Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعلیمی ایمرجنسی کے نتائج…….. محمد شریف شکیب

July 7, 2017 at 8:31 pm

خیبر پختونخوا کے آٹھ تعلیمی بورڈز نے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ پشاور، ملاکنڈ، مردان، سوات، بنوں، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان اور کوہاٹ بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات میں کسی بھی سرکاری سکول نے ٹاپ ٹین میں کوئی پوزیشن حاصل نہیں کی۔ جبکہ ٹاپ ٹوینٹی پوزیشنوں میں سرکاری سکولوں کے صرف دو طالب علم اپنا نام لکھواسکے۔ تعلیمی بورڈز کے نتائج کے مطابق ضلع بونیر کے دو سکولوں کے ساٹھ طلبا نے میٹرک کے امتحان میں شرکت کی تھی جن میں سے ایک طالب علم بھی پاس نہ ہوسکا۔ یہ صرف بونیر کے سکولوں کا مسئلہ نہیں۔ صوبے کے چھبیس اضلاع میں صفر نتیجہ دکھانے والے سرکاری سکولوں کی تعداد درجنوں ہے۔گورنمنٹ ہائی سکول درگئی کے ایک سو ایک طلبا نے میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ جن میں سے صرف نو طلبا پاس ہوسکے۔ محکمہ تعلیم کے میڈیا ایڈوئزر نے سرکاری سکولوں کے خراب نتائج کا اعتراف تو کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں پانی، بجلی، چاردیواری، فرنیچر اور سٹیشنری جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی، سٹاف کی کمی پوری کرنے اور اساتذہ کو جدید خطوط پر تربیت دے رہی ہے۔ ان کوششوں کے نتائج سامنے آنے اور ہدف کے حصول میں کئی سال لگیں گے۔ محکمہ تعلیم کے ترجمان کا موقف اپنی جگہ درست ہے کیونکہ تعلیم کا شعبہ ستر سالوں سے تختہ مشق رہا ہے۔ ہر ایم پی اے ، ایم این اے ، ناظم اور سنیٹر نے اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو تھوک کے بھاو محکمہ تعلیم میں کھپادیا۔ اور سینکڑوں اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے باقاعدہ قیمت ادا کرکے پوسٹیں حاصل کی ہیں۔اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومت نے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لئے بہت کام کیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ناقابل تردید اور مسلمہ ہے کہ کسی ایک شعبے میں نظر آنے والی تبدیلی لانے کے لئے چار سال کا عرصہ بھی کافی ہوتا ہے۔ حکومت، ماہرین تعلیم اور شعبہ تعلیم کے ارباب اختیار کو سر جوڑ کر بیٹھنا اور یہ سوچنا چاہئے کہ نجی تعلیمی ادارے اگر مسلسل اچھے نتائج لاتے ہیں تو اس کی کیا بنیادی وجہ ہے۔ کیا پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ کے پاس حکومت سے زیادہ وسائل ہیں؟ کیا ان کے پاس زیادہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ اساتذہ ہیں؟ کیا ان کا نصاب زیادہ معیاری اور دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟کیا ان کے پاس گورنمنٹ سکولوں سے بہتر انفراسٹرکچر ہے؟۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد پرائیویٹ اداروں سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ ان سرکاری اداروں پر قوم کے ٹیکسوں سے سالانہ اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیار بہتر ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں سے لاکھوں بچے سرکاری سکولوں میں آئے ہیں۔ داخلوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔لیکن پھر بھی معیارایک انچ آگے نہیں بڑھ سکا۔سرکاری سکول کے ایک ٹیچر کو جتنی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں وہ پرائیویٹ سکولوں کے تین چار اساتذہ کے مساوی ہے۔نجی سکولوں کے بہت سے اساتذہ کو چھٹیوں کی تنخواہ تک نہیں ملتی۔ انہیں کوئی پنشن، گریجویٹی نہیں ملتی۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانا ہے تو معمول کے اصلاحات کے ساتھ سزا و جزا کا سخت نظام رائج کرنا ہوگا۔ تمام سرکاری افسروں ، اہلکاروں اور منتخب نمائندوں کو پابند بنانا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں۔جب تک حکمران طبقے کی اولاد سرکاری سکولوں میں نہیں جائے گی ان کا معیار بہتر نہیں ہوسکتا۔جن سرکاری سکولوں کے پچاس
فیصد سے زیادہ بچے بورڈ کے امتحان میں فیل ہوئے ہیں۔ ان سکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ سے بازپرس کی جائے۔ اور مسلسل خراب نتائج کے حامل اساتذہ کو گھر بھیج دیا جائے۔ ساتھ ہی بورڈ کے امتحان میں اچھے نتائج دکھانے والے اساتذہ کو انعامات دیئے جائیں۔ اس عمل سے سفارش اور رشوت کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے نااہل اساتذہ سے قوم کو نجات مل جائے گی۔کیونکہ یہ غریب قوم اب اپنے محدود وسائل سے نااہل لوگوں کی کفالت کرنے کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔جب تک تعلیم کا معیار بہتر نہیں بنایا جاتا۔ اس وقت تک قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔قومی ترقی کے لئے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ تعلیمی ایمرجنسی کے اطمینان بخش نتائج پرہی حکمران جماعت کی سیاست اور پوری قوم کے مستقبل کا دارومدار ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!