Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کنجںِ قفس……….. الطاف اعجاز

July 10, 2017 at 5:27 pm

سبق پڑھا۔۔۔۔۔۔۔ امتحان دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتیجہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیل! اور ردعمل خودکشی!اس جملے کو دوبارہ پڑھیے۔ یہ کس طرح کی سوچ ہم اپنے نسلوں کو دے رہے ہیں ذرا سوچئے ۔کوئی ہے اس سوال کا جواب دینے والاکہ وقت کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل متشددکیوں ہوتی جارہی ہے انسان کی فطرت سے وہ کونسی چیزاٹھ گئی ہے جس کی عدم احساس نے اسی ہی انسان کے اندر خلا پیداکی ہے اور اب اس خلا کو بھرنے کے لئے وہ کچھ بھی کرگزرنے سے نہیں جھجکتا ۔ جدید دنیا اور انسانی فطرت کو سامنے رکھ کر ہمیں سوچنا چاہیے ۔ہمیں جاننا چاہیے کہ کیوں ایک ایسی طبیعت پیدا کی گئی ہے جس کو لفظ’’نا‘‘ سننے کی اب عادت نہیں ہے ایسی فطرت جس کی بقا کامیابی اور صرف ’’کامیابی‘‘ ہو جس کو ناکامی برداشت کرنا کبھی سکھایا ہی نہیں گیا ہو، جس کو لفظ ’’ہار‘‘ سے فقط بیر ہو۔ کہانی مختصر یہ کہ گرم چشمہ میں چند روز پہلے ایک بچی نازیہ نام کی جو نویں جماعت کی طالب علم تھی نے خود کشی کرلی ۔خود کشی بھی کچھ اس فکر میں کر ڈالی ہے کہ بس انسانی عقل فکر پر فکر کرنے پر مجبور ہوکے رہ جاتی ہے آخر یہ کیا ہورہا ہے انسانی زندگی اتنی بے وقعت کیوں ہوگئی ہے ۔ غور سے دیکھا جائے توہمارے معاشرے میں نصیحتیں اتنی ہورہی ہیں کہ بس ابھی ہمارے پر نکل آئینگے اور ہم اُڑینگے اور جب عمل کی بات ہوتو وہی نصیحت گھنٹیوں کی آواز بن جاتی ہیں اور سب الٹے پاؤں اپنے اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں ۔نازیہ کے خودکشی کرنے کے چند دن بعد سارا ماجرہ میں اس کے ایک رشتہ دار سے تفصیل کے ساتھ سُنا ۔ مختصر بیاں کی جائے تو اس روز یوں ہواکہ میٹرک کے نتائج آتے ہی نازیہ اپنے سہیلی کے ساتھ نمبرز دیکھنے گئی اگرچہ وہ پاس ہوئی تھی مگر حاصل کردہ نمبرز اسے کم لگے اور وہ دل برداشتہ ہوگئی یوں وہ اس روداد میں گرفتار ہوکر وہ قدم اٹھائی جو آج کی دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔یہاں یہ ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ آیا نازیہ کو خود محسوس ہوئی تھی کہ اس کے نمبرز کم ہیں یا یہ احساس اسے دلائی گئی تھی۔ یہ وہ سوال ہے کہ جس کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہو؟ کیونکہ انسانی فطرت کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ ننانوے اچھے پہلووں کو پس و پیش ڈال کر یا ارادتاً دبا کے ایک بری پہلو کی وضاحت میں ہمیشہ چوکس رہتی ہے طعنہ دینا انسان کی خصلت ہے۔والدین کو اکثر یہ کہتے ہوئے دیکھا جاتا ہے ’’اگر تم پاس نہیں ہوئے !