Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فلڈ وارننگ اور محفوظ مستقبل کی تحریک….. محمد شریف شکیب

June 29, 2017 at 11:02 pm

محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں سوات، دیر اور چترال میں طوفانی بارشوں ، گلیشیر پھٹنے ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی پیش گوئی کردی ہے۔ پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے انتظامیہ کو الرٹ جاری کردیا ہے۔ اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کا کام شروع کرنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم طوفانی بارش سے قبل ہی چترال کے بالائی علاقہ یارخون میں گلیشیر پھٹنے سے اناوچ نالے میں طغیانی آئی ہے۔لینڈ سلائیڈنگ سے دریائے یارخون کا بہاو رک گیا ہے اور عطاآباد جھیل کی طرح کئی میل تک تالاب بن گیا ہے۔اشپین اور دوبارگار کا ایک کلو میٹر سے زیادہ کا علاقہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ جس سے مکانات، فصلیں اور باغات تباہ اور پندرہ ہزار کی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگئی ہے۔بند ٹوٹنے کی صورت میں کئی دیہات زیرآب آنے اور دریائے چترال میں طغیانی کا اندیشہ ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے چترال کے درجنوں گلیشیرز ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔جس سے ایون، ریشن، کجو، جنالکوچ، دنین، گرین لشٹ، بونی، کھوژ اور یارخون کے علاوہ موڑکہو اور تورکہو کے کئی دیہات میں تباہ کن سیلاب کا اندیشہ ہے۔ دنین اور گرین لشٹ میں دریا کنارے زمین کے کٹاو کی وجہ سے بالائی چترال کا زمینی راستہ منقطع ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ 2010اور پھر2015کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے چترال میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔کئی بجلی گھر، سڑکیں، پل، حفاظتی پشتے، سرکاری عمارات ، رہائشی مکانات، کھڑی فصلیں اور پھلوں کے باغات تباہ ہوگئے۔ وزیراعظم نواز شریف، تحریک انصاف کے قائد عمران خان، وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور دیگر اعلیٰ سول و فوجی افسران نے چترال کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، متاثرین کے زرعی قرضے معاف کرنے، ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے پروگرام شروع کرنے اور بے گھر ہونے والوں کی آباد کاری کے وعدے کئے۔ لیکن دو سال گذرنے کے باوجود ان اعلانات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ پورے چترال کو بجلی فراہم کرنے والا چار میگاواٹ کا ریشن پاور ہاوس اب تک بحالی کا منتظر ہے اور پورا ضلع دو سال سے تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔افسانوی شہرت کا حامل چترال کا خوبصورت ترین گاوں ایون اور ریشن تباہی کے دہانے پر ہیں۔گذشتہ سیلاب کی وجہ سے نالوں میں ڈھیروں ملبہ جمع ہوگیا ہے۔ اس سال مزید سیلاب آنے کی صورت میں ایون اور ریشن گاوں پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔آسمان پر بادلوں کے مرغولے نظر آتے ہی لوگ اپنا ضروری سامان سمیٹ کر اور اشیائے ضروریہ کی پوٹلیاں باندھ کر نقل مکانی کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے ارباب اختیار و اقتدار سے بار بار درخواستیں کیں، میڈیا نے ممکنہ خطرات کے حوالے سے کئی بار تفصیلی رپورٹیں شائع اور نشر کیں۔ مگر تمام آہ و زاریاں صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں۔ وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے گذشتہ سال فنڈز کی منظوری بھی دی تھی۔ لیکن امداد و بحالی کا کام سرکاری مشینری کی روایتی سستی، کاہلی، غفلت اور لاپرواہی کی نذر ہوگیا۔ اب تک نالوں کی صفائی ہوسکی۔اورنہ ہی حفاظتی پشتے تعمیر ہوسکے۔اہل چترال کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں سابق ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ کی صورت میں ایک مخلص انتظامی افسر ملا تھا حویلیاں فضائی حادثے میں ان کی شہادت کے بعد چترال انتظامی لحاظ
سے یتیم ہوگیاہے۔ منتخب عوامی نمائندے عوامی خدمت کے بجائے اپنی مدت پوری کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔وگرنہ دو سال تک ریشن پاور ہاوس بندرہنے اورپورا ضلع بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہونے کے بعد ان کا اسمبلیوں میں موجود رہنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ چترال کے چھوٹے سے دانشور طبقے نے ایک تحریک شروع کی ہے کہ پسماندہ علاقوں کے رائے دہندگان کو سیاسی پارٹیوں کا بائی کاٹ کرکے آزاد امیدواروں کو کامیاب کرنا چاہئے۔ آزادحیثیت سے کامیاب ہونے والے ارکان وفاقی اور صوبائی حکومت میں اپنے علاقے کی ترقی کی شرط پر شامل ہوں گے تو حکومتیں چترال جیسے پسماندہ علاقے پر توجہ دیں گی۔ کیونکہ ہم اپنے منتخب نمائندوں کو مزید اپوزیشن بنچوں پر بٹھانے اور پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو پنجاب اور سندھ کے وڈیروں کی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ علاقے سے غربت اور پسماندگی کا خاتمہ کرنا ہے تو تعلیم یافتہ آزاد امیدواروں کو انتخابات میں کامیاب کرنے کی تحریک کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا یہی مناسب راستہ ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!