Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش…. دولت کا نشہ….تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

July 9, 2017 at 9:40 pm

روزِ اول سے انسان طاقت کے حصول کے جنون میں مبتلا ہے اور پھر طا قت کے حصول کے لیے وہ دولت کو ہی پہلی اور آخری سیڑھی سمجھتا ہے ۔ حیرت اُس وقت ہوتی ہے جب وہ خو ش نصیبی کو بھی دولت سے ہی مشروط کر دیتا ہے ‘ما دیت پرستی میں غرق اِس دنیا میں خو ش نصیبی کے عجیب ہی انداز سمجھے جا تے ہیں ‘دنیا میں خو ش نصیب اُس فرد کو سمجھا جاتا ہے جو منہ میں سونے کا نوالہ لے کر پیدا ہوا ہو یا جو حکمران کے گھر پیدا ہو اور اُسے وراثت میں تا ج شا ہی پہنا کر اقتدار پر بٹھا دیا جائے اگر کسی کو قدرت نے جوان طا قت وربیٹے عطا کیے ہو ں تو خو ش نصیب سمجھا جاتا ہے اگر کسی کی برداری یا قبیلہ طاقت ور اور بڑا ہو تو وہ خوش نصیبی کے زمرے میں آتا ہے یا جو اقتدارکی راہداریوں تک رسوخ رکھتا ہو یعنی حکمرانوں کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکتا ہو یا حکمرانوں کی آنکھ کا تارا ہو یا اگر کو ئی وسیع عریض کا روباری سلطنت کا مالک ہو شہروں میں پھیلا ہوا کا روبار ‘بنگلے ‘مہنگی بڑی گا ڑیاں ‘فارم ہا وسز ‘کا روباری پلا زے ‘لمبے چوڑے بینک بیلنس یعنی موجودہ دور کا ما دیت پرستی میں غر ق انسان ہر کامیابی یا مسئلے کا حل دولت کو سمجھتا ہے اپنی ذات کا اظہار دوسروں پر ‘حکو مت کی خوا ہش ‘برادری معاشرے میں نا ک اونچی رکھنے میں دولت کو ہی کلیداعظم سمجھتا ہے یعنی دولت کے انبار ہر مسئلے اور کامیابی کی چابی ہیں دولت کو ہی خو ش نصیبی سمجھا جاتا ہے لیکن کیا دولت ہی خو ش نصیبی کی ضامن ہے نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہے تا ریخ انسانی کے کسی بھی دور میں حقیقی خو شی کا ضامن دولت کو نہیں سمجھا گیا تا ریخ کے ہر دور میں ایک سے بڑھ کر ایک دولت مند کر ہ ارض پر نمو دار ہوا اور گردشِ ماہ سال کے بعد مٹی کا ڈھیر بن گیا ‘کیا کبھی بھی کو ئی دولت کے بل بو تے پر مو ت کو شکست دے سکا نہیں ‘کیا اپنی جسمانی بیما ریوں اور شکست و رنجیت کو روک سکا ‘کبھی بڑھا پا روک سکا ‘جوانی میں حسن کے شاہکار جسم کو کھنڈر میں تبدیل ہو نے سے روک سکا ‘کڑیل جوان جسم کولرزش اور کمزوری سے روک سکا ‘چہرے کی سرخی کو لالی میں تبدیل ہو نے سے روک سکا ‘سرخ سفید چہرے کو زرد سیا ہ ہو نے سے روک سکا ‘جسم کو فالج سے پتھر کا ہو نے سے روک سکا ‘جسم کے اعضا کو سن بے جان ہو نے سے روک سکا ‘دنیا جہاں کے ڈاکٹروں لیبارٹریوں ہسپتالوں میں دھکے کھا نے کے بعد بھی دوبارہ جوانی پا سکا ‘سر کے بالوں کو سفید ہو نے اور گرنے سے روک سکا اِس کے با وجو دحضرت انسان سمجھنے کے لیے تیا ر ہی نہیں ‘دولت کے انبار پانے کے بعد صرف پیغمبر اور اولیا ہی استقامت پر کھڑے نظر آئے ورنہ زیا دہ تر دولت نے انسان کا دما غ خراب کیا اور انسا ن تکبر غرور گھمنڈ کا شکا ر ہوا اور پھر یہی وہ مقام ہے جہاں پر اِس کا ئنات کا اکلوتا وارث خالق کا ئنات حرکت میں آتا ہے اوروہ پھر دراز رسی کو کھینچ کر انسان کونشانِ عبرت بنا دیتا ہے اِس کی سب سے عبرت انگیز مثال قارون کی ہے جس کے خزانوں کی شہرت ضرب المثل بن چکی ہے جو بہت بڑے قیمتی خزانوں کا مالک تھا لوگ اُس کی دولت کے کر شمے اور انداز دیکھ کر غش کھاتے تھے اہل دنیا اُسے حسرت اور رشک بھری نظروں سے دیکھتے دولت کا خما ر اُس کے سر کو خوب چڑھا ہوا تھا اپنی بے پنا ہ دولت کے بل بو تے پر وہ خود کو کو ہ ہما لیہ سمجھتا تھا کہا جاتا ہے کہ انسانوں کے گروہ اُس کے خزانوں کی چابیاں اٹھا تے تھے کر ہ ارض کے چپے چپے تک اُس کے خزانوں