Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاست کے گندے انڈے…. محمد شریف شکیب

July 3, 2017 at 6:52 pm

پیپلز پارٹی کے کئی مرکزی رہنماوں نے ہوا کا رخ بدلتے دیکھ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پارٹی چھوڑنے والوں میں بہت سے دیرینہ جانثار جیالے اور کچھ فصلی بٹیرے بھی شامل ہیں۔ بابر اعوان، صمصام بخاری، نذر محمد گوندل، فردوس عاشق اعوان، نور عالم خان، ندیم افضل چن، امتیاز صفدر وڑائچ، راجہ ریاض احمد،خالد خان کھرل،غلام مصطفی کھر،اشرف سوہنااور پی پی پی آزاد کشمیر کے کچھ رہنما پی پی پی کو خیرباد کہنے والوں میں شامل ہیں۔ پی پی پی کی کشتی سے چھلانگ لگانے والے اکیلے نہیں۔ ان کے خاندان، دوست احباب اور کارکن بھی ان کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ اور یہ صدائے باز گشت بھی گردش کر رہی ہے کہ پی پی پی پنجاب کے صدر قمر الزمان کائرہ اور نامور قانون دان چوہدری اعتزاز احسن بھی پارٹی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے خبروں کو قیاس آرائی پر مبنی قرار دے کر پارٹی کی طرف سے تردیدی بیانات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ لیکن کسی بھی تبدیلی کو یکسر خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے گندے انڈے ہیں۔ کپتان بھی انہیں ٹکٹ نہیں دیں گے۔ وہ ان کے ساتھ تصویریں کھینچوا کر مزے لے رہے ہیں۔پیپلز پارٹی سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پی پی پی ملک کی واحد اعتدال پسند، ترقی پسند اور عوام دوست پارٹی ہے جس کی جڑیں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس پارٹی کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو ایک جھوٹے کیس میں پھنسا کر پھانسی چڑھا دیا گیا۔ ایک بیٹے شاہنواز کو ہوٹل میں قتل کردیا گیا۔ جو اب تک سربستہ راز ہے۔ بڑے بیٹے میرمرتضیٰ بھٹو کو کلفٹن میں ان کے گھر کے قریب پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید کیا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو کو بھی قذافی سٹیڈیم میں لاٹھی چارج کے دوران پولیس نے سر پر ایسے ڈنڈے مارے کہ وہ زخم مندمل ہی نہیں ہوسکے اور کئی سال کومہ میں رہنے کے بعد دم توڑ گئیں۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈروں اور اس کے خاندان نے اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ جتنی قربانیاں بھٹو خاندان نے دی ہیں۔شاید اسی وجہ سے یہ نعرہ مشہور ہوا کہ ’’تم کتنے بھٹو مارو گے۔ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘لیکن جیالوں کا جذبہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا گیا۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد بھٹو خاندان سے ہمدردی کے عوامی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آصف زرداری نے اپنے بیٹے بلاول کو پارٹی کا چیئرمین اور خود کو شریک چیئرمین بنادیا۔ بھٹو اور بے نظیر کے وفادار جیالوں کو دیوار سے لگاکر اپنے خاندان ، حامیوں اور خوش آمدیوں کو آگے لانے کی کوشش کی۔جس کی وجہ سے پارٹی کے جانثار کارکن دلبرداشتہ ہونے لگے ۔اور ایک ایک کرکے پارٹی سے کنارہ کش ہوتے۔ ان میں سے بیشتر خانہ نشین ہوگئے اور کچھ لوگوں نے دوسری پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی۔ مفادات کی خاطر پارٹی میں شامل ہونے والے لوگ اگر کسی دوسری پارٹی میں جائیں تو تعجب کی بات نہیں۔ بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹنے والے پی پی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق نہیں کرسکتے۔اور مطلب نکلنے کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑنا ہی تھا۔ لیکن جن لوگوں نے پارٹی کے لئے کوڑے کھائے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کا پارٹی چھوڑنا پی پی پی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ناراض کارکنوں کو منانے کے بجائے انہیں گندے انڈے قراردینا ایک سیاسی المیہ ہے۔ آصف زرداری اپنی ہر تقریر میں باری آنے کی بات ضرور کرتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ان کا کہنا تھا کہ اگلی باری پی پی پی کی ہے۔ میں اور بلاول دونوں پارلیمنٹ میں جائیں گے۔ پھر ہم خود فیصلہ کریں گے کہ ہم میں سے کون اگلا وزیراعظم ہوگا۔ اس بار اپنے بیان میں تھوڑی سی ترمیم کرکے کہا ہے کہ اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی بلاول اور آصفہ پارٹی کی قیادت کریں گے۔جبکہ دوسری جانب میاں نواز شریف پانامہ کیس میں ممکنہ نااہلی کی صورت میں اپنی صاحبزادی مریم نواز کو اپنی سیاسی وراثت سونپنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن شاید دونوں لیڈروں کا ہاتھ عوام کی نبض پر نہیں ہے۔ ہوا کا رخ بدلنے لگا ہے۔ اور ہوا کے بدلتے رخ کو دیکھ کر ہی وفاداریاں تبدیل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بعید نہیں۔ کہ اگر نواز شریف پانامہ سیکنڈل کے جال میں پھنس جاتے ہیں تو حکمران جماعت کے قصیدے پڑھنے والے بہت سے پرندے اڑ کر کسی سایہ دار درخت کی شاخوں پر بیٹھ کر چہکنا شروع کردیں۔کون نہیں جانتا کہ آج نواز شریف کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے کل جنرل پرویز مشرف کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔

Translate »
error: Content is protected !!