Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رموز قلم۔۔عورت کی اصل حیثیت۔۔تحریر ۔۔صوبیہ کامران

July 3, 2017 at 7:45 pm

معاشرے میں عورت کی حیثیت کو ہمیشہ کمزور صنف مانا گیا اور عورت نے بھی سر تسلیم خم کرکے اس حقیقت کو قبول کر لیا جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔ دراصل صنف نازک ہی طاقت کا سر چشمہ ہے اور اس کی کئی حیثیتیں ہیں۔
ماں…… عورت ہوتی ہے تو اتنی عظیم طاقت اسکے پاس ہوتی ہے کہ وہ مرد کو جنم دیتی ہے اسی طرح خالق دو جہاں نے ماں کو وہ طاقت دی کہ وہ تخلیق کا کام کرسکے ۔ وہ زمانے کے سرد و گرم سے اپنے بچے کی حفاظت بھی کرتی ہے اور اسی طرح اپنی ساری قوت صرف کرکے اپنے بچے کو اپنا دودھ پلا کر اپنی گود میں سلا کر اور اسکی صحت کا ہر طرح خیال کرکے اسکی پرورش کرتی ہے ، کیا یہ مرد جو دولت کما لاتا ہے اسمیں یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے بچے کیلئے یہ سب کر سکے ؟
بیٹی…….. بیٹی اپنی والدین کیلئے ایک سہارا ہے ، جس کے نہ ہونے سے والدین بڑھاپے میں بے یار و مددگار ہوتے ہیں ۔بیٹے کے والدین بپیری میں اکثر یہ افسوس کرتے ہیں کہ کاش ہم بیٹی کی نعمت سے محروم نہ ہوتے ۔ ایک بیٹی بچپن سے جوانی تک یہاں تک کہ شادی ہونے کے باوجود قدم قدم پر والدین کا سہارا بنتی ہے۔ وہ ماں کے ساتھ گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹاتی ہے ۔ چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش میں مدد دیتی ہے ۔ باپ تھکا ماندہ گھر لوٹتا ہے تو اس کی خیر مقدم کرتی ہے ، اور اپنی بساط بھرا اس کے کام آتی ہے اور آج کی بیٹی تو اس سے بھی کہیں آگے والدین کے لئے مالی سہارا بنتی ہے۔ اگر گھر کی آمد نی کم ہے تو مالی طور پر بھی مدد کرنے میں پیچھے نہیں رہتی ۔ وہ پڑھائی کے دوران ٹیوشن وغیرہ کرکے گھر کی آمدنی میں اضافہ کرتی ہے اور ان پر بوجھ نہیں بنتی ۔
بیوی……. شریک حیات کی حیثیت سے ایک عورت وہ کارہائے نمایاں انجام دیتی ہے جو شاید ہی کبھی مرد بحیثیت شوہر کے انجام دے سکے۔ وہ بیوی بن کر مرد کی کمزوریوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے ، نہ صرف گھر کو گر ہستی سنبھالتی ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر بعض اوقات شوہر کی آمدنی میں اضافہ کیلئے خود ملازمت وغیرہ کرتی ہے ۔ بچوں کی پرورش اسطرح کرتی ہے کہ کبھی کبھی تو شوہر کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اسکے بچے کس طرح اس مقام تک پہنچ گئے۔ شوہر کے بیمار پڑنے پر عورت دن رات ایک کرکے اسکی تیمارداری کرتی ہے۔
بہن………. عورت ایک بہن کی صورت میں بھی بھائی کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ، اکثر دیکھا گیا کہ دستر خوان پر بہن اپنے منہ کا نوالہ بھی اپنے بھائی کیلئے رکھ دیتی ہے، خود اپنا دل مار کر بھائی کو اچھا کپڑا پہننے کا موقع دیتی ہے ۔ بھائی کو جذباتی سہارا دینے میں بھی بہن ہمیشہ آگے رہتی ہے ، بہن کے آنچل میں چھپا کر اکثر بھائی اپنے سارے غم ہلکا کر لیتے ہیں۔
ان تمام حیثیتوں کے علاوہ بھی عورت بحیثیت دفتری کارکن اور افسرانی ڈیوٹی ہمیشہ مرد کی نسبت زیادہ اچھی طرح انجام دیتی ہے ۔ اگر وہ معلمہ ہے تو بچے کو زیادہ اچھی طرح پڑھاتی ہے ۔ عورت کی شفقت اور ممتا نے اس میدان میں اسے مردوں سے کہیں آگے کا مقام دلایا ہے۔ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے ۔ یہ کہاوت مشہور ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ بہت سارے تجربات اور مطالعہ کے بعدیہ کہاوت وجود میں آئی۔ حضرت آدم ؑ نے جب تنہائی سے گھبرایا ،تو ایک ساتھی کی تمناکی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو عورت کی شکل میں ایک ایسا ساتھی عطا کیا جو ان کیلئے ہر صورت میں ایک مکمل ساتھی ثابت ہوا۔ اس کے باوجود مرد نے کبھی عورت کی قدر نہیں کی اور اسے ہمیشہ اپنا غلام سمجھا ۔ اسلام نے عورتوں کو وہ رتبہ عطا کیا جو کسی اور مذہب نے نہیں کیا۔ اسکے باوجود مسلمانوں میں عورتوں کی نا قدری اور ان پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ مرد اس سے اپنی جائز و نا جائز بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسکے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ خد اکی بخشی ہوئی نعمت کی نا قدری ہی کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مرد عورت کی طاقت کو پہچانیں اور اس کو وہ مقام دیں جو اسلام نے انہیں عطا کیا ہے۔۔۔۔۔!!!

تحریر۔۔۔صوبیہ کامران۔۔بکرآبادچترال

Translate »
error: Content is protected !!