کی دھوم تھی وہ دولت کے آسمان پر چمکتا وہ سورج تھا کہ وہ جب بھی نکلتا تو اس دنیا وی شان سے نکلتا کہ لو گ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اُس کی قسمت پر ناز کر تے رشک کرتے حیرت و حسرت سے اُسے دیکھتے لوگ دن رات یہ دعا ئیں کر تے کہ کاش اُس کے خزانوں کا تھوڑا سا حصہ اُن کے ہاتھ لگ جائے تو اُن کی نسلیں سنور جا ئیں وہ بھی دولت مند ہو جا ئیں خو ش قسمتی کا تا ج اُن کے سر پر آجا ئے خالق کائنات نے قرآن مجید میں قارون کا ذکر اُس کی دولت اور نفسیات کا بیان اِسطرح کیا ہے قارون حضرت مو سی ؑ کی قوم سے تھا اُس نے مقا بلے میں گھمنڈ اختیا رکیا ہم نے اُس کو کتنے خزانے دے رکھے تھے اِن خزانوں کی چابیاں طاقت ور لوگو ں کی ایک جما عت کو گراں با ر کر دیتی تھیں جب کہ اس قوم نے اس سے کہا کہ فخر مت کرو مالک کائنات اترانے والوں کو پسند نہیں کر تا اور جو کچھ تجھے اللہ تعالی نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے لیے بھی کچھ کر اور دنیا کا حصہ نکال اور جس خدا نے تیرے ساتھ یہ معا ملہ کیا ہے تو بھی بندوں کے ساتھ ویسا ہی اچھا معاملہ کر اور زمین میں فساد مت برپا کر کیوں کہ اللہ تعالی مفسدین کو پسند نہیں فرماتا اُس نے کہا مجھے تو یہ سب کچھ میری ہنر مندی کے با عث ملا ہے اسے علم نہ تھا کہ اللہ اُس سے پہلے بھی اِسطرح کے مغرور لوگوں کو ہلا ک کر چکا ہے جب کہ وہ طا قت میں اس سے زیا دہ اور افرادی قوت میں اس سے بڑھ کر تھے اور مجرموں کے با رے میں کچھ زیا دہ تحقیق اور تفتیش کی نو بت نہیں آتی پھر وہ بڑے اہتمام اورجلال کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے اتراتا ہو ا نکلا جو لوگ دنیا کے متوالے اور طالب تھے بو لے کا ش ہمیں بھی ایسا ہی سازو سامان میسر ہو تا جیسا قارون کو نصیب ہوا سے بے شک وہ بڑا خو ش نصیب ہے اور جن لوگوں کو صیحح علم عطا ہوا تھا وہ بولے حیف ہے تو پر اللہ کے ہاں ثواب بہتر ہے جو انہیں ملتا ہے جو ایمان لا ئیں اور اچھے کام کر یں اور ایسا اجر صرف صبر والوں کے لیے وقف ہے پھر ہم نے قارون کو اُس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا تب کو ئی گروہ ایسا نہ تھا جو اُسے اللہ کے عذاب سے بچا لینا اور نہ ہی وہ خود اپنی مدد کر نے پر قادر تھا اور کل جو لو گ اس جیسا کر نے کی تمنا کر رہے تھے وہ اب کہنے لگے یوں معلوم ہو تا ہے کہ اللہ اپنے بند وں میں جسے چاہتا ہے فراخ روزی عطا کر تا ہے اور جیسے چاہتا ہے تنگد ستی دیتا ہے اگر ہم پر اللہ کا کر م نہ ہو تا تو ہم کو بھی دھنسا ددیتا ۔ ( سورۃ القصص ۷۴ تا ۸۲) آج بھی انسان دولت کو بہت اہمیت دینا ہے لیکن جب یہ دولت غرور اور گھمنڈ کاروپ دھا رتی ہے تو پھر یہی دولت ذلت رسوائی کا مو جب بن جا تی ہے آج کا انسان یہ بھول چکا ہے کہ دولت خوش نصیبی کا بدل نہیں اگر انسان دولت کے انبار اکٹھے کر بھی لے تو سکونِ قلب کی نعمت سے محروم ہی رہتا ہے بلکہ وہ ہو س کے مرض میں اِس بر ی طرح مبتلا ہو تا ہے کہ بھو کے کتے کی طرح ہر کو ڑے کے ڈھیر پر ناک رگڑتا نظر آتا ہے تو ایسی دولت رحمت کی بجا ئے زحمت اور بیما ری کا روپ دھا ر لیتی ہے حقیقت تو یہ ہے دولت مند وہی خوش نصیب ہے جو اپنی ضروریات سے زائد دولت مخلوق خدا اور خدا کی راہ میں خر چ کر دے ایسے شخص کے لیے دولت زحمت کی بجا ئے رحمت اور سعادت بن جا تی ہے قارون اور حضرت عثمانؓ میں یہی فرق تھا قارون گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ذلت کی بد بو دار وادی میں دفن ہوا اور حضرت عثمانؓ قیا مت تک لے لیے شہرت کے آسمان پر چاند بن کر چمکے ۔

Translate »
error: Content is protected !!