Chitral Times

16th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔ اختر اعظم اختر۔۔۔۔محمد جاوید حیات

June 28, 2017 at 2:19 pm

زندگی ایک ناٹک ہے تماشہ ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔۔
ایک ناٹک ہے زندگی اپنی
آہ کی جائے واہ کی جائے
واقعی یہ آہ اور واہ کا ایک رنگیں ناٹک ہے ۔۔غمی ،خوشی ۔۔۔مسکراہٹ، آنسو۔۔ درد، سکوں ۔۔غم کے ماتم ، شہنائیاں ۔۔فتح، شکست ۔۔آگ ،خوں اور جنون۔۔وفا ،بے وفائی ۔۔ظلم ،انصاف۔۔ پرواہ، لا پرواہی۔۔پھر بہار خزان۔۔دن رات ۔۔۔جوانی بڑھاپا ۔۔پھر تندرستی بیماری۔۔۔یہ سب اس زندگی کے حصے ہیں ۔۔زندگی امتحان ہے دنیا امتحان گاہ ہے ۔۔ان میں کسی کو قرار نہیں ۔۔آیاز نے محمود کی انگھوٹی پہ لکھا ’’یہ وقت بھی گذر جائے گا ‘‘اس لئے ہمت بندھانے کی تلقین کی گئی ہے۔۔۔آج غم کل خوشی ۔۔ہے ۔۔یہی زندگی ۔۔سن لے پیارے ۔۔آدمی وہ جو ہمت نہ ہارے ۔۔۔اس امتحان گاہ میں لوگ عجیب و غریب امتحانات سے گذرے ہیں ۔۔وفا کا امتحان ۔۔۔صبر کا امتحان ۔۔محبت کا امتحان ۔۔جدائی کا امتحان ۔۔بے رخی نا قدری کا امتحان ۔۔دولت ثروت کا امتحان ۔۔عرض حسن و جوانی کا امتحان۔۔۔ان کے نتائج اکثر بھیانک رہے ہیں ۔۔ان امتحانوں سے گذرے ہوئے لوگ ۔۔یہ درد کے مارے لوگ ۔۔۔کوئی معمولی لوگ نہیں ہوتے زمانہ کبھی ان کو نہیں بھولتا ۔۔ان میں سے ایک ا ختر اعظم اختر ہیں ۔۔ان پر عجیب و غریب امتحانات گذرے ۔۔پہلے دولت و ثروت کا امتحان ۔۔متمول خاندان خوشخال گھرانہ ۔۔بے فکری کا بچن ۔۔پھر حسن وجوانی کا امتحان ۔۔کرشماتی شخصیت ۔۔قابل رشک جوانی ۔۔پھر عشق و محبت کا امتحان ۔۔ایک پری پیکر مہوش ۔۔جمال دلفروز ،خوبوں کی شہزادی پھر اس کا خواب ۔۔پھر خواب شرمندہ تعبیر ۔۔زندگی مسرتوں کا ایک خزانہ ۔۔پر گلشن انسانیت کے خوبصورت پھول ۔۔گھر آنگن چاند تاروں سے روشن ۔۔۔پھر صحت کی دولت سے محروم ۔۔جوانی دیوانی خواب ۔۔مستقل جسمانی معذوری ۔۔۔پھر خوابوں کی شہزادی کی بے وفائی ۔۔زندگی کی ساتھی کا اکیلا چھوڑنا ۔۔عورت زات کی وفا کی پیشانی پہ ایک مہاسا ۔۔وہ یادیں باتیں ۔۔ساتھ رہنے کی قسمیں سب کی موت ۔۔پھر درد تنہائی ۔۔آنسو پھر واہ کی جگہ آہ ۔۔اختر پر یہ سب کچھ گذرے ۔۔۔وہ بھی خوابوں کا شہزادہ تھا ۔۔اس کو دنیا کی بے وفائی کا کبھی خیال نہیں آیا ۔۔اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ روشن دن کالی رات میں بدل سکتا ہے ۔۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے طوفان کی خوفنا ک لہروں میں بدل سکتے ہیں ۔۔۔در دل پر ہلکی سی دستک حصار جان کھڑکاتی ہے ۔۔نرم شرین سی آواز للکار بن جاتی ہے ۔۔خوابوں کی شہزادی خود خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے ۔۔اس کو پتہ نہیں تھا کہ ایک جگہ بیٹھ کر بھی زندگی گذاری جاسکتی ہے ۔۔اس کو احساس نہیں تھا کہ ریشمی ذلفوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر زندگی گذارنے والا بے سائباں دھوپ کی تمازت میں پگھل جائے گا ۔۔اس کو خیا ل نہیں تھا کہ روشن دن ،خوبصورت صبحیں ،حسین شامیں چھین لی جائنگی ۔۔اس نے کبھی زندگی کا دوسرا بھیانک رخ نہیں دیکھا تھا۔۔ نہ اندازہ کیا تھا ۔۔ایسا ہی ہوا۔۔ اس کو ایک عظیم حادثہ پیش آیا ۔۔چلنے سے معذور ہوئے ۔۔دنیا ہی بدل گئی ۔۔زندگی کانٹوں کا سیج بن گئی ۔۔وقت پہاڑ بن گیا ۔۔