاست دانوں کے سٹیج شوز سے نجات مل جائے گی۔ لیکن رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہونے اور پبلک ہونے کے باوجود قوم کو الزام تراشیوں، گالم گلوچ اور دشنام طرازی کی سیاست بازی سے نجات نہ مل سکی۔ سٹار پلس کے ڈراموں کی طرح چہرے بدل کر کہانی نئے سرے سے شروع کردی گئی۔ جب جے آئی ٹی کی طرف سے دستاویزات کے کارٹن سپریم کورٹ لائے جارہے تھے تو وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹ کیا کہ جے آئی ٹی نے ثبوتوں کے جو کارٹن عدالت عظمیٰ میں پیش کئے ہیں وہ ہماری بے گناہی کے ثبوت ہیں۔ ہم نے تین نسلوں سے اپنی شفافیت کا ثبوت دیدیا ہے۔ مریم کے اس ٹوئٹ پیغام کے ایک گھنٹے بعد ہی پتہ چلا۔ کہ تین نسلوں کے جو ثبوت حکمران خاندان نے پیش کئے تھے۔ وہ سب کے سب جعلی تھے۔ جے آئی ٹی نے نہ صرف مریم کو دو آف شور کمپنیوں کی مالکہ قرار دیا۔ بلکہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب بیورو میں معلوم وسائل سے زیادہ دولت جمع کرانے کے جرم میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی۔عدالت عظمیٰ نے جب وفاقی وزراء خواجہ آصف، سعد رفیق اور آصف کرمانی کی پریس کانفرنسوں کی ریکارڈنگ منگوائی تو یہ وزراء سکرین سے غائب ہوگئے۔ اب شریف خاندان کے دفاع کی بھاری ذمہ داری دانیال عزیزاور طلال چوہدری نے اپنے ناتواں کندھوں پراٹھالی ہے۔ انارگل لالہ کا کہنا ہے کہ ہم تو وفاقی وزراء کو بہت جہاندیدہ اور باخبر سمجھتے تھے۔ اب پتہ چلا کہ وہ تو ہاتھی کے کان میں سوتے ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ جس جے آئی ٹی کو وہ لعن طعن کا نشانہ بنارہے ہیں اس جے آئی ٹی کو بنانے کا مشورہ زبیدہ آپا نے نہیں دیا تھا۔ بلکہ سپریم کورٹ نے حکومت کی تجویز کردہ لسٹ کر مسترد کرکے خود جے آئی ٹی کے ارکان کا انتخاب کیا تھا۔ جے آئی ٹی پر تنقید کا مطلب سپریم کورٹ پر نکتہ چینی کرنا ہے۔ انارگل لالہ کو زیادہ غصہ اس بات کا ہے کہ قطری شہزادے کے بیان کو حکومتی حلقوں نے کیس کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ لیکن انہیں یہ احساس نہیں کہ قطری شہزادہ شریف خاندان کا گواہ ہے جسے عدالت میں پیش کرنا مدعی علیہ یعنی شریف خاندان کی ذمہ داری ہے۔ عدالت کا کام یہ نہیں۔ کہ مدعاعلیہ جس کو اپنا گواہ نامزد کرے۔ وہ چھپتا پھیرے اور عدالت اس کا بیان لینے کے لئے اس کا تعاقب شروع کرے اور اس کی منت سماجت کرتی پھیرے۔اگر انصاف کے حصول کا یہی معیار ہے تو مجرموں کے موقف کی تائید میں گواہوں کو تلاش کرنے اور ان کا بیان لینے کی ذمہ داری ملک کی تمام عدالتوں پر ڈالی جائے۔ انارگل کا یہ موقف سن کر ہمیں بھی تعجب ہوا کہ اتنی سیدھی سادی بات انارگل جیسے سادہ لوح اور ان پڑھ آدمی کی سمجھ میں بھی آتی ہے۔ حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی۔سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پانامہ کیس کی سماعت 17جولائی تک ملتوی کردی ہے۔ تاہم شریف خاندان کے لئے نرم گوشہ رکھنے اور ان سے مفادات حاصل کرنے والے عدالت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کردے۔اور حکومت کے فراہم کردہ ثبوت کو شرف قبولیت بخشے۔ بقول ریئسانی کے ثبوت جعلی ہوں یا اصلی۔ ثبوت ثبوت ہوتے ہیں۔وزیراعظم کے وزیروں اور مشیروں نے انہیں تجویز دی ہے کہ چاہے الزام ثابت بھی ہوجائے۔ سپریم کورٹ حکومت کے خلاف فیصلہ بھی دیدے۔ وزیراعظم کو کسی قیمت پر
استعفیٰ نہیں دینا چاہئے۔ اس سے عمران خان کا مطالبہ پورا ہوگا۔حکومت مائنس نواز فارمولے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ انارگل نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایک دن مسجد میں مولوی حدیث سنا رہا تھا کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرو۔ یوسف رضاگیلانی بھی نواز شریف کا ایک مسلمان بھائی تھا۔ اس نے کوئی چوری، منی لانڈرنگ، کمیشن خوری ، اثاثے چھپانے ، پارلیمنٹ اور عدالت میں جھوٹ بولنے کا جرم نہیں کیا تھا۔ صرف اپنے باس زرداری کے خلاف سوئس حکومت کو خط لکھنے میں دیر کردی تھی۔ جس پر انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس فیصلے کو نواز شریف نے قانون ، انصاف اور جمہوریت کی فتح قرار دیا تھا۔ جب اپنی باری آئی تو کہا جارہا ہے کہ اس بار وزیراعظم گیا ۔تو جمہوریت پٹڑی سے اتر جائے گی۔ پارلیمنٹ کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ معیشت تباہ ہوگی۔ اور ملک کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی۔ حالانکہ مسلم لیگ ن کے پاس بڑے اچھے، قابل اور سنجیدہ لیڈر ہیں۔ وہ حکومت کا انتظام نواز شریف سے بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔ایک بار انہیں آزماکر تو دیکھ لیں۔قانون کی بالادستی قبول کرکے دیکھ لیں۔ یقین جانئے ۔اس سے آپ کی رہی سہی عزت بچ جائے گی۔ اور انگلی کٹنے پر بھی آپ کو بہت سے حلقے شہید کا درجہ ضرور دیں گے۔

Translate »
error: Content is protected !!