Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے عوام کو بہت جلد گیس پلانٹ کے زریعے قدرتی گیس مہیا کی جائیگی ۔۔شہزادہ افتخار الدین

July 7, 2017 at 8:56 am

چترال ، آیون اور دروش کے عوام کو بہت جلد گیس پلانٹ کے زریعے قدرتی گیس مہیا کی جائیگی ۔۔شہزادہ افتخار الدین
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال سے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے کہ بہت جلد چترال کے عوام کو پلانٹ کے زریعے قدرتی گیس مہیا کی جائیگی۔ جس سے ایندھن کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔ اور صارفین انتہائی کم نرخ پر قدرتی گیس کا استعمال کریں گے ۔ جس سے ایک طرف سے جنگلات کی کٹائی پر بوجھ کم پڑنے کے ساتھ غریب گھرانے کی ہر ماہ ہزاروں روپے کی بچت ہوگی ۔ وہ گزشتہ روزگیس پلانٹ کیلئے زمین ایکوائر کرنے کے موقع پر دروش، بروزاور آیون کے مقامات پر عوامی اجتماع سے خطا ب کررہے تھے۔ اس موقع پر سوئی ناردرن گیس کے سینئر جنرل منیجر اعجاز چوہدری اور سینئر انجینئر صولت رشید کے علاوہ دوسرے حکام بھی موجود تھے۔ شہزادہ افتخار الدین نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد حقان عباسی کا خصوصی شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انکی درخواست پر چترال کے مختلف مقامات کیلئے گیس پلانٹ لگانے کی منظوری دی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ چترال میں ایندھن کیلئے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے ۔ جو سیلاب کے سبب بنتے ہیں۔ اور چترال میں گزشتہ کئی سالوں سے سیلاب نے تباہی مچائی ہے ۔ لہذا ہمیں جنگلات کو ہر حال میں بچانا ہے ۔ ایم این اے نے بتایا کہ فلحال دروش، بروز ، آیون اور چترال کیلئے پلانٹ منظور ہوچکے ہیں ، جنکی کیلئے زمین ابھی خریدی جارہی ہے ۔ اور وزیراعظم پاکستان عنقریب لواری ٹنل کے ساتھ ان تین مقامات پر گیس پلانٹ کا بھی افتتاح کرینگے۔ انھوں نے بتایا کہ انکی کوششوں سے گیس چترال کے عوام کو سبسیڈی ریٹ پر مہیا کی جائیگی ۔ حکومت 67فیصد سبسیڈی دی گی جبکہ باقی تیس فیصد صارفین ادا کرینگے۔ ایم این اے نے بتایا کہ ان تین مقامات کے علاوہ گرم چشمہ ، موڑکہو ، بونی اور مستوج کیلئے بھی پلانٹ منظور ہوچکے ہیں۔
ایم این اے نے مذید بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے آربوں روپے چترال کے مختلف منصوبوں پر خرچ ہورہے ہیں۔ لواری ٹنل پر 26آرب 85کروڑ روپے خرچ آیا ہے ۔ جس میں 87فیصد موجودہ حکومت نے دیا جبکہ چھ فیصد جنرل مشرف اور سات فیصد پیپلز پارٹی کے دور میں خرچ ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ چترال شندور روڈ کیلئے وفاقی حکومت نے 24آرب روپے کی منظوری دی ہے ۔ جبکہ گرم چشمہ اور کالاش ویلی روڈ ز پر کام کا افتتاح وزیر اعظم بہت جلد کریں گے۔ ایم این اے نے مذید بتایا کہ چترال یونیورسٹی کیلئے دو آرب نوکروڑ روپے وفاقی حکومت نے دی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے صرف تیس کروڑ روپے دیکر یونیورسٹی کا افتتاح کردیا ہے ۔ جس کیلئے بھی ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ شہزادہ افتخار الدین نے مذید کہا کہ چترال میں کوئی اسلام کا چیمپءں بن کر عوام کو بے قوف بنا رہا ہے تو کوئی نئے پاکستان کا دعویدار بن کر گزشتہ حکومت کے منصوبوں پر دوبارہ تختیاں لگوارہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام ترقیاتی کام وفاقی حکومت کے فنڈز سے ہورہے ہیں۔
تقریب سے رکن ضلع کونسل شہزادہ خالد پرویز ، مولانا فتخ اللہ ودیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت ، وزیر اعظم اور خصوصی طور پر ایم این اے چترال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کے بعد گیس پلانٹ چترال کیلئے میگا پراجیکٹس ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر جنرل منیجر سوئی ناردرن گیس اعجاز چوہدری نے بتایا کہ دوسرے شہروں کی طرح چترال کے عوام کو پائپ کے زریعے گیس مہیا کی جائیگی ۔ اور گیس پلانٹ سے تقریبا 7کلومیٹر تک کے علاقے مستفید ہونگے۔

 

Translate »
error: Content is protected !!