جو دن پل میں گذرتے تھے وہ کاٹنے لگے ۔۔وقت کی رفتار بہت سست پڑگئی ۔۔۔اس نے زندگی کے ساتھی کے سامنے ایک مشکل ترین سوا ل رکھا ۔۔یہ سوال تاریخ میں کئی بار وفا کے پتلوں کے سامنے رکھا گیا ہے لیکن ٹھکرا یا گیا ہے ۔۔حضرت ایوبؑ نے پہلی بار اپنی وفا شعار بیوی کے سامنے رکھا ۔۔کہ معذور ہوگیا ہوں تمہیں قید نہیں کر سکتا ۔۔جیون ساتھی کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔وفا کے آنسو ۔۔کئی ہستیوں اپنی ساتھیوں کے سامنے رکھے ۔۔وہ تڑپ کر ہر قربانی کے لئے تیار ہو گئیں ۔۔وفا کی کیا کیا داستانیں سناؤں ۔۔یہ ایک مشکل سوال ہے اس کا دنیا کی تاریخ میں کبھی ’’ہاں ‘‘ میں جواب نہیں آیا۔۔لیکن اختر کے سوال کا جواب ’’ ہاں ‘‘ میں آیا دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی دفعہ کس وفا شعار نے بے وفائی کی ۔۔عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ۔۔عدالت نے ’’انصاف‘‘ کیا ۔۔خوابوں کی شہزادی اکیلا چھوڑ کر چلی گئی ۔۔وفا پر اختر کے دوچار آنسو گرے ۔۔اس نے پروین شاکر کی زبانی صرف اتنا کہا ۔۔
لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو ان کو راستہ دیکھاؤ
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا دئے
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
اب اختر کی داخلیت کی دنیا کا سفر شروع ہوگیا ہے ۔۔اس کی جذبا ت ایک تہ در تہ سمندر کی طرح امڈ پڑتے ہیں ۔۔وہ زندگی کی حقیقت سمجھ گیا ہے ۔۔اس نے اپنی داخلیت کی دنیا آباد کی ہے۔۔ اس نے تنہائیوں کو شکست دی ہے۔ اب اس کی خلوت پہ جلوتیں قربان ہو رہی ہیں ۔۔اس کی آواز دلوں کو لرزاتی ہے ۔۔لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔۔اس کی شاعری درد دل کا نغمہ بن گئی ہے ۔۔اب بے وفائی کی داستانیں شرماتی ہیں ۔۔وفا ان پہ ناز کرتی ہے ۔۔اس نے موت اور معذوری کو شکست دی ہے ۔۔اس نے آنسوؤں کو شکست دی ہے ۔۔وہ دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے ۔۔اس کو اپنے بچوں سے محبت ہے ۔۔اس کو اپنی شاعری سے محبت ہے ۔۔اس نے معذوری کو پیار سے گلے لگا لیا ہے ۔۔اب اس کی زندگی پھر سے ایک پھول بن گئی ہے ۔۔لوگوں کی آرزوں کا پھول ۔۔مست مست نغموں اور مدھر گیتوں کی البم ۔۔جو زندگی نہیں حسین پھولوں کی ایک البم کہلائے گی ۔۔جب تک وفا اور بے وفائی کے یہ دو دریا بہہ رہے ہیں اس کے نغمے ایک ابشار بن کر ان دریاؤں میں گرتے رہیں گے ۔۔۔اختر کی خوابوں کی شہزادی ایک ماں بھی تھیں پتہ نہیں ماؤں کی وفاؤں کو کیا ہو گیا ہے ۔۔مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ اخترکی محبت واپس لوٹے گی ۔۔جو شاید اختر تک نہ پہنچے مگر داستان عبرت بن کر وہاں پہ ڈھیر ہو جائے گی جہان سے اختر کی شہرت کی منزل شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔ان کا کلام ان کو شہرت کی بلندیوں کی طرف لے جارہا ہے ۔۔
تہ جستجو ہتے ژوت زمانہ ۔۔۔۔عجیب ساریران یادی گیاؤ ایگانا
ای آزمائشو ساری کم نو اوشوئی ۔۔۔۔تے وقتا دی تہ کیا ہش غم نو اوشوئی
تو ای معصوم اوشوو زدی دی اوشوو۔۔۔دروتے بوخت رے کی تو بوخت باؤتاو
تھے مہ شرین ژانو سار خوش باوتاؤ۔۔۔نو بوئی روخسین نوتان بوئی ہتے وقتو
نیسین افسوزار غیر کیاغ بہچیتائے۔۔۔۔۔۔۔اختر اعظم اختر

Translate »
error: Content is protected !!