Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پارٹیوں کی تعداد اور جمہوری استحکام….. محمد شریف شکیب

June 24, 2017 at 10:20 pm

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ ان کے چار سالہ دور اقتدار میں بے شک مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، فرقہ واریت اور افراد زر کی صورت حال خراب ہوئی ہو۔ لیکن جمہوریت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ سیاسی مخالفین احتجاجی مظاہروں اور دھرنو ں کے باوجود حکومت کواپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا سکے۔ ملک میں جمہوری استحکام کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 343تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ چار سالوں میں 32نئی پارٹیاں ملک کی سیاسی جماعتوں کے بیڑے میں شامل ہوگئی ہیں۔ 2014میں سولہ، 2015،میں آٹھ اور 2016میں پانچ نئی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے۔ سیاسی پارٹیوں کی یہ شرح افزائش برقرار رہی تو 2018کے عام انتخابات تک سیاسی افق پر نمودار ہونے والے نئے ستاروں کی تعداد چالیس پچاس تک پہنچ سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 2013کے انتخابات میں رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کی تعداد 270تھی۔ ان میں سے 147سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ ہوئے تھے تاہم 111سیاسی پارٹیوں نے انتخابی دنگل میں شرکت کی تھی۔صرف اٹھارہ سیاسی جماعتوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں تک پہنچنے کا موقع مل سکا۔ 93پارٹیوں کا ایک امیدواربھی کامیاب نہ ہوسکا۔ توقع ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے گی۔رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ کے 25دھڑے بھی شامل ہیں۔ جن میں سے مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، فنکشنل مسلم لیگ ، عوامی مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ ہی انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہیں اور ان کی پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی موجود ہے۔ مسلم لیگ کے باقی دھڑے صرف الیکشن کمیشن کی فائلوں تک محدود ہیں۔پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ ن کے جتنے دھڑے بن گئے ہیں یہ تعداد بھی شاید دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ہمارے ہاں شادیاں کرنا، پارٹیاں بنانا اورسیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا اب فیشن بن چکا ہے۔ انتخابات کے دن قریب آنے کے ساتھ سیاسی پارٹیوں میں لوگوں کی شمولیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ روز انہ کسی نہ کسی جگہ شمولیتی تقریب برپاہوتی ہے۔ جس میں کچھ لوگ اپنے خاندان اور برادری سمیت ایک جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں شمولیت کا اعلان کرتی ہے اور پارٹی قیادت کی طرف سے انہیں ہار پہنائے جاتے ہیں۔ اور ان کی شمولیت کو پارٹی کے لئے نیک شکون قرار دیا جاتا ہے۔ شمولیتی تقریبات برپا کرنے میں ان دنوں پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، اے این پی اور قومی وطن پارٹی پیش پیش ہیں۔ جماعت اسلامی اور جے یوآئی میں شامل ہونے والوں کی بھی کمی نہیں۔ نئی پارٹی بنانے والوں کا موقف ہے کہ عوام موجودہ سیاسی پارٹیوں اور ان کی قیادت سے بیزار ہوچکے ہیں وہ کسی نئے، پرعزم اور عوام مسائل کا اد راک رکھنے والی جماعت کی منتظر ہے تاکہ وہ انہیں مسائل کے دلدل سے نکال کر ساحل مراد تک پہنچا سکے۔ لیکن ان نئی جماعتوں کو بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی موزوں امیدوار نہیں ملتے۔ سیاسی پارٹی بنانا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ لیکن اگر اس آئینی حق کو ہر شہری استعمال کرے تو لاکھوں پارٹیاں بن جائیں گی۔ اور ووٹ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔اب تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر جتنے انتخابات ہوئے ہیں۔ ان میں تیس سے چالیس فیصد ووٹ لینے والی پارٹیاں برسراقتدار آتی رہی ہیں۔ انتخابات میں ٹرن آوٹ 45فیصد سے زیادہ کبھی نہیں رہا۔ گویا 55فیصد
رائے دہندگان نے انتخابی عمل میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پول شدہ ووٹوں میں سے تیس فیصد ووٹ لینے والا جب اقتدار میں آتا ہے تو اسے مجموعی رائے دہندگان میں سے صرف بیس فیصد کی تائید و حمایت حاصل ہوتی ہے ۔ بیس فیصد ووٹ لینے والی پارٹی خود کو سو فیصد آبادی کی نمائندہ قرار دیتی ہے جبکہ 80فیصد کا اعتماد اسے حاصل ہی نہیں ہوتا۔ بے شک سوفیصد ووٹ کسی بھی جمہوری ملک میں پول نہیں ہوتے ۔ لیکن جن ممالک میں جمہوریت مستحکم ہے وہاں کم از کم 70سے 80فیصد لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں اور اقتدار میں آنے والی جماعت کو پول شدہ ووٹوں کا کم از کم پچاس فیصد ملتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور جمہوری استحکام کے دعووں پر اس وقت تک اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ جب تک حکومت اور سیاسی جماعتیں ساٹھ ستر فیصد رائے دہندگان کو پولنگ اسٹیشن لانے میں کامیاب نہیں ہوتیں۔ سیاسی استحکام پارٹیوں کی تعداد بڑھنے سے نہیں۔ جمہوری اور انتخابی عمل میں عوام کی شرکت سے ہی ممکن ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!