Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستانی کرنسی کی قیمت میں ریکارڈ کمی……. محمد شریف شکیب

July 6, 2017 at 10:50 pm

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت میں ایک ہی روز چار روپے بیس پیسے کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ااوپن مارکیٹ میں ڈالر 104اروپے90پیسے سے بڑھ کر 109روپے دس پیسے ہوگیا ہے۔ روپیہ کریشن کرجانے کی وجہ سے پاونڈ سٹرلنگ کی قیمت بھی چار روپے اضافے کے ساتھ 140اور یورو تین روپے ساٹھ پیسے اضافے کے ساتھ 123روپے 28پیسے ہوگئی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستانی کرنسی کریشن کرنے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ سیاسی ہلچل کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنوعی بحران پید ا کررہے ہیں جس سے قومی معیشت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے انٹربینک ریٹ پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کمی کی تحقیقات کرنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارواائی کا حکم دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روپیہ کریشن کرنے کی بنیادی وجہ بیرونی کھاتوں میں خسارہ ہے۔ جسے توازن میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی ملک کی معیشت کا اس کے داخلی سیاسی استحکام، ادائیگیوں میں توازن ، زرمبادلہ کے ذخائر اور اچھی حکمرانی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ملک میں انتشار ہو۔حکمرانوں کی امانت داری سوالیہ نشان بن جائے تو زرمبادلہ کی بیرون ملک سے آمد کی شرح گھٹ جاتی ہے۔ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کرنسی کی قدر گھٹنے اورخسارہ پورا کرنے کے لئے نوٹ چھاپنے پڑتے ہیں جس سے افراط زر پیدا ہوتا ہے۔ جس سے مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید گھٹ جاتی ہے غربت کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ پانامہ کیس اور جے آئی ٹی کو لے کر حکمران جماعت نے ملک میں ایک ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے علاوہ وزیر ریلوے سعد رفیق، دانیال عزیز، طلال چوہدری ، حسین نواز اوردیگر مسلم لیگی رہنماوں نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر جو تماشے لگا رکھے ہیں اور میڈیا جس طرح ان کی میراتھن کوریج کر رہا ہے۔ اس سے عام آدمی یہی تاثر لے رہا ہے کہ ملک سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ کوئی اسے بیرونی سازش قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اپوزیشن کی چال سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوگی۔ آصف زرداری، عمران خان، سراج الحق، مصطفیٰ کمال، اسفندیار ولی ، فوج یا سپریم کورٹ کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ملک میں عام انتخابات قریب آنے کے ساتھ سیاسی ہلچل میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ جمہوریت خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ ریاستی ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہوا ۔پانامہ کیس کی سماعت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ ہی کی تشکیل کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم عدالتی احکامات کی روشنی میں کیس کے حوالے سے تفتیش کر رہی ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہے اس کے بعد عدالت پانامہ کیس کا حتمی فیصلہ کرے گی۔ اگر حکمران جماعت کے بقول وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، وزیرخزانہ یا وزیراعظم کے بیٹوں یا صاحبزادی نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر تاریخ رقم کی ہے ۔ تو پھر پریشانی کی کیا بات کی ہے۔ تاریخ رقم ہوگئی۔ اگر وہ بے گناہ ثابت ہوئے تو ان کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ اگر مجرم ٹھہرے تب بھی ملک کی نیک نامی ہے۔کہ حکمرانوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے جرم ثابت ہونے پر سزا دی گئی۔ملک کی نیک نامی کی خاطر اگر سیاسی نقصان اٹھانا پڑے تو اس سے احتراز نہیں کرنا چاہئے۔ میڈیا کے سامنے جذباتی تقریروں کے ذریعے قومی مفادات کو داو پر لگانا اور اداروں کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا کرنا حب الوطنی کے تقاضوں کے منافی ہے۔پاکستانی کرنسی کریش ہونے کا نقصان پوری قوم کا زیاں ہے۔ اس سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔ جس پر قابو پانا حکومت کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ اور اس قومی جرم کو سیاسی مخالفین کے کھاتے میں ڈال کر حکمران خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔

Translate »
error: Content is protected !!