اگر تم نے اتنے نمبرز نہیں لائے ! تو تمہاری خیر نہیں ، تمہارے پیچھے میرے اتنے رقم خرچ ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے شاندار کامیابی چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔ آیا ہم یوں کہہ رہے ہوں جیسے کامیابی ہی زندگی ہے اگر تم اپنے اولاد کے سامنے کامیابی کوہی زندگی کہہ کرپیش کروگے تو کل ناکامی کو وہ کیا کہے گی۔ اگر تمہاری اولاد کامیابی ہی کو زندگی سے منسلک کرکے اپنا نے لگی تو کل ناکامی کو کس چیز کے ساتھ منسلک کرکے اپنا لیگی۔ ۔۔۔۔ خود فیصلے کیجئے ۔ سنئیے ! آپ خود ہی اپنے بچوں کو IdealیاPerfectکی تلاش کا عادی بنا دیتے ہیں اور خود ہی فرما لیتے ہیں کہ اولاد نافرمان ہوئے ہیں ۔ایک بات یاد رکھیں کہ اس دنیا میں Perfectانسان یا چیز کی تلاش ایسے ہی ہے جیسے ایک چھوٹی سی معصوم بچی کا دگمگاتے قدموں کے سہارے ایک تتلی کو پکڑنے نکلنا جس کا لازمی انجام یہی ہے کہ تتلی بھی پکڑمیں نہ آئے اور گھر کا راستہ بھی کھو جائے ۔ ایک مکمل انسان کی متلاشی خود ہی ایک نامکمل انسان ہے ۔ کامیابی زندگی نہیں ہے بلکہ زندگی کامیابی ہے بلکہ نعمت ہے ، متاعِ بے بہا نعمت۔۔۔۔ جاں ہے تو جہاں ہے ۔کیا اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی کوئی نعمت بری ہوسکتی ہے ؟ کیا کسی نعمت کوکامیابی اور ناکامی کے پیمانے میں رکھ کر اس کی قدروقیمت تعین کیا جاسکتا ہے یا پھر ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم ایک نعمت کو اچھائی اور برائی کی نظر سے دیکھیں ۔ نعمت ،نعمت ہوتی ہے اسے صرف ایک ہی نظر سے دیکھنا عین انصاف اور جائز ہے اور وہ ہے شکر کی نظر ۔ ہر جگے میں ہر وقت ہر حالات کے ساتھ شکر کرنا چاہیے ۔اگر ایک باغ میں سے سارے کانٹے چھانٹ لی جائے تو وہ باغ ،باغ نہیں رہیگا اس کی تعریف میں کمی رہیگی ۔ ایک مکمل اور جامع تعریف کے لئے ہمیں کانٹوں کا سہارہ لینا ہی پڑیگا تب جاکے وہ باغ کہلائیگا۔ اسی طرح زندگی سے ناکامی کو ختم کردینا ایسا ہی ہے جیسے کامیابی میں ہی زندگی تلاش کرنا ۔ بات ہورہی ہے نعمات کی۔۔۔ عطا کرنے والے کی ان گنت نعمات میں سے اگر زندگی کی بات ہو تو ۔۔۔۔ اللہ اللہ ۔۔۔ نعمت ہی نعمت ۔۔۔ شکر ہی شکر۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے اس عظیم نعمت کی قدر آج کی دنیا میں کم ہوتی جارہی ہے والدین کے حضور ایک یہی کہنا چاہتا ہوں کہ کامیابی اور صرف کامیابی کو ہی زندگی کہنے کے بجائے ناکامی کو بھی ایک اہم اور شاندار رنگ مان لی جائے ۔ کامیابی پر غیر ضروری فخرکرنے کی بجائے ناکامیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی درس دی جائے کیونکہ زندگی کامیابیوں اور ناکامیوں سے گزرتا ہوا ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر ہم اسی طرح بچوں کے زہنوں میں کامیابی اور صرف کامیابی کے جذبات کو ہی بھرتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ ہر کام کے نتیجے کے ساتھ ساتھ خود کشیوں کا موسم بھی آئے گا۔ جیسے کا آج ہوا ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!