Chitral Times

16th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بھارتی خفیہ ایجنسی ہر سال شندور پولو فیسٹول کے موقع پر بے بنیاد شوشے چھوڑتی ہے

July 3, 2017 at 2:09 pm

چترال (ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ )روایتی شندور پولو میلہ خیبر پختونخوا ٹورزم ڈیپارٹمنٹ، چترال کی ضلعی حکومت اور فرنٹیر کور کے مشترکہ انتظام سے 21جولائی 2017کو منعقد ہورہا ہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے کارندوں کے ذریعے ہر سال شندور پولو فیسٹول کے موقع پر بے بنیاد شوشے چھوڑتی ہے اس سال گلگت کے بعض شر پسند عناصر نے علاقے کی نہایت معزز ہستی پیر کرم علی شاہ کی کبر سنی اور بیماری سے فائدہ اٹھا کر پیر صاحب کا نام استعمال کرکے ایک بار پھر بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا ہے اور پیر صاحب کے ساتھ گفتگو کا حوالہ دیکر شندور کو ڈیورنڈلائن دکھانے کی مذموم کوشش کی ہے ۔ پیر صاحب نہایت باخبر علمی، سماجی، مذہبی اور سیاسی شخصیت ہیں تاریخ سے بخوبی واقف ہیں۔ 7دفعہ اسمبلی کے ممبر رہے منتخب ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو اور گلگت بلتستان کے گورنر بھی رہے۔ انہوں نے کبھی شندور کی زمین، اسکی باونڈری اور اسمیں واقع جھیل یا پولو گراونڈ کو متنازعہ قرار نہیں دیا ۔ نہ کبھی میزبانی کا حق استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انہیں بخوبی علم ہے کہ ڈیورنڈلائن پاکستان اور افغانستان کی باونڈری کا نام ہے ۔ شندور کی باونڈری کا نام نہیں ۔ پیر صاحب اس بات سے بھی اگاہ ہیں کہ شندرو کی سرحد دو ریاستوں کے درمیاں 1914ء میںآخری بار طے ہوئی جب شجاع الملک چترال کے مہتر اور راجہ مراد خان گوپس کے گورنر تھے۔ اس سے پہلے مہتر چترال کی حکومت اشکومن ، غذر، یاسین اور پونیال تک تھی۔ گورنر بھی مہتر چترال اپنے بیٹوں ، بھائیوں یا خوش وقتے خاندان کے شہزادوں میں سے کسی کو مقرر کرتا تھا ۔ پیر صاحب کو یہ بھی علم ہے کہ 1885ء میں گلگت ریذیڈنسی بننے کے بعد انگریزوں نے ڈاک کا انتظام لنگر تک مہتر چترال کی عملداری میں مہتر چترال کے ذمے لگایا تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد بھی چند سالوں تک یہ سلسلہ جاری رہا ستمبر 1948ء میں آخری بار ڈاک بنگلہ سور لاسپور سے لنگر تک ڈاک لے جانے کے ریٹ مقرر ہوئے۔ پیرصاحب کو یہ بھی علم ہے کہ کیپٹن کاب 1927ء سے 1930ء تک چترال کا APAتھا ۔ شندور میں وہ چترال کی طرف سے پولو کھیلتا تھا۔ 1930ء کے بعد اس کی تبدیلی گلگت ہوئی تو وہ گلگت سے آنے لگا۔ 16جولائی1928کا خط ریکارڈ پر موجودہ ہے جس میں کپٹن کا ب APAچترال نے ہزہائی نس شجاع الملک مہتر چترال کو لکھا ہے کہ گلگت سے کیپٹن گورینج (Capt Gorringe)اور کیپٹن سٹیپل ٹن(Capt Stapleton)شندور کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ شندور کے مس جنالی کے کنارے واقع مہتر چترال کے بنگلے میں ان کو ٹھہرنے کی اجازت دی جائے۔اس قسم کے ہزاروں خطوط ہیں جو چترال خیبرپختونخوا کی واضح ملکیت کو ثابت کرتے ہیں۔ شر پسند عناصر نے پچھلے سال کورکمانڈر لفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمن کا نام استعمال کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان کے اس عظیم جرنیل نے اُن کی کوشش ناکام بنادی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی لابی اور RAWکے کارندوں کا نیٹ ورک علاقے میں بے چینی پھیلانے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتاہے ۔ پیر صاحب کی شخصیت ہمارے لئے بے حد قابل احترام ہے مجھے یقین ہے کہ ان کی گفتگو کو توڑ مروڑ کر غلط رنگ دیا گیا ہے ۔ذیل میں پیر صاحب ہی کے ریکارڈ سے دو تاریخی خطوط کی نقول منسلک کی جارہی ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!