Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہز ہائنس دی آغا خان ۱۱جولائی،۶۰ ویں سالگرہ / ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر خصوصی تحریر

July 10, 2017 at 11:41 pm

ہزہائنس دی آغا خان شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49 ویں موروثی امام (روحانی پیشوا)ہیں۔ ہز ہائنس،اپنی موروثی ذمہ داریوں کے حوالہ سے،آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے ذریعہ گزشہ60 برسوں سے دنیا بھر کے ملکوں کی ترقی میں تندہی کےساتھ مصروف ہیں۔

آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک نجی، عالمی اور سیاسی ، مذہبی اور نسلی وابستگی سے بالا تر ایجنسیوں کا گروپ ہے جو ترقی پذیر دنیا کے مخصوص علاقوں میں لوگوں کے حالات زندگی اور مواقع کو بہتر بنارہا ہے۔نیٹ ورک میں شامل اداروں کو انفرادی طور پر سونپی گئی ذمہ داریوںمیں صحت اور تعلیم سے لے کر فن تعمیر، دیہی ترقی اور نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے اداروں کا فروغ شامل ہے۔

باہمی طور پر یہ ادارے ایک مشترکہ ہدف کی جانب کام کرتے ہیں یعنی ایسے اداروں اور پروگراموں کی تعمیر و تیاری جومسلسل سماجی، معاشی اور ثقافتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا جواب دے سکیں۔ آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک نجی اور عوامی اداروں کےساتھ قریبی تعاون رکھتا ہے جن میں سرکاری، بین الاقوامی ادارے، کمپنیاں، فاؤنڈیشنز اور جامعات شامل ہیں۔

آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک میں آغاخان ہیلتھ سروسز، آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروسز، آغا خان ایجوکیشن سروسز، آغا خان اکیڈیمیز، دی آغا خان ایجنسی فار مائیکروفنانس، دی آغا خان فاؤنڈیشن، فوکس ہیومینٹیرین اسسٹنس(Focus Humanitarian Assistance)، اور دو جامعات یعنی دی آغا خان یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا شامل ہیں۔ دی آغا خان ٹرسٹ فار کلچر AKDNکی ثقافتی سرگرمیوں کو مربوط اور مرتب کرتا ہے جن میں دی آغا خان ایوارڈ فار آرکٹیکچر، ہسٹورک سیٹیز پروگرام(Historic Cities Programme)، آغا خان میوزک انیشیٹو، آغا خان میوزیم اور آغا خان پروگرام فار اسلامک آرکٹیکچر(ہارورڈ اور ایم آئی ٹی)شامل ہیں۔ دی آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیویلپمنٹ (AKFED) منافع بخش ترقیاتی ایجنسی ہے جو سیاحت، بینکاری، انشورنس،ذرائع ابلاغ،ہوابازی، صنعت اور انفراسٹرکچرکے شعبوں میں ادارے تیار کرتی ہے۔ دی آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیویلپمنٹ اپنےسرمایہ کو دوبارہ ان ہی اداروں کی ترقی میں صرف کرتی ہے۔

اسماعیلی مسلمان کثیر النسلی عالمی برادری ہے جس کے اراکین میں وسطی ایشیا، مشرق وسطی، جنوبی ایشیا، سب۔صحارائی افریقہ ، یورپ
اور شمالی امریکا میں آباد متنوع ثقافتوں، زبانوں اور قومیتوں کے لوگ شامل ہیں۔

آغا خان اپنے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان کے بعد۱۹۵۷ء میں شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے امام بنے۔ اس وقت ان کی عمر محض
۲۰سال تھی۔ سنہ ۱۹۵۷ء میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی کوششوں کو انتہائی کمزور آبادیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اسلام کے بارے میں ایک بافکر اور روحانی مذہب کے طور پر دیکھنے پر زور دیتےہیں: ایک ایسا مذہب جو دردمندی، تحمل کی تعلیم دیتا ہے اور انسانی وقار کو بلند رکھتا ہے۔

گزشتہ ۶۰برسوں کے دوران عالمی سطح پر انسانی ترقی اور معاشروں کی سماجی حالت بہتر بنانے کے لیے اپنی غیر معمولی کوششوں اور
اعانت کے اعتراف میں آغاخان دنیا بھر کی اقوام اور اداروں سے بے شماراعزازی ڈگریاں اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!