Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عمران خان سے چند گذارشات……….. محمد شریف شکیب

July 4, 2017 at 9:14 pm

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور صوبائی وزراء کے ہمراہ چترال کے علاقہ دروش میں 69میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل لاوی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کردیا۔لاوی بجلی گھر کی تعمیر کے لئے چار چینی اور ایک پاکستانی کمپنی کے ساتھ پانچ سالہ معاہدے پر دستخط بھی کئے جاچکے ہیں۔ ششی گول پر تعمیر ہونے والے اس بجلی گھر کے نقشے کی تیاری، اراضی کی خریداری اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر کا معاہدہ بھی طے پاچکا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کی طرف سے مٹلتان پاور پراجیکٹ سوات کی طرح لاوی پراجیکٹ چترال کے افتتاح پر عوامی نیشنل پارٹی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز خٹک کی صوبائی حکومت اے این پی کے منصوبوں کی تختیاں تبدیل کرکے اپنے ہی قائد کو ماموں بنا رہی ہے۔ لاوی بجلی گھر کا افتتاح اس سے قبل مئی 2012میں اس وقت کے وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کرچکے تھے۔ اس وقت منصوبے پر لاگت کا تحمینہ 21ارب 58کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔ 19ارب 42کروڑ روپے ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ اور دو ارب پندرہ کروڑ روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے خرچ کئے جانے تھے۔ لیکن اے این پی کی حکومت اس اہم منصوبے کے لئے کوئی فنڈ فراہم نہیں کرسکی۔ اور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تختی چھ سال تک لوگوں کا منہ چڑاتی رہی۔ کسی بھی منصوبے کا افتتاح اور تختی کی نقاب کشائی اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس منصوبے پر عملی کام شروع نہیں ہوتا۔ اور اسے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاتا۔ لواری ٹنل جیسے میگا پراجیکٹ کی صدائے بازگشت قیام پاکستان سے گونج رہی تھی۔ اس پر عملی کام 1975میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کروایا۔ 1977میں جنرل ضیاء الحق نے یہ منصوبہ ختم کردیا۔ 2005میں جنرل پرویز مشرف نے لواری ٹنل منصوبے پر دوبارہ کام شروع کروادیا۔ لواری شٹل ٹرین سروس کا منصوبہ آٹھ ارب روپے کی لاگت سے 2009میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم بعد ازاں منصوبے کا نقشہ تبدیل کردیا گیا اور اسے شٹل ٹرین سے روڈٹنل میں تبدیل کردیا گیا۔ اس پر لاگت کا تحمینہ آٹھ ارب سے بڑھ کر بارہ ارب روپے ہوگیا۔ 2011تک اسے مکمل ہونا تھا۔تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے قائد سے منسوب اس عظیم منصوبے کے لئے پانچ سالوں میں صرف اڑھائی ارب روپے ہی فراہم کئے ۔جس کی وجہ سے تعمیراتی کام میں تاخیر کے ساتھ لاگت کا تحمینہ بھی بیس ارب سے تجاوز کرگیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ منصوبے کے لئے درکار فنڈز بروقت فراہم کرتی رہی۔ اب لواری ٹنل کا منصوبہ 27ارب روپے کی لاگت سے اگلے ماہ مکمل ہوگا۔اے این پی کی حکومت بھی مٹلتان اور لاوی پراجیکٹ کے لئے درکار فنڈز فراہم کرتی تو آج ان منصوبوں کے معماروں میں امیرحیدر ہوتی کے ساتھ اسفندیار ولی اور باچا خان کے نام بھی آتے۔لواری ٹنل کے حوالے سے چترال کے لوگ ذوالفقار علی بھٹو، اتالیق جعفر علی شاہ، مولانا عبدالاکبر، جنرل پرویز مشرف اور میاں نواز شریف کو اچھے ناموں سے یاد کرتے رہیں گے ۔ اگر اے این پی لاوی منصوبے پر عملی کام شروع کروادیتی ۔ تو آج یہ منصوبہ مکمل ہوچکا ہوتا۔اور چترال کے اندھیرے روشنیوں میں تبدیل ہوتے۔ تحریک انصاف نے اگرچہ لاوی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے میں چار سال کی تاخیر کی۔ لیکن دیرآید درست آید کے مصداق اب بھی کام شروع کرنا غنیمت ہے ۔ صوبائی حکومت نے منصوبے کے لئے درکار وسائل فراہم کردیئے تو سستی بجلی کے اس بڑے منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جاسکتا ہے۔ جس سے نہ صرف چترال بلکہ پورے صوبے کو فائدہ ہوگا۔ چترال میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کے قائد کو گولین گول پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی بھی خبر لینی چاہئے۔ 108میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل اس منصوبے کی فوری تکمیل سے ہمارے صوبے میں بجلی کا بحران کم کرنے میں مدد ملے گی۔چار میگاواٹ پیداواری گنجائش کا ریشن بجلی گھر2015کے سیلاب میں تباہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے چترال کا 90فیصد علاقہ دو سال سے تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کروڑوں روپے کی مشینری اب تک ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔اس کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام سے باز برس ہونی چاہئے۔ پی ٹی آئی کے قائد کو ایون اور ریشن سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں مجرمانہ غفلت کا بھی نوٹس لینا چاہئے۔ انہیں کوشٹ پل کی تعمیر میں تاخیر اور تورکہو روڈ کے فنڈز میں گھپلوں کی بھی خبر لینی چاہئے۔ تاکہ قائد تحریک کو معلوم ہوسکے کہ صوبے کے دور افتادہ اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ضلع چترال کی حالت بدلنے اور تبدیلی کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں صوبائی حکومت کتنی دلچسپی رکھتی ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!