Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ANP کی لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کی دوسری بارPTI کی قیادت کے ہاتھوں افتتاح کی پُزور مذمت

July 3, 2017 at 7:37 pm

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) عوامی نیشنل پارٹی چترال نے لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کی دوسری بار پاکستان تحرک انصاف کی قیادت کے ہاتھوں افتتاح کی پُزور مذمت کی ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سیاسی دھوکا دہی کے سوا کچھ نہیں ۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی چترال کے صدر عید الحسین و دیگر عہدہ داران ،میر عباد الرحمن ، شیر آغا ، ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ ، محی الدین ، قاری نظام الدین اور سید شوکت حسین جان وغیرہ نے کہا ۔ کہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ چار سالوں بعد تحریک انصاف کی قیادت پہلے سے افتتاح شدہ لوای ہائیڈل پراجیکٹ کے افتتاح کیلئے چترال آنے کی زحمت کی ہے ۔ حالانکہ 69میگا واٹ کے اس ہائیڈل پاور پراجیکٹ کا افتتاح 2012میں سابق وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کیا تھا ۔ اور پراجیکٹ کی زمین کے کمپنسیشن تک لوگوں کو ادا کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر تحریک انصاف چترال کے عوام کا اتنا ہمدرد ہے ۔ تو اسے ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کی بحالی اور دروش بجلی گھر کے جنر یٹرز کی خریدار ی کیلئے فنڈ مہیا کرنا چاہیے ۔ تاکہ 2015کے سیلاب کے بعد ان علاقوں کے لوگ اندھیروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اور بار بار مطالبات کے باوجود صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگ موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت اور خصوصا چیف منسٹر سے انتہائی نا اُمید ہیں ۔ جنہوں نے گذشتہ چار سالوں کے دوران چترال پر جو مصیبتیں آئیں ۔اُس میں چترالی عوام کی دُکھوں کا مذاق اُڑایا ۔ اور بحیثت چیف ایگزیکٹیو خیبر پختونخوا عوام کا درد محسوس ہی نہیں کیا ۔ آج بھی 2015کی متاثرہ سڑکیں ، پُل ، آبنوشی سکیمیں ، بجلی گھر اور نہریں تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ اور لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سابق وزیر اعلی نے اپنے دور اقتدار میں آٹھ مرتبہ چترال کا دورہ کیا ۔ اور ساڑھے اُنیس ارب روپے کے منصوبے چترال میں تعمیر کئے ۔ اور یہ چترال کی تعمیر و ترقی کا سنہرا دور تھا ۔ اُنہوں نے کہا ۔ کہ لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کا پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے ہاتھوں دوسری بار افتتاح عوام کی آنکھوں میں دھول جونکنے کے متراد ف ہے ۔ اس موقع پر قاری نظام الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہم لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کی دوسری بار افتتاح کے خلاف دھرنا اور احتجاج اس لئے نہیں کرتے ۔ کہ مہمانوں کی آمد پر یہ ہماری روایات کے خلاف ہے ۔ تاہم ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔ کہ دروش میں لاوی پراجیکٹ کے علاوہ منصوبے بھی ناقص تعمیر ہو چکے ہیں ۔ جن میں گرلز ڈگری کالج دروش ، گرلز ہاسٹل اور واٹر سپلائی دروش شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ڈگری کالج اور ہاسٹل کسی بھی وقت حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ اُن کی تعمیر انتہائی طور پر ناقص ہوئی ہیں ۔ جبکہ واٹر سپلائی کی چودہ ٹینکیوں میں سے سات اپنی تکمیل سے پہلے ہی بلاسٹ ہو چکی ہیں ۔ اور اُن کے نتیجے میں گیارہ خاندانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ منسٹر پبلک ہیلتھ اس منصوبے کے افتتاح سے پہلے اس کی انکوائری کریں ۔ تا کہ اُس پر حقیقت واضح ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرکے نہیں تھکتی ۔ اگر ان منصوبوں کی تحقیقات کرکے متعلقہ افراد کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی ۔ تو یہ بات واضح ہو جائے گی ۔ کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے کرپشن کے خلاف دعووں میں کوئی صداقت نہیں ۔ 

Translate »
error: Content is protected !!