Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جھوٹامومن )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شمس الحق قمرؔ

July 12, 2017 at 9:45 pm

ہم ایک دُکان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عام سا شخص پانچ سو کا نوٹ ہاتھ میں تھامے وارد ہوا ۔ اُس شخص کو چینج کی ضرورت تھی ۔ دکاندار نے نفی میں اپنا سر ہلا یا زبان سے جواب بھی دیا ’’ میرے پاس پانچ سو کے چینج نہیں ہیں ‘‘۔ اُس شخص کے جانے کے بعد پیچھے سے ایک موٹی گالی بھی سنائی اور پھر ہمارے ساتھ گفتگو کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے جھوٹ کی لعنت اور جھوٹے لوگوں کی اخلاقی کمزوریوں پر مفصل اظہار خیال بھی فرماتے رہے ۔ چونکہ محفل میں ہم بھی موجود تھے ، ہم نے بھی کچھ دیکھا کیا اور کچھ سنا کیا پھر خاموش رہے ۔ لیکن ہم سب سے زیادہ موصوف ہی جھوٹ بولنے والوں سے نالاں تھے۔ اُن کی نظر میں ملک میں تمام برائیاں چھوٹے پیمانے پر جھوٹ بولنے کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں اور پھر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بعد ملک میں ایک بڑے بد عنوانی کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں۔ مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے حالیہ سیاسی صورت حال پر خوب روشنی ڈالی ۔ دکاندار کی باتوں میں بلا کا وزن تھا ۔ موصوف ہم سے اس خیال سے کچھ خائف بھی تھے کہ کہیں ہمارا تعلق کسی خفیہ ایجنسی سے تو نہیں ۔کیوں کہ وہ بار بار کہتے تھے کہ ہم صرف حکومت کو لعن طعن نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم میں سے ہر تیسرا آدمی جھوٹا ہے ۔ جب اُس نے یہ جملہ کس دیا تو ہم سب کی نظریں ایک دوسرے پر ایسی گڑھ گئیں جیسے ہم میں سے ہر ایک جھوٹا تھا ۔ ظاہر ہے ہم سب دن میں کئی مرتبہ جھوٹ بولتے ہیں اور بولتے رہتے ہیں ۔ لیکن اس بات پر ہمیں اور بھی پریشانی ہو رہی تھی کہ موصوف نے چھوٹے جھوٹ ہی کو بڑی مصیبتوں کا شاخسانہ قرار دیا تھا اور ہم سب چھوٹے جھوٹ بولتے رہتے ہیں ۔ مجھے بھی میرے منہ سے نکلے ہوئے کئی ایک جھوٹ یاد آئے جو میں نے آج ہی بولے تھے ۔ وہ تو خیر میں نے جھوٹ بولے تھے لیکن جو جھوٹ میرے دماغ یا ذہن میں تھے وہ بہت خطر ناک تھے اور وہ جھوٹ عملی جامے میں اگر خدا ناخواستہ سامنے آئے تو میری زندگی میں کتنی بڑی تباہی آسکتی ہے ۔ کیوں کہ انسانی ذہن ایک ہی وقت میں شیطان اور رحمان دونوں کا مسکن ہے ۔ بہت اچھا یہ ہوا کہ دوکاندار کی اُس گفتگو سے مجھے اپنے اندر جھانکنے کا موقعہ ملا اور میں نے وقتی طور پر کوشش کی کہ جھوٹ کا سلسلہ اگر میں تھوڑا کم کروں تو شاید میں ملک کی ترقی میں اپنا بہتر کردار ادا کر سکتا ہوں ۔
ہم بیٹھے محو گفتگو تھے کہ ایک اور گاہک مخل در سخن ہوئے ۔ پینٹ شرٹ پہنے مغربی وضع کے خوبصورت جوان تھے۔ اتفاق سے اُس کے ہاتھ میں بھی پانچ سو رو پے کا نوٹ تھا ۔ انہوں نے داخل ہوتے ہی علاقے میں بجلی کی آنکھ مچولی اور علاقے کے سیاسی رہنماؤں کو پچھلی اور پچھلی ،اگلی اور اگلی پشت تک سنانے کے بعد دکاندار سے صرف ایک موم بتی دینے کو کہا ۔ ہمارے فلاسفر دوکاندار دوست نے موم بتی تھماتے ہوئیخوش پوشاک گاہک سے ہم کلام ہوئے : ہمارے سیاسی رہنما ؤں کی غلطی اپنی جگہ بجا ہے ۔ وہ اگر نااہل ہیں تو اُس میں اُن کا گناہ کم اور ہمارا قصور زیادہ ہے کیوں کہ انہیں ہم ہی نے منتخب کیا ہے ۔ اور ہمارے راہنما بھی آخر ہمارے ہی بھائی ہیں ۔ اگر غور کیا جائے تو بجلی کے معاملے میں ہم خود غلط ہیں ۔ آپ آج ہی شام اسی محلے میں گھر گھر جاکے دیکھیں توہر گھر میں چوری کی لائین آپ کو نظر آئے گی ۔ ہم اگر جھوٹ نہیں بولیں گے ، چوری نہیں کریں گے تو ہمارے ملک میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ خوش پوشاک گاہک نے ’’ آپ کی بات بجا ہے ‘‘ بولتے ہوئے پانچ سو روپے کا نوٹ دوکاندار کی طرف بڑھا دیا ۔ دکاندار نے بڑی لجاجت سے دوبارہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے فرمایا ’’ سر اس ایک موم بتی کی کیا وقعت ہے آپ پیسہ دے کے خواہ مخواہ شرمندہ کرتے ہیں ‘‘ گاہک نے کہا ’’ چلو جناب پیسے نہ لیتے ہو نہ لو لیکن یہ نوٹ تو چینج کیجئے ‘‘ دکاندار نے کیش بکس کھولا تو میری نظر بھی کیش بکس پر پڑی ، جس میں ہر طرح کے نوٹوں کے لئے الگ الگ خانے بنے ہوئے تھے ۔ دکاندار نے گاہک کی آسانی کے لئے ہر خانے سے مختلف نوٹ نکال نکال کر دے دیے اور گاہک شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے گھر کی راہ لی ۔ تھوڑی دی بعد ایک اور شخص دکان میں داخل ہوا جس کے ہاتھ میں بجلی کا بل تھا ۔ اتفاق سے اس میٹر ریڈر کو میں بھی جانتا تھا کیوں کہ یہ بندہ ایک سو روپے آپ سے لے کے پانچ سو روپے بجلی کے بل میں کم کرتا ہے میں نے بھی ایک زمانے میں سو روپے تھما کے کوئی سات سو روپے کم کروائے تھے لیکن بد قسمتی سے یہ مفید آدمی ہمارے محلے سے تبدیل ہو کر ایک زمانہ گزر چکا تھا ۔ میٹر ریڈر اپنے خاص انداز سے دکاندار کے پاس جاکر بیٹھے اور بل نکال کر ہنستے ہوئے’’ براربر کر دیا ‘‘ کہکر رسید دکاندار کے حولے کیا ۔
میں نے سوچا کہ یا اللہ تیری اس دھرتی میں قسم قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ ابھی ہی یہی شخص ہم سب کو جھوٹ اور چوری جیسی برائیوں سے دور رہنے کی تبلیغ کر رہا تھا ابھی ہیپہلے گاہک سے جھوٹ بھی بولا اور بجلی کے بل میں چوری کا ارتکاب بھی کیا ۔

Translate »
error: Content is protected !!