Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پرانی انتخابی فہرستوں پر انتخابات کیوں؟….. محمد شریف شکیب

June 24, 2017 at 4:17 am

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا نے انکشاف کیا ہے کہ 2018کے عام انتخابات پرانی ووٹر لسٹوں اورحلقہ بندیوں کے تحت ہی کرائے جائیں گے۔کیونکہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام محکمہ شماریات نے مردم شماری کا عمل مئی2017میں مکمل ہونے کے باوجود مردم شماری کے نتائج مرتب کرنے کا کام اگلے سال اپریل تک موخر کردیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اگر عام انتخابات اگلے سال مئی یا جون میں کرائے جاتے ہیں تو مردم شماری کے نتائج کے اعلان کے ایک یا دو مہینوں کے اندر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیاں کرانا اور رائے دہندگان کی فہرستوں کی تیاری الیکشن کمیشن کے لئے ممکن نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا موقف اپنی جگہ بالکل بجا ہے۔ کہ ایک ڈیڑھ ماہ کے اندر پورے ملک کے لئے نئی انتخابی فہرستیں تیار کرنا اور حلقہ بندیاں کرنا عملا ممکن نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ شماریات مردم شماری کے نتائج مرتب کرنے میں دس مہینے کا وقت کیوں لیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ محکمہ شماریات کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ہدایت کے تحت مردم شماری کے نتائج مرتب کرنے میں دانستہ تاخیر کی جارہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے بھی حکومت کی غیر سنجیدگی کا شکوہ کیا ہے۔ملک میں ہر دس سال بعد مردم شماری کرانا اور اس کے نتائج کے مطابق انتخابی فہرستوں کی تیاری اور حلقہ بندیاں کرنا حکومت کی صوابدید نہیں بلکہ ایک آئینی تقاضا ہے۔ لیکن سیاسی حکومتیں دانستہ طور پر اس آئینی ذمہ داری کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتی رہی ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں اور رائے دہندگان کی تعداد میں اضافے سے برسراقتدار جماعت کے سیاسی مفادات پر اثر پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ حالیہ مردم شماری سپریم کورٹ کے حکم پر انیس سال کے وقفے کے بعدہوئے تھے۔ مردم شماری کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ملک کی آبادی انیس کروڑ پچاس لاکھ ہوگئی ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح دو اعشاریہ دس فیصد ہے۔ ہر ایک ہزار کی آبادی میں سالانہ 29بچے پیدا ہوتے ہیں اور سات افراد وفات پاتے ہیں۔ پاکستانیوں کی اوسط عمر 67سال ہے۔مرد آبادی کی تعداد نو کروڑ ننانوے لاکھ بانوے ہزار جبکہ خواتین کی تعداد نو کروڑ سڑسٹھ لاکھ چھیانوے ہزار سے زیادہ ہے۔پندرہ سال سے کم عمر افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا 35فیصد اور پندرہ سے 64سال کی عمر کے افراد کی مجموعی تعداد کل آبادی کا 60فیصد ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 64سال اور خواتین کی 67سال ہے۔ 58فیصد آبادی خواندہ افراد پر مشتمل ہے جو لکھ پڑھ اور بول سکتے ہیں جن میں اعلی تعلیم یافتہ افراد اور پرائمری یا مڈل پاس افراد بھی شامل ہیں۔ بالغ مردوں میں خواندگی کی شرح 71فیصد اور خواتین میں 45فیصد ہے۔ مجموعی طور پر خواندگی کی شرح54فیصد ہے۔ 45فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذار رہے ہیں۔ یہی وہ اعدادوشمار ہیں جن کی بنیاد پر ملک کا اقتصادی میزانیہ تیار کیا جاتا ہے۔انہی اعدادوشمار کو سامنے رکھ کر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں، ضلع، تحصیل ،ٹاون، نیبرہڈ اورویلج کونسلوں کی حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی تیاری میں زیادہ سے زیادہ دو سے مہینے لگتے ہیں۔ جبکہ انتخابات میں ابھی دس گیارہ مہینے باقی ہیں۔ اس کے باوجود پرانی انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات کرانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ قبائلی علاقوں کو قومی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لئے فاٹا اصلاحات کی منظوری بھی دی جاچکی ہے جس کے تحت قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ توقع تھی کہ
آئندہ عام انتخابات سے قبل قبائلی علاقوں کے عوام کو رائے دہی کا حق مل جائے گا تاکہ وہ اپنے نمائندوں کا خود چناو کرسکیں۔ لیکن وفاقی حکومت نے فاٹا اصلاحات کے عمل کو بھی سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔ جس سے حکومت کی بدنیتی اور غیر سنجیدگی عیاں ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی، ایم کیو ایم، پی ایم ایل کیو، پاک سرزمین پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں اور قبائلی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے تاخیری حربوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ اور پرانی انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں پر آئندہ عام انتخابات کے بائی کاٹ کا اعلان کریں۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری بھی اب عدلیہ ہی نبھائے گی۔ اور آئندہ عام انتخابات حالیہ مردم شماری کے نتائج کے تحت کرانے اور فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کے لئے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!