Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عوام پر بجلی گرانے کی تیاریاں…… محمد شریف شکیب

July 9, 2017 at 10:02 pm

حکومت نے مہنگائی کے مارے عوام پر بجلی گرانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کو مراسلہ لکھا ہے جس میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر ایشیائی بینک نے 30کروڑ ڈالر کا قرضہ ہمیں دیدیا۔ تو اس قرض کو سود سمیت لوٹانے اور ملک میں گردشی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے حکومت نے حکمت عملی طے کرلی ہے۔ کہ بجلی کی قیمتوں پر مزید سرچارج لگاکر عوام سے یہ رقم وصول کی جائے گی۔ چند سالوں کے اندر عوام کی جیبوں سے اتنی رقم نکالی جائے گی کہ ایشیائی بینک کا قرضہ بھی چکتا ہوگا اور حکومت نے اپنی عیاشیوں کے لئے مقامی بینکوں سے جو بھاری قرضہ لے رکھا ہے ۔ ان کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ پاکستان پر پہلے ہی غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 75747ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کو سالانہ پانچ ارب اکیانوے کروڑ ڈالر قرضوں کی اصل رقم کے علاوہ اکیانوے کروڑ پچاس لاکھ ڈالر سود بھی ادا کرنا پڑرہا ہے۔ ملک کی مجموعی آمدنی کا 47فیصد حصہ غیر ملکی قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی پر خرچ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ ایک ہزار 338روپے کا قرضدار ہے۔2013میں پاکستان کے ہر شہری پر قرضہ 90ہزار772روپے تھا۔ ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ قرضوں کا بھاری بوجھ اٹھائے پیدا ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن پر قرضہ لادا جارہا ہے۔ اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ۔ کہ یہ قرضہ کب، کس لئے اور کیوں لیاگیا۔غیرملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے علاوہ ملک کے اندر بینکوں سے لیا گیا کھربوں روپے کا قرضہ بھی قومی خزانے پر واجب الادا ہے۔ ہر حکومت کشکول توڑنے اور دستیاب وسائل سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے وعدوں پر اقتدار میں آتی ہے اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک، پیرس کلب، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرف للچاتی نظروں سے دیکھنا شروع کرتی ہے۔ ہمارے بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کا فیصلہ قرضہ دینے والی انہی مالیاتی اداروں کے دباو کے تحت کیا جاتا ہے۔فی کس آمدنی، مجموعی قومی پیداوار، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ادائیگیوں کا توازن بہتر بنانے کے جھوٹے دعوے کرکے حکمران غریب عوام کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں میں دانستہ طور پر الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ عام آدمی کی نظر میں معاشی ترقی کا معیار سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ مہنگائی پر کس حد تک قابو پایاگیا۔ روزگار کے کتنے مواقع پیدا کئے گئے۔ لوگوں کی قوت خرید کیا ہے۔ اس کی آمدن میں کتنا اضافہ ہورہا ہے۔ کیا عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولیات حاصل ہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو ترقی کرنے کے سارے دعوے جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت ڈھائی روپے بنتی ہے۔ اس پر نصف درجن کے قریب ٹیکس اور محصولات لگائے گئے ہیں۔ٹیلی وژن فیس بھی بجلی کے بلوں میں ڈالی گئی ہے اور مساجد و مدارس سے بھی ٹیلی وژن فیس وصول کی جارہی ہے۔ نیلم جہلم پاور ہاوس کی تعمیر کے نام پر گذشتہ دس سالوں سے عوام سے غنڈہ ٹیکس جمع کیا جارہا ہے۔ ابتدائی تجویز یہ تھی کہ نیلم جہلم پراجیکٹ پر دس ارب کا خرچہ ہے۔ ایک سال تک بجلی کے بلوں میں عوام پر کچھ خرچہ ڈالا جائے۔ ایک سال میں چھ ارب روپے عوام سے وصول ہوں گے تو چار ارب روپے حکومت اس میں شامل کرکے بجلی گھر تعمیر کرے گی۔ مگر دس سالوں میں کم از کم پچاس ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالے گئے ہیں لیکن نیلم جہلم پراجیکٹ اب تک شروع نہیں ہوسکا۔ اور نہ ہی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ بند ہوسکا۔ سرچارج ، اضافی سرچارج اور ایڈیشنل سرچارج کے نام پر عوام سے اربوں روپے ہر مہینے کمائے جارہے ہیں۔ اس طرح بجلی کی قیمت عوام کے لئے ڈھائی روپے یونٹ سے بڑھ کر 14روپے یونٹ ہوگئی ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو معلوم ہے کہ عوام بجلی کے بلوں پر مزید سرچارج لگانے پر زیادہ سخت ردعمل کا اظہار نہیں کریں گے۔ اپوزیشن کو بھی عوام کی کوئی خاص پروا نہیں۔ سال دو سال میں ایڈیشنل سرچارج کی مد میں مزید اربوں روپے غریبوں کو نچوڑ کر حاصل کئے جائیں گے اس کے بعد حکومت مناسب سمجھے تو کوئی ایک ایڈیشنل سرچارج ختم کرکے قوم پر احسان جتائے گی۔قوم تو گھوڑے بیچ کر سوئی ہوئی ہے۔ جب قوم جاگے گی ۔ تو بہت سا پانی سر کے اوپر سے گذرچکا ہوگا۔

Translate »
error: Content is protected !!